اہم ترین خبریںمقالہ جات

امام خمینی ؒ احیاگرِ رُوحِ عزادارؔی || نوردرویش

علماء کی ذمہ داری ہے کہ مجالس پڑھیں۔ لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ منظم دستوں میں گھروں سے باہر نکلیں اور ماتم سید الشھداؑ کریں

شیعت نیوز: جب بھی آیت اللہ سید امام خمینیؒ کی عزاداری کے حوالے سے کوئی بھی تحریر نظر سے گزری، اُس میں اُنہیں تاکید کرتے ہی پایا کہ اِس عزاداری پر، اِس ذکر پر کوئی سمجھوتا نہ کریں، یہ گریہ و ماتم اور یہ ذکر جاری رکھیں۔ کچھ تحاریر تو ایسی ہیں کہ پڑھ کر بے اختیار اُن کے بلندیِ درجات کیلئے دل سے دعا نکلتی ہے۔ مثال کے طور پر یہ ایک اقتباس ملاحظہ کیجئے:

ہمیں ان اسلامی سنتوں کی، ان اسلامی دستوں کی کہ جو روز عاشورا یا محرم اور صفر کے دوسرے دنوں میں سڑکوں پر نکل کر عزاداری کرتے ہیں حفاظت کرنا چاہیے۔ سید الشھداءؑ کی فداکاری اور جانثاری ہے جس نے اسلام کو زندہ رکھا ہے۔ عاشورا کو زندہ رکھنا اسی پرانی اور سنتی روایتوں کے ساتھ، علماء اور خطباء کی تقاریر کے ساتھ، انہیں منظم دستوں کی عزاداری کے ساتھ بہت ضروری ہے۔ یہ جان لو کہ اگر چاہتے ہو کہ تمہاری تحریک باقی رہے تو روایتی عزاداری کو محفوظ رکھو۔

علماء کی ذمہ داری ہے کہ مجالس پڑھیں۔ لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ منظم دستوں میں گھروں سے باہر نکلیں۔ اور ماتم سید الشھداؑ کریں۔ البتہ جو چیزیں دین کے خلاف ہیں ان سے پرہیز کریں۔ لیکن ماتم کریں اپنے اجتماعات کی حفاظت کریں۔ یہ اجتماعات ہیں کہ جو ہماری حفاظت کر رہے ہیں یہ آپسی اتحاد ہے جس نے ہمیں زندہ رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امام خمینی ؒ نےدنیاکےسامنے جرات و استقامت سے اسلام کی طاقت و حقانیت کو تسلیم کرایا،علامہ راجہ ناصرعباس

وہ لوگ ہمارے پاک دل جوانوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ ان کے کانوں میں آکر کہتے ہیں کہ اب رونے کا کیا فائدہ؟ اب گریہ کر کے کیا کریں گے؟ یہ جلوس جو ایام محرم میں سڑکوں پر نکلتے ہیں انہیں سیاسی مظاہروں میں تبدیل نہ کرنا۔ مظاہرے اپنی جگہ ہیں۔ لیکن دینی جلوس سیاسی جلوس نہیں ہیں بلکہ ان سے بالاتر ہیں، وہی ماتم، وہی نوحہ خوانی، وہی چیزیں ہماری کامیابی کی علامت ہیں۔ پورے ملک میں مجالس عزا برپا ہونا چاہیے، سب مجلسوں میں شریک ہوں سب گریہ کریں۔ انشاء اللہ روز عاشورا کو لوگ گھروں سے نکلیں گے امام حسین علیہ السلام کے تعزیہ اٹھائیں گے اور جلوس میں صرف عزاداری کریں گے۔

بحوالہ: قيام عاشورا در كلام و پيام امام خمينى، (تبيان، آثار موضوعى امام، دفتر سوم) تهران: مؤسسه تنظيم و نشر آثار امام خمينى، چاپ دوم، 1373″

اِس اقتباس میں مجھے اُن طاقتور جذبات اور مرکزیت کی عکاسی نظر آئی جو عزاداری اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہ پڑھتے ہوئے مجھے ایک بار پھر علامہ طالب جوہری کا چند برس قبل نشتر پارک میں کہا گیا وہ جملہ یاد آگیا کہ "جب کوئی تمہیں ماتم کرنے سے روکے تو جواب میں اور ماتم کرو۔ یہ ماتم ہی ہے جو تمہیں اب تک بچا کر لے آیا ہے۔ لہذا حق تو یہی ہے کہ یہ ماتم جاری و ساری رہے۔”

