اہم ترین خبریںپاکستان

ولایت پاکستان: داعش نے پاکستان کو صوبہ قرار دیدیا، سیکورٹی ادارے ہائی الرٹ

بلوچستان صوبہ کے انسدادِ دہشت گردی کے شعبہ (سی ٹی ڈی) کے ڈپٹی انسپکٹر اعتزاز احمد گورایا نے تسیلم کیا کہ "داعش کی سہولت کاروں کی ہماری زمین پر موجودگی ممکن ہے"۔

شیعیت نیوز: "دولتِ اسلامیہ” (داعش) اس سال کے آغازمیں مشرقِ وسطی میں اپنی علاقائی شکست کے بعد، بظاہر اپنی توجہ کو پاکستان اور انڈیا کی طرف مرکوز کر رہی ہے۔

داعش نے حال ہی میں اپنے پروپیگنڈا سیل امق کے ذریعے اس وقت "پاکستانی صوبے” کی تخلیق کا اعلان کیا ہے، یہ اعلان دہشتگرد تنظیم نے 12 مئی کو مستونگ ڈسٹرکٹ، صوبہ بلوچستان میں ایک ٹریفک پولیس افسر کو شہید کرنے کے بعد کیا۔

اطلاعات کے مطابق مشرقِ وسطی میں اپنی علاقائی شکست کے بعد، داعش بظاہر اپنی توجہ کو پاکستان ، افغانستان اور انڈیا کی طرف مرکوز کر رہی ہے۔

دہشت گرد گروہ نے یہ دعوی بھی کیا کہ اس نے 20 مئی کو کراچی میں پولیس پر بھی ایک حملہ کیا۔

دریں اثناء 10 مئی کو داعش نے دعوی کیا کہ اس صوبہ ہند کی شاخ نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہندوستانی افواج پر حملہ کیا۔

داعش نےان دو نئے صوبوں کا اعلان کیا ہے کہ جبکہ پہلے یہ داعش کے خرسان صوبے کا حصہ تھے۔

بلوچستان صوبہ کے انسدادِ دہشت گردی کے شعبہ (سی ٹی ڈی) کے ڈپٹی انسپکٹر اعتزاز احمد گورایا نے تسیلم کیا کہ "داعش کی سہولت کاروں کی ہماری زمین پر موجودگی ممکن ہے”۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "داعش بنیادی طور پر بلوچستان اور پاکستان کے دیگر قبائلی علاقوں کو اپنی مہمات کے لیے آسان ہدف سمجھتا ہے اس لیے وہ وہاں پر اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہی ہے”۔

انہوں نے کہا کہ 16 مئی کو مستونگ کے علاقے قابو-مہران میں داعش سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوںکے ایک تربیتی کیمپ کے خلاف کی جانے والی انسداد دہشتگرد گردی کی ایک مہم میں 9 دہشت گرد ہلاک ہو گئے تھے جن میں تین کمانڈر بھی شامل ہیں۔

داعش میں شمولیت اختیارکرنے والی نورین لغاری کا داخلہ منسوخ

گورایا نے کہا کہ "ہم اپنی سرزمین پر داعش کی ہر ممکن موجودگی کو ختم کرنے کے لیے تمام کوششیں کر رہے ہیں۔

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر انٹیلیجنس افسر نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہماری قومی سیکورٹی کے لیے داعش کے ممکنہ خطرے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، مگر ہمارے علاقے میں اس عسکریت پسند گروہ کی آپریشنل صلاحیت ابھی اتنی مضبوط نہیں ہے جیسی کہ دنیا کے باقی حصوں میں ہے”۔

انہوں نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ داعش "اپنی نظریاتی اور سائبر جنگ کو مظبوط کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "داعش کے پاس ذرائع ابلاغ کا مضبوط پلیٹ فارم ہے اور وہ اپنے اسٹریجک مفادات کے لیے چوبیس گھنٹے آن لائن میڈیا کے مواد کی نگرانی کر رہی ہے”۔

اہلکار نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں سے، داعش نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے جن کی ذمہ داری کسی دوسرے گروہ نے قبول نہیں کی تاکہ وہ اپنی اہمیت کو بڑھا چڑھا سکے”۔

انہوں نے کہا کہ "مقامی مدد کے بغیر، داعش پاکستان میں اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتی”۔

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے سینئر دفاعی تجزیہ نگار میجر (ریٹائرڈ) عمر فاروق نے حکام پر زور دیتے ہوئے کہ وہ سوشل میڈیا کے ایسے تمام اکاونٹس کو بلاک کر دیں جو داعش کا پروپیگنڈا شائع کرتے ہیں

انہوں نے کہا کہ "طالبان اور داعش کا پاکستان میں مقابلہ کرنے کے لیے جامع حکمتِ عملی کی ضرورت ہے اور ملک کے سیکورٹی اداروں کو اس بڑھتے ہوئے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک قابلِ عمل پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے”۔

داعش کا مقابلہ کرنے کی حکمتِ عملی

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے سینئر دفاعی تجزیہ نگار راشد احمد نے کہا کہ پاکستان کی سیکورٹی فورسز کو چوکنا رہنا چاہیے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "8 مئی کو داتا دربار لاہور میں ہونے والا خودکش حملہ اور 12 اپریل کو کوئٹہ کی ہزار گنجی فروٹ مارکیٹ میں ہونے والا خودکش بم دھماکہ اور ملک کے دوسرے حصوں میں ہونے والے حملے اس بات کو ثابت کر رہے ہیں کہ دہشت گرد گروہ دوبارہ سے ابھر رہا ہے”۔

تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی ایک شاخ نے لاہور اور کوئٹہ کے واقعات کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

احمد نے مزید کہا کہ "یہ حقیت ہے کہ داعش پاکستان میں لوگوں کی بڑی تعداد کو بھرتی کر رہی ہے”۔

انہوں نے کہا کہ "گزشتہ دو تین سالوں میں، داعش سے تعلق رکھنے والے ملزمان کی لاہور، کراچی، سیالکوٹ، اسلام آباد، کوئٹہ اور ملک کے دوسرے حصوں سے گرفتاری نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ داعش ہمارے امن اور استحکام کے لیے ایک مصدق خطرہ ہے”۔

انہوں نے کہا کہ "اب ملک میں داعش کے انسداد کی ایک جامع حکمتِ عملی اپنانے کا وقت آ گیا ہے”۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close