کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
مقالہ جات

اب بندہ درندگی کے خلاف منہ بند بھی رکھے تو کب تک؟

حق اور سچ بولنے پر ہی اٹھانا ہے گھروں سے تو ہمیں بھی اٹھا لیں لیکن اب ہم اتنے بھی بےٖغیرت اور بے حِس نہیں کہ ظلم ہو تو چپ رہیں۔کہاں ہیں وہ نام نہاد مسلمان جو کشمیر، برما، فلسطین، نیوزی لینڈ کے لوگو کے لیے میلوں دور تڑپتے اور احتجاج کرتے ہیں

شیعت نیوز: حق اور سچ بولنے پر ہی اٹھانا ہے گھروں سے تو ہمیں بھی اٹھا لیں لیکن اب ہم اتنے بھی بےٖغیرت اور بے حِس نہیں کہ ظلم ہو تو چپ رہیں۔کہاں ہیں وہ نام نہاد مسلمان جو کشمیر، برما، فلسطین، نیوزی لینڈ کے لوگوں کے لیے میلوں دور تڑپتے اور احتجاج کرتے ہیں لیکن اپنی ہی بغل میں ہونے والی ریاستی دہشت گردی پر انکو سانپ سونگھ جاتا ہے۔منافقت کی انتہا اس ملک میں ختم ہے۔

اگر آپ لوگوں کو، ڈراموں، رمضان کے شوز اور ڈرامے بازیوں سے فرصت ملی ہو، اور آپ نے کراچی میں ہونے والے شیعہ مسنگ پرسنز کے خاندان والوں کے تیرہ دن سے ہونے والے دھرنے کو دیکھا ہو، اور احساس کرنے کی کوشش کی ہو کہ وہ بھی مسلمان، روزہ رکھے، گرمی میں صدرِ مملکت کے گھر کے آگے بیٹھے ہیں، اور صرف ایک مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کے وہ جوان جن کو بغیر کی وجہ کے، بغیر کچھ بتائے سالوں اور مہینوں سے ایجنسیوں نے رات کی تاریکیوں میں گھروں سے اغوا کرلیا، اور نہ اتا پتا دیا، نہ بتایا کہ جرم کیا ہے، بس غائب کیا ہے، انکو رہا کیا جائے اور ان پر کسی بھی قسم کا شک یا یقین یا کیس ہے اسکو عدالت اور باقائدہ پروسس سے جیل میں رکھا جائے، لیکن یہ نا انصافی نہ کی جائے کہ محض شک کی بنا پر، سالوں سے ماؤں کے جوان غائب ہیں، اور کوئی بتانے والا نہیں کہ کہاں ہیں اور کیوں ہیں۔صرف اس لیے کہ وہ شیعہ ہیں، اور شک کے مطابق وہ شام میں جنگ لڑنے جارہے ہیں، اٹھانا کہاں کا انصاف ہے۔ اگر آپ کو شک یا یقین ہے تو آپ ثبوت کے ساتھ عدالتی کاروائی کریں نہ کر ایسے درندگی کرتے پھریں۔