اگر آپ آیت اللہ امام خمینیؒ کے الفاظ پر غور کریں تو اُن میں آپ کو عزاداری کو جاری رکھنے، شعائرِ عزاداری کی حفاظت کرنے، نوحہ خوانی، ماتمداری حتی تعزیہ داری تک کی حفاظت کی تاکید نطر آئے گی۔ یہاں تک کے قوم کی زندگی کو عزاداری کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے یہ تاکید ایرانی قوم کو کی گئی ہے لیکن اس میں موجود پیغام ہم سب کیلئے ہے کہ ہم اپنے اپنے ملکوں کے حالات کے مطابق اس طاقتور مکتب سے استفادہ کریں۔ البتہ میں دیکھتا ہوں کہ میرے ملک میں ایک محدود طبقہ ایسا بھی ہے جو خود کو افکارِ خمینیؒ سے بھی جوڑتا ہے لیکن اس طبقے نے انداز کچھ ایسا اپنایا ہے کہ غیر محسوس انداز میں اپنے اوپر عزاداری سے بد ظنی کا لیبل لگوا بیٹھا ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ یہ طبقہ خود بھی ایسا سمجھتا ہے، میرا کہنا فقط اتنا ہے کہ اس طبقے کی روش نے اس کا تاثر ہی کچھ ایسا بنا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مہذب دنیا کا چہرہ || مظہر برلاس کے قلم سے

اس کی وجہ بہت واضح ہے۔ اس طبقے نے برصغیر کی روایتی عزاداری پر ایک عمومی تنقید کو اپنا ہدف مقرر کرکے ایسا تاثر دینا شروع کردیا کہ یہ عزاداری سے متعلق فکرِ خمینیؒ کے معتقد ہیں اس لئے برصغیر کی عزاداری اور مراسم عزاداری ان کے نزدیک کوئی زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ جبکہ سید خمینیؒ تو اپنی قوم کو روایتی عزاداری کو جاری و ساری رکھنے کی تاکید کررہے ہیں۔ وہ تو ہمیں بتا رہے ہیں کہ آپ جلوس ہائے عزاداری کو جاری رکھیں، گریہ کریں، ماتم کریں، مجالس میں خطباء اور علماء ذکرِ سیداالشہداءؑ بیان کریں، سیاسی مظاہروں اور عزاداری کے جلوسوں میں فرق کریں، جلوسِ عزاداری ان سب سے بالاتر ہیں۔ وہ ہمیں عزاداری کی طاقت سمجھانا چاہ رہے ہیں۔

میں نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ اس متواتر تنقید نے خود اس طبقے اور بالخصوص نوجوان طبقے کے اذہان پر یہ اثر ڈالا کہ یہ لوگ خدا نخواستہ عزادری کو خیر باد تو نہیں کہہ گئے البتہ یہ ضرور ہوا کہ انہوں نے عزاداری سے اپنے تعلق کو ایک ٹوکن نما تعلق تک محدود کرلیا۔ یعنی ایک نفسیاتی ردعمل جس میں آپ نے خود کو باقیوں سے منقطع کرکے اپنے فلسفہ عزاداری کے مطابق ایک الگ نظام بنا لیا۔ یا یوں کہہ لیں کہ جیسے سب کچھ کرنے کے بعد ایک ماتمی حلقہ بنا کر دوسروں اور خود کو یہ پیغام دے دیا کہ دیکھ لیجئے "ہم نہ عزاداری کے خلاف ہیں اور نہ ہی ماتم کے”۔ البتہ برصغیر کی عزاداری سے یہ طبقہ اتنا بدظن ہوا کہ بجائے سید خمینیؒ کے عزاداری سےمتعلق پیغام کو سمجھنے کے، اپنی عزاداری کو ایک نئی شکل دے ڈالی۔ بعض نے تو اپنی روایت کو حقیر جانتے ہوئے ایرانی روایت کو اپنانے کی کوشش بھی کی، جو ہنوز جاری ہے۔

کسی بھی محبِ اہلیبیتؑ کیلئے اس سے زیادہ لمحہ فکریہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ اُس کے سامنے مصائیبِ اہلیبیتؑ بیان کئے جائیں اور گریہ کرتے ہوئے اس تذبذب کا شکار ہوجائے کہ آیا میں بقول علی شریعتی "سرخ شیعت” کا ماننے والا ہوں یا "سیاہ شیعت” کا۔ یہی وہ تذبذب ہے جو بلاخر انسان کو ایک غیر محسوس بدظنی کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کی بنیاد ایک مختلف ملک اور ایک مختلف قوم سے کی گئی باتوں کو من و عن اپنے اوپر لاگو کرنا ہوا کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حضرت امام خمینی ؒ نے صرف گفتار سے نہیں بلکہ اپنے کردار سے بھی بیداری پیدا کی۔ آیت اللہ خامنہ ای

