ایران

ایٹمی توانائی ایجنسی سعودی عرب کے خفیہ جوہری پروگرام کو شفاف بنائے، ایران

شیعت نیوز : ایران نے ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے خفیہ جوہری پروگرام کو شفاف بنائے اور اور آئی اے ای اے کے رکن ممالک کو اس بارے میں رپورٹ پیش کرے۔

رپورٹ کے مطابق ویانا میں ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی میں ایران کے مستقل مندوب کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ سعودی عرب اپنے غیر شفاف جوہری پروگرام پر عمل کرتے ہوئے اسے فروغ دے رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایسی حالت میں کہ سعودی عرب ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی کا رکن ہے اور آئی اے ای اے کے ساتھ دو طرفہ سیف گارڈ کا اس کا سمجھوتہ بھی ہے، پھر بھی اس نے اب تک معائنے کا عمل قبول نہیں کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خلیج فارس تعاون کونسل اپنی نا اہلی کے عروج پر ہے۔ ترجمان وزارت خارجہ

کاظم غریب آبادی نے کہا کہ سعودی عرب نے ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کی برسوں سے کئے جارہے درخواست و مطالبے کو نظر انداز کرتے ہوئے، اپنے طرزعمل کی اس طرح سے اصلاح نہیں کی ہے کہ ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی سعودی عرب کے ایٹمی مراکز کا معائنہ کر سکے۔

ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی میں ایران کے مستقل مندوب کاظم غریب آبادی نے کہا کہ سعودی عرب کا کوئی ایسا فعال تحقیقاتی ری ایکٹر نہیں ہے کہ جس کے لئے وہ یلو کیک بنانے کی کوشش کرے۔

انھوں نے کہا کہ اس مسئلے نے جوہری شعبے میں سعودی عرب کے خفیہ اقدامات اور ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو معائنے کی اجازت نہ دیئے جانے کی بنا پر نیز علاقے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی اس کی سرگرمیوں کے پیش نظر سعودی عرب کے خفیہ ایٹمی پروگرام سے متعلق تشویش بڑھائی ہے۔ان حالات میں سعودی عرب کے ایٹمی پروگرام پر آئی اے ای اے کی عدم نگرانی علاقے کی سلامتی کے لئے خطرناک ہوسکتی ہے۔

خاص طور سے ایسی صورت میں کہ سعودی ولی عہد بن سلمان نے مارچ دو ہزار اٹھارہ میں سی بی ایس ٹی وی چینل سے گفتگو میں این پی ٹی کے دائرے میں ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کے ساتھ ریاض کے تعاون کو مشروط قرار دیا تھا۔

دوسری جانب غاصب صیہونی حکومت نے بھی امریکی حمایت سے اپنے ایٹمی پروگرام کو ترقی دی ہے جہاں وسیع پیمانے پر جوہری ہتھیار تیار کئے جا رہے ہیں جبکہ ان سرگرمیوں پر آئی اے ای اے کی کوئی نگرانی بھی نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی میں ایران کے مستقل مندوب کاظم غریب آبادی نے آئی اے ای اے سے مطالبہ کیا ہے کہ سعودی عرب کی خفیہ جوہری سرگرمیوں کے بارے میں ادارے کے رکن ملکوں کو رپورٹ پیش کرے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی اس قسم کی دوہرے معیار کی نگرانی سے ، جو پرامن ایٹمی پروگرام کو شک و شبہے سے دوچار بناتی ہے ، دوری اختیار کرے تاکہ آئی اے ای اے کے نگرانی کے کردار کے غیر معتبر ہونے کو جو اس ایجنسی کے فرائض اور ذمہ داری کے تناظر میں ایک اہم اصول بھی ہے، روکا جا سکے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close