کئی دن سے اس سارے معاملے پر میں خاموش تھی، لیکن ابھی ایک تصویر دیکھ کر جسم میں آگ لگ گئی اور وہ جو ایک نعرہ ہے "یہ جو دہشت گردی ہے، اسکے پیچھے وردی ہے” جسکی میں ہمیشہ سے مخالفت اور تردید کرتی آئی، آج احساس ہوا کہ ایسے ہی لوگوں کے منہ سے یہ نعرہ نہیں نکلتا جن پر ظلم ہوا ہو، اور ریاست اور وردی کی طرف سے ہوا ہو، ان کے منہ سے یہ نعرہ حق ہے، بنتا ہے۔لیجئے، یہ ہیں وہ جوان جن کو آج سے تین سال پہلے وردی والوں نے کسی شک کی وجہ سے آدھی رات کو، منہ پر نقاب ڈالے بندوں نے اغوا کیا۔ انکی زوجہ اس وقت حاملہ تھیں، کچھ دن پہلے یہ ایران عراق زیارات سے واپس آئے تھے، اور اسکے بعد اغوا ہوئے، اور اس وقت موجود دھرنے، اور احتجاج کی وجہ سے جن لوگوں کو آزاد کیا اداروں نے، ان میں سے ایک صاحب یہ بھی ہیں۔ تین سال پہلے اغوا
کرنے والے ایک جوان کو بوڑھا بنا کر بھیج دیا، شکل سے انسان دکھنے والے کو ایک جانور کا روپ دےدیا، پڑھا لکھا انسان دکھنے والے کو ایک دہشت گرد کا روپ بنا کر واپس بھیج دیا۔آج اس نے اپنے بیٹے کو زندگی میں پہلی بار دیکھا ہے۔ بیٹے نے باپ کو پہلی بار دیکھا، ماں نے جوان بھیجا تھا، بوڑھا پہلی بار دیکھا۔۔۔ یہ درندگی اور ریاستی دہشت گردی کی انتہا ہے۔ اگر ابھی بھی آپ کے اندر غیرت نہیں جاگتی، یا غیرت جاگنے کے لیے مظلوم کا فرقہ آپلے فرقے سے میچ کرنا چائیے تو عرض کیے دیتی ہوں کہ آپکا ضمیر مر گیا ہے، اور آپکو ایک منافق مسلمان ہونے پر شرم سے مرنا چایئے۔ رمضان مینگل جیسے دہشت گرد، سپہ صحابہ جیسی دہشت گرد تنظیمیں، کھلے عام دہشت گردی کرتئی اور دوسرے فرقے والوں کو کافر کہتی ہیں، لال مسجد میں بیٹھا برقع مولوی داعش کی کھلے عام بیعت کرتا ہے، تب تو ایجنسیوں کے ہاتھ نہیں کھلتے، ان دہشت گردوں کو تو پال پوس کے خود موٹا کیا ہوا ہے، گود میں بٹھایا ہے، لیکن ایک خاص فرقے کے لوگوں کو فقت شک کی بنا پر گھروں سے اٹھا کر سالوں غائب رکھ کے چھوڑنا کہاں کا انصاف ہے۔

کچھ اہم نکات:اگر اس جوان نے واقعی شام میں جا کر کچھ کیا، یا بھیجا لوگوں کو تو تین سالوں میں جو اسکا حال کیا ہے، اس نے سچ تو اگل ہی دیا ہوگا، اگر یہ واقعی ہی قصور وار ہے تو کیوں چھوڑا؟ اگر بے گناہ ہے تو کس منہ سے چھوڑا اور یہ حال بنا کے؟صرف منٹ کیلئے سوچیں، اس بیوی، بہنوں اور ماں پر کیا گزری ہوگی۔ آپکا باپ بھائی شوہر جو جوان جائے اور تین سال میں ایسا ہوکے آئے آپ کیا کریں گے؟ تو پھر جو لوگ کہتے ہیں کہ یہ ریاستی دہشت گردی ہے، اور وردی ہے، پھر انکے دل سے تو درد نکلتا ہے، انکا بولنا بنتاہے۔ کم سے کم آج میں ان لوگوں کو غلط نہیں کہوں گی جو یہ نعرے لگاتے ہیںاور جس دن میرے باپ، بھائے یا شوہر کو اٹھا کے لے جایا گیا، میں کھلے عام یہ نعرہ لگاوٗں گی۔اگر یہ ہی حال چلتا رہا ملک میں، تو جتنی فرقہ واریت پہلے سے ہی ریاست کی پالی ہوئی ہے اس میں اضافہ ہوگا، پھر ہمیں بھی منظور پشتین اور اسکے لوگوں کی طرح غدار کہتے پھرنا کیوں کہ ہم بھی حق کیلئے نکلیں گے۔ آخر میں اس ملک میں نا شیعہ رہیں گے، نا کرسچن، نا احمدی، نا ہزارا والے، نہ پشتون، بس مسلمانوں کا ایک خاص شدت پسند فرقہ دنددناتا پھرے گا، جو کہ کچھ نا کرنے کو ملنے پر اپنے ہی لوگو ںپر کفر کے فتوے لگا کر انکو بھی
ختم کردے گا۔خیر چھوڑیں، کیا فرق پڑتا ہے آپکو یہ پاکستان ہے کونسا کشمیر ہے، یا فلسطین۔۔۔ آپ دیکھیں بیٹھ کے بے حسی سے "سنو چندہ” کی اگلی قسط!

والسلام،سیدہ ایمن!

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close