کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
شیعت نیوز اسپیشل

ڈیڑھ کھرب ڈالرکے مالک آل سعود ہیں، آیت اللہ خامنہ ای نہیں

تحریر : عین علی  /  شیعت نیوز اسپیشل

کیا آپ نے آپریشن موکنگ برڈ کا نام سنا ہے۔ نہیں سنا تو اب سن لیں، اچھی طرح تحقیق کرلیں کہ اس کی تفصیلات کیا ہیں۔ امریکی جاسوسی ادارے نے 1950ع کے عشرے میں من پسند پروپیگنڈا کے لئے نیوز میڈیا کو استعمال کیا اور طلبا و ثقافتی تنظیموں اور جرائد کو فرنٹ آرگنائزیشن بناکر انکی فنڈنگ کی۔ اس کو آپریشن موکنگ برڈ کہا جاتا ہے۔ صرف یہ ایک آپریشن ہی نہیں بلکہ متعددمرتبہ اس طرح امریکی عوام اور دنیا کو گمراہ کرنے کے لئے کارروائیاں کی جاتی رہیں۔

اور سال 2017ع میں امریکی ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات میں بھی ذرایع ابلاغ کو امریکی ریاستی اداروں کے پروپیگنڈا کے لئے استعمال کرنے سے متعلق معلومات موجود تھیں۔ یہ امریکی اسٹیبلشمنٹ اور طاقتور ذرایع ابلاغ کے منفی مقاصد کی خاطر ساز باز کی صرف ایک مثال ہے۔

حسرت موہانی کے الفاظ میں کہیں تو

خرد کا نام جنوں رکھ دیا، جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

 

اب اس مثال کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس جھوٹی خبر کا جائزہ لیجیے جس میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے گویا آیت اللہ خامنہ ای 200بلین ڈالر کے مالک ہیں جبکہ انکے پاس دو سو ارب تو بہت دور کی بات، پانچ دس ہزار ڈالر بھی شاید ہی ہوں۔ یہ ایسے ہی ہے کہ آپ کسی بھی ملک کے سرکاری اداروں اور سرکاری قومی خزانے کو اسکے سربراہ مملکت یا سرابراہ حکومت کی ذاتی ملکیت قرار دے دیں جبکہ ایسا ہوتا نہیں ہے۔ کیا کسی سرکاری یا غیر سرکاری بینک کا سربراہ، حتیٰ کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا سربراہ ان بینکوں میں موجود رقم کا مالک ہوتا ہے؟

کیا صدر ڈاکٹر عارف علوی، وزیر اعظم عمران خان یا وزیر خزانہ (یا مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ) کو پاکستان کے قومی خزانے کا مالک سمجھ لیا جائے اور کہہ دیا جائے کہ خزانے میں یا اسٹیٹ بینک میں یا منافع بخش سرکاری اداروں کی جو دولت ہے، جو اثاثے ہیں، انکی مالک یہ حکمران شخصیات ہیں؟

جس طرح ہم ان اعلیٰ ترین ریاستی و حکومتی عہدیداروں کو ان اداروں کی دولت و اثاثوں کا مالک نہیں قرار دے سکتے بالکل اسی طرح آیت اللہ خامنہ ای بھی ایران کے کسی ریاستی و حکومتی یا غیر سرکاری اداروں کی دولت و اثاثوں کے ذاتی مالک نہیں ہیں۔

ایک کھرب چالیس ارب ڈالر کے مالک آل سعودپر خاموشی اورفرضی دو سو ارب ڈالر کی خبر دنیا میں وائرل، اسے کہتے ہیں آپریشن موکنگ برڈ کا جدید ورژن!

اصل قضیہ یہ ہے کہ امریکی حکومت کے محکمہ خزانہ نے سال 2013ع میں ایک رپورٹ جاری کی جس کا عنوان تھا Treasury Targets Assets of Iranian Leadership

اس پر یہ تاریخ درج تھی 6/4/2013 ۔  اس کے چند ماہ بعد نومبر 2013 کی 11تاریخ کو امریکی و برطانوی خبر رساں ادارے رائٹر نے خبر جاری کی کہ Khamenei controls massive financial empire built on property seizures
اس کے اگلے روز برطانوی روزنامہ ٹیلیگراف میں خبر شایع ہوئی Ayatollah Khamenei’s £60bn empire includes birth control factory

اور 22جنوری 2018ع کو وال اسٹریٹ جرنل نے بھی اسی نوعیت کی خبردی تھی۔ اور اب 26اپریل2019ع کو العربی الجدید نے آیت اللہ خامنہ ای پر اس جھوٹی تہمت کو مزید بڑھاتے ہوئے دو سو ارب امریکی ڈالر کا مالک بنادیا ہے۔ جبکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے بلکہ یہ وہی آپریشن موکنگ برڈ کا اپڈیٹڈ ورژن ہے جس کاتذکرہ شروع میں کیا جاچکا ہے۔

اس پورے جھوٹی تبلیغاتی مہم کا ایک اہم ہدف یہ بھی ہے کہ عالم اسلام و عرب سمیت پوری دنیا میں رائے عامہ کو آیت اللہ خامنہ ای جیسے ولی صفت رہنما، سادہ زیست قائد و رہبر کی انقلابی شخصیت سے متنفر کیا جاسکے۔ اور اس طرح امریکی اسرائیلی سعودی بلاک کے انسانیت سوز مظالم اور انکی کرپشن سے توجہ ہٹائی جاسکے۔

