مشرق وسطی

بحرین کی عدالت کا اسرائیلی پرچم کو نذر آتش کرنے پر بحرینی نوجوان کو سزا

شیعت نیوز: بحرین کی عدالت نے ایک بحرینی نوجوان کو اسرائیل کے پرچم کو نذر آتش کرنے کے جرم میں 3 سال قید کی سزا سنائی۔

فارس خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایک بحرینی نوجوان نے مئی کے مہینے میں بحرین کے علاقے ابوصیبه میں ہونے والے مظاہرے کے دوران اسرائیل کے پرچم کو نذر آتش کیا تھا۔

البتہ ذرائع ابلاغ نے اس بحرینی نوجوان کی شناخت ظاہر نہیں کی تاہم بحرین کے عوام نے اس پر زبردست احتجاج کیا اور اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آل خلیفہ کی حکومت نے اسرائیل کو خوش کرنے کیلئے بحرینی نوجوان کو سزا دی۔

یہ بھی پڑھیں : انقلاب بحرین کی سالگرہ، سول نافرمانی تحریک چلانے کی اپیل

آل خلیفہ کی حکومت بحرین کے عوام کی مخالفتوں کے باوجود گزشتہ برسوں میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوشش کر رہی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ آل خلیفہ کی حکومت نے بحرین میں 25 اور 26 جون کو بحرین کانفرنس کا انعقاد کر کے سینچری ڈیل کے پہلے مرحلے پرعمل در آمد کیا۔

دوسری جانب بحرین میں انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں اور رہنماوں نے آل خلیفہ کی حکومت کی جانب سے اس ملک کے عوام کے خلاف سرکوب گرانہ اقدامات کو ہولناک قرار دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بحرین میں انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں اور رہنماؤں نے کہا ہے کہ آل خلیفہ کی حکومت اپنے عوام سے ڈر اور خوف کی وجہ سے اس کوشش میں ہے کہ علاقے سے امریکہ کے نکلنے سے پہلے اپنے آپ کو غاصب صیہونی حکومت کے قریب تر کرے ۔

دوسری جانب بحرین کے ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں نے اسی طرح تاکید کی کہ بحرین کے عوام کے انقلاب نے بحرین کی آل خلیفہ کی حکومت کے بہت سے اقدامات من جملہ عوام کو سرکوب کرنے کیلئے سکیورٹی کے سخت ترین اقدامات کو ناکامی سے دوچار کردیا ہے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close