اہم ترین خبریںشیعت نیوز اسپیشلمقالہ جات

یوم عاشورا دس محرم اجر رسالت کی ادائیگی کا دن

یوم عاشورا دس محرم اجر رسالت کی ادائیگی کا دن

یوم عاشورا دس محرم اجر رسالت کی ادائیگی کا دنہے۔ بنو امیہ کی یزیدی حکومت کی افواج نے امام حسین علیہ السلام اور انکے بھائیوں، بیٹوں، بھتیجوں، بھانجوں اوراصحاب کو عراق کے صحرائے کربلا میں دس محرم سال 61ہجری قمری میں شہید کردیا تھا اور انکے لاشوں پر گھوڑے دوڑائے اورانکے سر کاٹ کر بلند کرکے شہر شہر گھمایا پھرایا۔ بنو امیہ کی یزیدی حکومت کی افواج نے حضرت محمد خاتم الانبیاء ﷺ کے اہل بیت نبوۃ کے افراد اور اصحاب کے پسماندگان پر بھی بدترین ظلم و تشدد کیا۔ انکے خیمے جلائے، باندھ کر شہر شہر پھرایا، کوفہ کے گورنر عبیداللہ ابن زیاد کے دربار اور یزید ابن معاویہ کے دربار دمشق میں بھی قیدیوں کو پیش کیا۔

امام حسین ع کی شہادت کی پیشگی اطلاع

یہ ایک ایسا سانحہ تھا کہ جس کی اطلاع عالمین کے رب اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی رحمت للعالمین حضرت محمد مصطفی(ﷺ)کو پہلے ہی کردی تھی۔ اور خاندان اہل بیت نبوۃ اور ام المومنین بی بی ام سلمہ نے بھی اس ضمن میں روایات نقل کیں۔ اس ضمن میں شیخ عبدالقادر جیلانی جنہیں پاکستان میں غوث پاک یا غوث الاعظم کے لقب سے سنی حنفی (بریلوی) یاد کرتے ہیں، انہوں نے اپنی تصنیف غنیۃ الطالبین میں باب فضائل عاشورا کے تحت ام المومنین بی بی ام سلمہ ؓسے روایت کی ہے۔

ام المومنین بی بی ام سلمہ

اس روایت کو اختصار کے ساتھ لکھتے ہیں کہ ام المومنین بی بی ام سلمہ ؓ نے امام حسین علیہ السلام نبی کریم (ﷺ) کی گود پر کھیل رہے تھے اور خاتم الانبیاء ﷺ کا ہاتھ میں تھوڑی سی مٹی تھی اور وہ رورہے تھے۔ بی بی ام سلمہ ؓ نے امام حسین ع کے جانے کے بعداس ضمن میں رسول اکرم ص سے سوال کیا تو خاتم الانبیاء (ﷺ) نے فرمایا کہ وہ مٹی حضرت جبرئیل امین نے انہیں دے کر بتایا کہ اس پر حسین (ع) قتل کیا جائے گا، اس لیے میں رویاہوں۔

سنت رسول اکرم ص کیا ہے، رونا یا خوشی منانا؟۔

امام حسین علیہ السلام کی شہادت ہونے سے تقریباً نصف صدی قبل جب کائنات کے خالق کے محبوب رسول حضرت محمد(ﷺ) اس خبر کو سن کرروئے تو سنت رسول اکرم ص کیا ہے، رونا یا خوشی منانا؟۔ یہ سوال ہم اپنے ان سنی بھائیوں سے پوچھتے ہیں جو دس محرم کوامام حسین علیہ السلام کی شہادت کے واقعات سن کر بھی نہیں روتے، بلکہ بعض تو جشن بھی مناتے ہیں اور بعض پکنک مناتے ہیں۔

امام حسین ع اور دیگر شہدائے کربلا کی یاد میں رونے والے

لیکن اس کائنات میں بنی نوع انسان کا ایک نظریاتی قبیلہ ایسا ہے جو دس محرم یوم عاشورا کو امام حسین ع کے قتل کی برسی والے دن ہر سال روتے ہیں۔ توحید، عدل، نبوت، امامت و قیامت پر ایمان رکھنے والا یہ وہ قبیلہ ہے جو امام حسین علیہ السلام کا غم مناتا ہے اور امام حسین ع کی قاتل حکومت اس حکومت کو مسلمانوں پر مسلط کرنے والوں کی کھل کر مذمت کرتے ہیں۔