اگر اس دنیا میں کوئی سب سے زیادہ امیر حکمران ہے، حکمران خاندان ہے تو وہ عربستان نبوی ﷺ پر مسلط موروثی آل سعود خاندان ہے۔

العربی الجدید نے اس خبر کے ریفرنس میں عراقی دارالحکومت بغداد میں قائم امریکی سفارتخانے کے عربی فیس بک پیج پر موجود دعوے کا حوالہ دیا ہے۔ یعنی عراقی و دیگر عرب عوام جو ایران کے سادہ زیست انقلابی قائد، رہبر اور مدبر آیت اللہ خامنہ ای کے گرویدہ ہیں، ان عربوں کو گمراہ کرنا امریکی ہدف ہے۔

اگر اس دنیا میں کوئی سب سے زیادہ امیر حکمران ہے، حکمران خاندان ہے تو وہ عربستان نبوی ﷺ پر مسلط موروثی آل سعود خاندان ہے۔

سعودی ولی عہد سلطنت محمد بن سلمان یعنی ایم بی ایس سے سی بی ایس نیوز چینل کے پروگرام 60منٹ 19مارچ2018ع کو جب انکی دولت سے متعلق سوال کیا گیا تو انکا کہنا تھا کہ جہاں تک انکے نجی اخراجات کا تعلق ہے تو وہ امیر شخص ہیں غریب نہیں ہیں، وہ گاندھی یا منڈیلا نہیں ہیں۔

البتہ سی این بی سی نے 18اگست 2018 ع کو اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ برانڈ فائنانس کے مطابق برطانوی شاہی خاندان کی مجموعی دولت اندازاً 88بلین ڈالر ہے لیکن دنیا میں ایک شاہی خاندان ایسا بھی ہے جس کی دولت اندازاً 1.4 ٹریلین یعنی ایک کھرب چالیس ارب ڈالر ہے اور وہ ہے آل سعود کا شاہی خاندان۔

کوئی جانے یا نہ جانے ایرانی قوم جانتی ہے اور اپنی آنکھوں سے دیکھتی ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی ذاتی مالی حیثیت ایک عام ایرانی جیسی ہی ہے۔ جاکر آل سعود کے محلات اور عشرت کدے دیکھیں اور پھر بتائیں کہ کیا سعودی عرب کے عام شہریوں کو بھی یہ سہولیات میسر ہیں جو شاہی خاندان کو ہیں۔

یہاں یہ یاد رہے کہ انکی بادشاہت میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے اور شاہ فہد کے دور میں تو پورے سالانہ سعودی بجٹ کا تقریباً چالیس فیصد شاہی خاندان پر خرچ کیا جاتا تھا۔ شاہی خاندان کو خصوصی مراعات دی جاتی ہیں۔ ایم بی ایس نے دا ونسی کی پینٹنگ 45روڑ ڈالر قیمت پرخریدی، ایک پر تعیش کشتی 50کروڑ ڈالرقیمت پر خریدی جبکہ تیس کروڑ ڈالر مالیت کی حویلی فرانس میں خریدی۔ ایم بی ایس کے لند ن میں دو گھر ہیں جبکہ اسپین کے جنوبی ساحل پر ایک کمپاؤنڈ بھی ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ پانامہ پیپرز (سیکرٹس آف ڈرٹی منی) میں نہ صرف پانامہ پیپرز بلکہ سوئس لیکس اور آف شور لیکس کا بھی تذکرہ کیا اور سعودی شاہی خاندان کی 57 آف شور کمپنیوں کا انکشاف کیا۔ اور اس میں موجودہ سعودی بادشاہ سلمان کا نام بھی شامل ہے۔

عربستان نبویﷺ کی قومی دولت کو ہڑپ کرکے لکسمبرگ اور دیگر مقامات پر آف شور کمپنیاں اور متعدد فرنٹ کمپنیاں بنائیں تاکہ دنیا کی نظر سے اوجھل رہ سکے۔ آل سعود کی مالی بدعنوانیوں اور شاہ خرچیوں کی یہ صرف چندمثالیں بیان کی ہیں۔

آل سعود، ٹرمپ نیتن یاہو جیسوں کی کرپشن اور عیاشیوں کی سچی داستان تو چھپائی جارہی ہے لیکن ایک درویش صفت سادہ زیست ولی خدا کی مالی حیثیت کے حوالے سے دنیا کو گمراہ کیا جارہا ہے حالانکہ پوری ایرانی قوم امریکا کی پابندیوں اور امریکی اتحاد کی سازشوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے۔

کوئی جانے یا نہ جانے ایرانی قوم جانتی ہے اور اپنی آنکھوں سے دیکھتی ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی ذاتی مالی حیثیت ایک عام ایرانی جیسی ہی ہے۔ جاکر آل سعود کے محلات اور عشرت کدے دیکھیں اور پھر بتائیں کہ کیا سعودی عرب کے عام شہریوں کو بھی یہ سہولیات میسر ہیں جو شاہی خاندان کو ہیں۔ ایک کھرب چالیس ارب ڈالر کے مالک آل سعودپر خاموشی اورفرضی دو سو ارب ڈالر کی خبر دنیا میں وائرل، اسے کہتے ہیں آپریشن موکنگ برڈ کا جدید ورژن!

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close