دنیا

خلیج میں تیل بردار جہازوں پر حملوں کے پس پردہ امریکی و صیہونی سازش بے نقاب

شیعت نیوز : خلیج میں تیل بردار جہازوں پر حملوں کی امریکی و صیہونی سازش بے نقاب ہوگئی۔

تیل بردار جہازوں پر حملوں کا بہانہ بنا کر امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں مزید ایک ہزار فوجیوں کی تعیناتی کا اعلان کردیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکا نے خلیج فارس میں تیل بردار جہازوں پر حملے کے تناظر میں مشرق وسطیٰ میں مزید ایک ہزار فوجیوں کی تعیناتی کا اعلان کردیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوارن تیل بردار جہازوں پر دو بار حملہ کیے گئے تھے اور ان میں اسرائیل کے ملوث ہونے کا انکشاف بھی ہوا تھا۔

ان حملوں کا مقصد عرب ممالک اور امریکہ کے ایران سے تنازع کو ہوا دینا اور انہیں ایران پر حملے کیلیے آمادہ کرنا تھا لیکن امریکہ ، اسرائیل اور انکے اتحادی عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب ، امارات و بحرین میں یہ جرات نہیں ہے کہ وہ ناقابل تسخیر ایران پہ حملہ کرسکیں اور اسی سبب وہ صرف گیدڑ بھپکیوں کا سہارا لے رہے ہیں اور دوسری طرف امریکہ مسلمانوں کہ پیسے سے ان غاصب بادشاہوں کو تحفظ کہ نام پہ لوٹ رہا ہے۔

اس سے قبل عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ میں دو تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تھاجس پر عرب امارات کی سربراہی میں ہونے والی تحقیقات میں (اسرائیلی) ریاستی عناصر کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے ہیں۔

اس کے بعد 13 جون کو خلیج عمان میں تیل بردار دو جہازوں پرحملہ کیا گیا تھا تاہم جہازوں کے عملے کو ایرانی ریسکیو اہلکاروں نے باحفاظت نکال لیا تھا۔

یاد رہے کہ ان دونوں حملوں کے فوراً بعد امریکی و صیہونی میڈیا نے بغیر کسی تحقیقات کے ان حملوں کا الزام ایران پر عائد کرنا شروع کردیا تھااور اب اسرائیل کی خواہش کے مطابق امریکہ نے مشرق وسطی میںمزید 1000 فوجی تعینات کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ کسی صورت بھی ایسا ماحول پیدا کردیا جائے کہ امریکہ ایران پر حملہ کردے لیکن امریکی جنگی ماہرین اس بات سے بخوبی باخبر ہیں کہ اگر جنگ شروع ہوتی ہے تو اس کا نتیجہ یقینی طور پر امریکہ کی مکمل تباہی کی صورت میں نکلے گا۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close