عزاداری کا میزبان اللہ، اللہ کے رسول اور اہل بیت نبوۃ  (ﷺ)

جی ہاں، بنیادی طور پر یوم عاشوراپر امام حسین ع اور دیگر شہدائے کربلا کی یاد میں رونے والے شیعہ اسلام ہی کے پیروکار ہیں۔ گوکہ معنوی لحاظ سے اس عزاداری کا میزبان اللہ، اللہ کے رسول اور اہل بیت نبوۃ ہیں لیکن بندگان خدا میں جو عزاداری کے میزبان ہوتے ہیں، وہ شیعہ مومن مسلمان ہی ہیں۔

عزادار کے ڈی این اے میں محمد (ﷺ) و آل ؑ محمد اہل بیت نبوۃ(ﷺ) کی مودت

اور شیعہ مومن مسلمان عزادار کے ڈی این اے میں محمد (ﷺ) و آل ؑ محمد اہل بیت نبوۃ(ﷺ) کی مودت ہوتی ہے جو اجر رسالت کی ادائیگی پر ہمہ وقت آمادہ وترو تازہ رکھتی ہے۔ اور انکی دیکھا دیکھی بعض سنی، ہندو اور مسیحی بھی یوم عاشورا پر غم مناتے ہیں۔ یوں یہ طبقہ مسلک حسینیت کے تحت غم حسین ؑ منانے ایک ہی صف میں ہوتے ہیں۔

ابد واللہ یا زھرا ما ننسیٰ حسینا

شیعہ مسلمان ایسا اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ایک عہد کے پابند ہیں۔ ابد واللہ یا زھرا ما ننسیٰ حسینا ؑ، واللہ۔ اے بنت رسول اللہ (ﷺ)، اے بی بی فاطمہ زہرا ؑ، اللہ کی قسم کہ ہم تا ابد (حضرت امام) حسین ؑ کو نہیں بھولیں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہ وہ عہد ہے جس پر خاتون جنت کے روحانی بیٹوں اور بیٹیوں نے آج تک عمل کیا ہے۔

سانحہ کربلا کے بعد خاندان اہل بیت نبوۃ کو قیدی بناکر سرعام توہین و تماشہ کیا جاتا رہا۔
کل یوم عاشورا کل ارض کربلا

شیعہ اسلام بعد از ختم نبوت آئمہ ازاہل بیت نبوۃ کی قیادت و رہبری و رہنمائی کی وجہ سے کل یوم عاشورا کل ارض کربلا کے نعرے کے ساتھ نوحہ کناں ہے۔ اور آل ؑمحمد (ص)اہل بیت نبوۃ(ﷺ) کی شان اقدس پر شیعہ اسلام کسی سے بھی کوئی بھی سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہیں۔ یہ شیعہ اسلام کی ریڈ لائن ہے۔

قل لااسئلکم علیہ اجراً الالمودۃ فی القربیٰ

اس کی وجہ یہ ہے کہ سورہ شوریٰ اور خاص طور پر اس نورانی قرآنی سورہ کی آیت بیس، اکیس اور بائیس کے بعد 23ویں آیت مسلمانوں کو آج تک یاد دلانے کے لیے موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ سے کہا کہ ان سے یعنی جو لوگ ایمان لائے (یعنی مومن) اور جنہوں نے عمل صالح انجام دیے یعنی نیک کام کیے، ان سے کہہ دو یعنی قل لااسئلکم علیہ اجراً الالمودۃ فی القربیٰ (الا پر تشدید ہے)۔

یوم عاشورا دس محرم اجر رسالت کی ادائیگی کا دن

سنی کتب تاریخ و تفاسیر میں واضح لکھا ہے کہ اس آیت میں قربیٰ یعنی قرابت دار سے مراد امیر المومنین علی ؑ ابن ابی طالب ؑ، بی بی فاطمہ زہراؑ اور انکے بیٹے (امام) حسن ؑ اور (امام) حسین ؑ ہیں۔ اور یہ حدیث رسول اکرم ص نے صحابہ کے سوال کرنے پر بیان فرمائی کہ سورہ شوریٰ کی آیت 23میں قل لا اسئلکم علیہ اجراً الالمودۃ فی القربیٰ میں جس قربیٰ کی مودت (یعنی انکی پیروی کرنے والی باعمل محبت) کو اجر رسالت قرار دیا گیا، ان سے مراد جناب سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، مولا امیر المومنین علی ابن ابی طالب اور امام حسن و امام حسین علیہم السلام ہیں۔ (حوالہ: در منثور، احیاء المیت بفضائل اہل البیت للسیوطی، زرقانی علی المواھب اور صواعق محرقہ)۔