یہاں یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہونا چاہئے کہ آیت اللہ خمینیؒ اگر اپنی قوم کو عزاداری کی اہمیت بتا رہے ہیں تو اُن کے پیشِ نطر ایران کے حالات اور وہاں کے حقائق ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اپنی قوم کو یہ سمجھائیں کہ عزاداری کا یہ طاقتور مکتب کس طرح انقلاب اور اُن کی تحریک کو جلا بخش سکتا ہے۔ ہمیں اُن کی بات میں سے وہ پیغام اخذ کرنا چاہئےتھا جو ہمارے ملک کے حالات و حقائق کے مطابق ہوتا۔ میری رائے میں ہمارے ملک کے حالات کے تناظر میں ہمیں سب سے زیادہ ضرورت اس عزاداری کے مکتب کی حفاطت ہی ہے۔ وہ عزاداری جو اس خطے کی پہچان ہے۔ جسے کبھی حملوں کا سامنا رہتا ہے اور کبھی چار دیواری میں محدود کردینے جیسےمطالبات کا۔ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ عزاداری میں دراصل ہماری بقا ہے۔

میں یہ قطعا نہیں کہوں گا کہ آپ اُن نئی نئی خرافات کی بھی تائید کریں جو آئے روز ایجاد کی جارہی ہیں لیکن ہمارے جو شعائرِ عزاداری صدیوں سے اپنی پوری قوت کے ساتھ چلے آرہے ہیں، جنہیں مراجع و جید علماء کی تائید حاصل ہے، کم از کم اُنکی تو تحقیر مت کریں۔ یہ فرشِ عزا اور یہ مکتبِ عزاداری، بہت بڑی نعمت ہے۔ چوبیس ہزار سے زائد مقتول شیعوں کے بارے میں سوچئے، ان کے قتل پر خاموشی کو یاد کیجئے اور پھر اس مرکزیت سے بھرے مکتبِ عزاداری کو یاد کیجئے، ساری بات خود سمجھ میں آجائے گی کہ اس کی کیا اہمیت ہے۔

بحیثیت برصغیر پاک و ہند کے ایک شیعہ، مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق اُس خطے سے ہے جہاں علامہ علی نقی نقویؒ(نقن صاحب) موجود تھے، جہاں علامہ رشید ترابیؒ خطاب کرتے رہے، جہاں ذٰیشان جوادیؒ جیسے عالم پیدا ہوئے، جس خطے نے علامہ طالب جوہری، مرزا اطہر، نصیر الاجتہادی، ڈاکٹر کلبِ صادق، عقیل الغروی، علامہ عرفان حیدر عابدی اور ایسے کتنے ہی علماء و خطباء پیدا کیے۔ میرے پاس میر انیسؒ اور میرزا دبیرؒ جیسے مرثیہ نگار موجود ہیں جنہوں نے اپنے لازول کلام میں پورا مقتل بیان کردیا، میرے پاس چھنو لال دلگیر جیسے ہندو شاعر موجود ہیں جن کے لکھے کلام پڑھے بغیر آج بھی روزِ عاشور کی مجالس مکمل نہیں ہوتیں، یہاں محسن نقوی شہید جیسے حمادِ اہلیبیتؑ گزرے ہیں۔ میرے پاس مرحوم سچے بھائی بھی ہیں ندیم سرور بھی ہیں، میر حسن میر بھی اور حسن صادق بھی، لاہور کی تاریخی انجمنیں ہیں اور ڈٰیرہ اسماعیل خان کے سبطین شاہ بھی۔ یہاں پٹیالہ کے شام چوراسی گھرانے کے سوز خوان بھی ہیں اور یہاں مرحوم شجر حسین شجر جیسے پنجابی ذاکر سے لیکر سندھ کے ہندو ذاکر روی شنکر بھی ہیں۔ یہاں چنیوٹ میں شیعہ سنی مل کر تعزئے بھی برآمد کرتے ہیں اور یہاں کراچی میں مولانا اصغر درس کا خاندان بیالیس سال سے عزادری بھی کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج کی جارحیت میں مزید 3 کشمیری نوجوان شہید

یہاں یکم محرم سے لیکر ۸ ربیع الاول تک ایامِ عزاء کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ تعزیہ، ذوالجناح اور علم کی شبیہ برآمد ہوتی ہیں۔ مجالس کا سلسلہ جاری رہتا ہے، انجمنیں نوحہ خوانی کرتی ہیں سوز خواں سوز خوانی کرتے ہیں، خطیب ذکرِ محمد و آلِ محمدؑ کرتے ہیں۔ یہی تو سید خمینیؒ نے کہا تھا۔

تحریر کا اختتام آیت اللہ خمینیؒ کے الفاظ پر ہی کروں گا، اس یقین کے ساتھ کہ :

"شمع سے شمع جلے سلسلہ جاری رہے
! "ہم رہیں یا نہ رہیں، یہ عزاداری رہے۔۔

"خدا ہماری قوم کو کامیابی عطا کرے کہ وہ اپنی پرانی روایتوں کے ساتھ عاشورا میں عزاداری منائے۔ ماتمی دستے اپنے زور و شور کے ساتھ باہر نکلیں اور ماتم اور نوحہ خوانی بھی شوق و ذوق کے ساتھ ہو اور جان لو کہ اس قوم کی زندگی اسی عزاداری کے ساتھ ہے۔ ”

3 جون، برسی سید روح اللہ خمینیؒ کی مناسبت سے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close