اہم ترین خبریںپاکستان

حکومت روایتی بیلنس پالیسی کی بجائے شدت پسندوں کیخلاف عملی اقدامات کرے، علامہ اسدی

انہوں نے کہا کہ شرپسندانہ نظریات کی تشہیر مذہبی منافرت کے فروغ کا باعث بن رہی ہے۔ مسلمانوں کی تکفیر اور بنیادی عقائد پر حملے کرنیوالوں کیخلاف بھی سخت کارروائی کی جانی چاہیئے۔

شیعیت نیوز: پاکستان کسی مسلک کی جاگیر نہیں، اسے شدت پسندوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننے دیں گے۔ فرقہ واریت قومی سلامتی اور ملک کے امن کیلئے تباہی کا باعث ہے، اس کی کسی بھی صورت تائید نہیں کی جا سکتی ، ان خیالات کا اظہارمجلس وحدت مسلمین پنجاب کے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ عبدالخالق اسدی نے لاہور میں عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت کی آڑ میں ملت تشیع کو نشانہ بنانے پر ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ شیعہ سنی مکاتب فکر کے عقائد میں اختلاف آج کے نہیں ہیں، چودہ سو سالوں سے ہیں، جو عناصر ان اختلافات کو ہوا دے کر تصادم میں بدلنا چاہتے ہیں، ان کی ڈوری کہیں اور سے ہل رہی ہے، ہماری تمام حالات پر گہری نظر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایٹمی معاہدے کے اراکین امریکہ کو اس معاہدے کا شراکت دار نہیں سمجھتے ہیں۔ عباس عراقچی

علامہ اسدی  نے کہا سوشل میڈیا پر ملت تشیع، عزاداری اور علماء و ذاکرین کیخلاف مسلسل اشتعال انگیز پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، ملک میں انارکی کا اصل سبب یہ تکفیری گروپ ہے، جو فرضی ناموں سے مسلمانوں کے درمیان نفرت کے بیج بو رہا ہے، ایسے لوگوں پر جب تک آہنی ہاتھ نہیں ڈالا جاتا، تب تک یہ جلتی پر تیل کا کام جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ شرپسندانہ نظریات کی تشہیر مذہبی منافرت کے فروغ کا باعث بن رہی ہے۔ مسلمانوں کی تکفیر اور بنیادی عقائد پر حملے کرنیوالوں کیخلاف بھی سخت کارروائی کی جانی چاہیئے۔

علامہ عبدالخالق اسدی کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بغیر کسی جرم کے ذاکرین کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہیں، ریاست کے یک طرفہ اقدامات ملت جعفریہ کی تشویش میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے، حکومت روایتی بیلنس پالیسی پر عمل کرنے کی بجائے شدت پسندوں کیخلاف عملی اقدامات کرے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close