سورہ احزاب
اللھم صل علیٰ محمد و علیٰ آ ل محمد

ٍسورہ احزاب مکمل پڑھیں اور خاص طور پر اسکی آیت نمبر 56 ان اللہ و ملائکتہ یصلون علی النبی، یا ایھا الذین آمنو، صلو علیہ وسلمو تسلیما ً پر غور فرمائیں۔ سنی صحاح ستہ میں شامل احادیث کی کتاب صحیح مسلم میں اور مشکوٰۃ شریف میں لکھا ہے کہ حضرت کعب بن عجرہ فرماتے ہیں کہ ہم (صحابہ) نے عرض کیا یا رسول اللہ (ﷺ) ہم آپ پر درود کس طرح بھیجیں تو (رسول اکرم ص نے) فرمایا کہ تم کہو: اللھم صل علیٰ محمد و علیٰ آ ل محمد کما صلیت علیٰ ابراھیم و علیٰ آل ابراھیم، انک حمید مجید۔ یعنی محمد و آل محمد پر اس طرح صلوات پڑھیں جیسا عربی متن لکھا ہے۔

اسی سورہ احزاب کی ایک آیت کو آیت تطہیر کہا جاتا ہے جس سے ثابت ہے کہ اللہ نے اہل بیت ؑنبوۃ(ﷺ) کو عصمت و طھارت عطا کی ہے۔ اور اہل بیت نبوۃ و آل ؑمحمد(ﷺ) کی صداقت کبریٰ کو اللہ نے قرآن کی سورہ کی61ویں آیت یعنی آیہ مباہلہ میں خود بیان کرکے کاذبین (جھوٹوں) پر لعنت کا حکم دیا۔

اہل بیت نبوۃ (ﷺ) سفینہ نوح

اہل بیت نبوۃ (ﷺ)کو خاتم الانبیاء (ﷺ)نے سفینہ نوح کی مثال قرار دیا اور سنی کتب (حاکم نیشاپوری، طبرانی) میں بھی یہ حدیث نقل ہوئی۔ مکمل حدیث کو بزرگ صحابی  حضرت ابوذرؓ نے خانہ کعبہ میں یوں بیان کیا

:

ترجمہ: اے لوگو جو مجھے پہچانتا ہے وہ پہچانتا ہے اور جو نہیں پہچانتا (وہ پہچان لے کہ)میں ابوذرہوں۔ میں نے رسول خدا (ﷺ) سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: تمہارے درمیان میرے اہل بیت کی مثال ویسی ہے جیسے نوح کی قوم کے درمیان کشتی نوح کی تھی، جو بھی اس پر سوار ہوگا نجات پاجائیگااور جو اس سے روگردانی کرے گاوہ غرق ہوجائیگا۔ طبرانی روایت میں تو اسی حدیث کا یہ جملہ بھی ہے کہ اہل بیت ؑ کی مثال مثل باب حطہ فی بنی اسرائیل کی بھی ہے۔

 اہل ؑ بیت النبوۃ (ﷺ) پر درود نہ پڑھے تو نماز قبول نہیں

سنی کتب میں خاتم الانبیاء حضرت محمد (ﷺ) کی واضح حدیث ہے (ترجمہ) ”جو نماز پڑھے اور ا س میں مجھ (یعنی حضرت محمد خاتم النبیین ص) پر اور میرے اہل بیت (یعنی اہل ؑ بیت النبوۃ) (ﷺ) پر درود نہ پڑھے تو اسکی نماز قبول نہ ہوگی۔ جب نماز ہی قبول نہیں ہوگی تو پھر باقی کیا قبول ہوگا؟۔ اہل بیت نبوۃ کو بعد از ختم نبوت اپنا دینی پیشوا، قائد و رہنما و رہبر مان کر انکو مرکزی حیثیت کے ساتھ ماننے والوں کو ہی شیعہ اثناعشری بارہ امامی شیعہ کہا جاتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اہل بیت نبوۃ (ﷺ)
کو مرکزی حیثیت اور دینی پیشوا نہ ماننے والوں نے شیعہ مومن مسلمانوں عزاداروں کے خلاف ہمیشہ فتنہ و فساد پھیلایا ہے۔

