مشرق وسطی

بحرین اب سعودی عرب کا علاقہ اور اس کی ایک ریاست ہے۔ صحافی رابرٹ فسک

شیعت نیوز : برطانوی صحافی رابرٹ فسک نے سن دو ہزار گيارہ میں انڈیپنڈینٹ اخبار میں لکھا تھا: بحرین اب آل خلیفہ کی سرزمین نہیں ہے بلکہ اب وہ سعودی عرب کا علاقہ اور اس کی ایک ریاست ہے۔

کئی برس گزر جانے کے بعد سبھی کو یہ بات سمجھ میں آ گئی ہے کہ رابرٹ فسک کی پیش گوئی بالکل صحیح تھی کیونکہ اس وقت بحرین تمام سیاسی، معاشی، سیکورٹی، فوجی یہاں تک کہ سماجی امور میں بھی پوری طرح سے سعودی عرب کے احکام کے تعمیل کر رہا ہے اور اس میں خودمختاری کی جھلک بھی دکھائي نہیں دیتی۔

سعودی عرب اور بحرین کے زرخرید مصنفین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ بحرین جغرافیائی، سیاسی اور معاشی سطح پر بہت چھوٹا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بحرین میں اقتدار اعلی رکھنے والے ایک خودمختار ملک میں تبدیل ہونے کے تمام ضروری عناصر پائے جاتے ہیں لیکن وہ دو وجوہات کی بنا پر یہ کام نہیں کر سکتا۔

پہلی وجہ بحرین کو نگلنے کا سعودی عرب کا طویل المیعادی منصوبہ ہے اور دوسری وجہ آل خلیفہ کی عوام سے دوری ہے اور اسی وجہ سے یہ خاندان اپنے تخت و تاج کی حفاظت کے لیے آل سعود کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوا ہے۔

سعودی عرب اور بحرین کے درمیان آقا و غلام کا جو رشتہ ہے وہ دنیا میں کہیں بھی نہیں دکھائی دیتا۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے کچھ مثالیں قابل توجہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : عراق: بغداد ایئر پورٹ کے فوجی حصے پر راکٹ حملہ، داعش کا اعتراف

سن انیس سو ترسٹھ میں سعودی عرب اور بحرین کی مشترکہ آبی سرحد پر ابو سعفہ آئل فیلڈ کا انکشاف ہوا لیکن ریاض نے اسے ہڑپ لیا اور وہ اس کے تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا صرف کچھ فیصد حصہ بحرین کو دیتا ہے جبکہ اس فیلڈ کا بڑا حصہ بحرین کی سرحد میں ہے۔

بیسویں صدی کے اسّی کے عشرے میں سعودی عرب نے اپنے مفادات کے تحت بحرین کے ساتھ اپنی سرحدوں کی ترسیم کی اور اس طرح بحرین کے البینہ جزیرے پر قبضہ کر لیا۔

سعودی عرب نے نوے کے عشرے میں بحرینی عوام کی تحریک کو کچلنے کے لیے بڑی تعداد میں فوجیوں اور سیکورٹی فورسز کو بحرین بھیجا جبکہ اس تحریک کا ہدف انیس سو تہتر کے آئين کا نفاذ، اپنے مستقبل کے تعین میں عوام کی شرکت اور معاشی حالات کی بہتری تھا لیکن آل سعود نے اسے قبائلی مظاہروں کا نام دیا اور بڑی بے دردی سے کچل دیا۔

سن دو ہزار گيارہ میں سعودی عرب کے فوجیوں نے کھل کر بحرین پر قبضہ کر لیا اور ظلم، امتیازی سلوک اور موروثی حکومت کے خلاف بحرینی عوام کی تحریک کو کچل دیا۔ سعودی عرب کے فوجیوں نے سیکڑوں فلسطینیوں کو قتل کیا اور ہزاروں دیگر کو گرفتار کر لیا۔

بحرین کے فرمانروا اور آل خلیفہ خاندان بحرینی قوم کے ساتھ انصاف، مساوات اور انسانیت کے احترام کی بنیاد پر فطری رابطہ قائم کرنے میں ناکامی کی وجہ سے اور خاندان پرستی، امتیازی سلوک اور ظالمانہ پالیسیوں کو ترجیح دینے کی وجہ سے سعودی عرب کا پٹھو بن چکا ہے اور اس نے بحرین کو ریاض کی جانب سے نگلنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔ البتہ یہ بات آل سعود کی سمجھ میں نہیں آ رہی ہے کہ قوموں کو نگلنے کا زمانہ گزر چکا ہے۔

امریکہ اپنی تمام تر طاقت کے باوجود، ان اقوام کے سامنے ہزیمت اٹھا چکا ہے جو آزادانہ زندگی گزارنا چاہتی تھیں۔ بنابریں نہ تو سعودی عرب، امریکہ سے بڑا ہے کہ بحرین کی قوم کو نگل سکے اور نہ بحرینی قوم اپنے وطن اور اپنی سرزمین کے دفاع کی طاقت نہیں رکھتی۔

آل خلیفہ اور عرب حکام کو بھی سمجھ لینا چاہیے کہ نہ تو سعودی عرب اور نہ ہی امریکہ ان حکومتوں کو بچا سکتے ہیں اور وہ ہتھیاروں کے زور پر اپنے تخت و تاج کی حفاظت نہیں کر سکتے کیونکہ قومیں زندہ ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close