اہل بیت ؑ نبوۃ (ﷺ)سے تجدید عہد وفا کا دن

دس محرم یوم عاشورا کو اہل بیت ؑ نبوۃ (ﷺ)سے تجدید عہد وفا کرنے کا دن ہے۔ یوم عاشورا دس محرم یزیدیت اور اسکو امت اسلامی اور بنی نوع انسان پر مسلط کرنے والوں کے خلاف حسینیت کی للکار کا دن ہے۔ اہل سنت کتب میں صحیح روایات کے تحت یہ لکھا گیا کہ ام المومنین بی بی ام سلمہ ؓ کی رحلت سانحہ کربلا کے بعد ہوئی۔ بعض کے مطابق واقعہ حرہ یعنی مدینہ منورہ پر یزید ابن معاویہ کی حکومت کی لشکر کشی کے وقت ہوئی۔

ام المومنین بی بی ام سلمہؓ بھی یوم عاشوراپر روئیں

ام المومنین بی بی ام سلمہؓ بھی یوم عاشورا دس محرم سال 61ھجری کو روئیں تھیں۔ ایک انصاریہ صحابیہ نے انہیں روتے دیکھ کر وجہ پوچھی تو بی بی ام سلمہ نے فرمایا: میں نے ابھی رسول خدا ﷺ کو خواب میں دیکھا ہے کہ آپ کے سر مبارک اور داڑھی شریف پر خاک پڑی ہوئی ہے اور آپ ص رورہے ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ یارسول اللہ (ﷺ) آپکو کیا ہوا۔ رسول اکرم ص نے فرمایا میں حسین ؑ کے (مقام)قتل پر گیا تھا، جو واقع ہوچکا ہے۔

ستر ہزار فرشتےحسین ؑ بن علی ؑکی قبر پر قیامت تک روئیں گے

شیخ عبدالقادر جیلانی نے غنیۃ الطالبین ہی میں حضرت امام جعفر صادقؑ بن امام محمد باقرؑ سے منسوب روایت نقل کی ہے کہ جس دن حضرت حسین ؑ بن علی ؑ شہید ہوئے، اس دن ستر ہزار فرشتے انکی قبر پر اترے، وہ قیامت تک ان پر روئیں گے۔ یادرہے کہ سنی ایمانیات میں اللہ، رسول، الٰہی کتب کے ساتھ ملائکہ پر ایمان لانا بھی واجب ہے۔ یہ سنی مسلک کے ایمان مفصل میں ہر سنی کہتا ہے۔ اللہ نے اپنی کتاب قرآن میں حضرت یوسف کی(عارضی) جدائی پر غم و حزن کا تذکرہ کیا۔

پورا سال غم کا سال عام الحزن

اس کے علاوہ اللہ کے رسول اکرم ص نے حضرت ابو طالبؑ اور ام المومنین بی بی خدیجۃ الکبریٰ کی رحلت پر پورے سال کو غم کا سال عام الحزن قرار دیا۔ حضرت حمزہ کی شہادت پر عزاداری کی تاکید کی۔ امام حسین ؑ کے بچپن کے ایام ہی میں حضرت محمد ﷺ شہادت کی پیشگی اطلاع پرروئے، یوم عاشورا دس محرم 61ھجری کو بھی روئے۔ ام المومنین بھی روئیں۔

یوم عاشورا دس محرم اجر رسالت کی ادائیگی کا دن

اب ہر وہ شخص جو خود خود مسلمان کہتا ہے یا سمجھتا ہے، وہ فیصلہ کرلے کہ دس محرم یوم عاشورا سانحہ کربلا کے دن امام حسین علیہ السلام اور دیگر شہدائے کربلا کی یاد میں رونا ہے یا نہیں۔ سنت رسول اکرم ص تو سنی محدثین و مورخین و علماء نے خود بیان کردیں۔ لیکن اس سنت رسول اکرم ص کو کس نے زندہ کررکھا ہے، یہ خود ہی دیکھ کر فیصلہ کرلیں۔

محمدابوذرمہدی برائے شیعیت نیوز اسپیشل
اھل بیت نبوۃؑ کی صداقت کبریٰ پر گواہ آیہ مباھلہ
شہدائے کربلا کا عزاداربر صغیر پاکستان و ہندستان
حضرت عثمان کے یوم شہادت پر جلوس نکالنے کی روایت

 

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close