مشرق وسطی

بحرین کے سیاسی تنظیموں کا تل ابیب اور منامہ تعلقات کی مذمت، مزید ساز باز بند کرنے کا مطالبہ

بحرین کے سیاسی گروہوں نے ایک مشترکہ بیان جاری کر کے تل ابیب کے ساتھ منامہ کے تعلقات کی بحالی کی مذمت کی اور آل خلیفہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ صیہونی حکومت کے ساتھ معاہدہ کرنے سے باز رہے.

بحرین کے سیاسی گروہوں کے مشترکہ بیان میں آیا ہے کہ حیرت کی بات ہے کہ فلسطینیوں کی مقبوضہ زمینوں پر یہودی کالونیوں اور ہزاروں رہائشی کامپلکس کی تعمیر کی خبر کے اعلان ہونے کے ساتھ ہی منامہ میں غاصب حکومت کے ساتھ ساز باز معاہدے پر دستخط ہو رہے ہیں ۔

بحرین کے سیاسی گروہوں کے بیان میں صیہونی حکومت کو ایک غاصب اور قابض حکومت قرار دیتے ہوئے آل خلیفہ حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ سازباز معاہدے کی مخالفت میں عوام کے ساتھ ہو جائے۔

بحرینی گروہوں نے اپنے بیان میں غاصب صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کی مخالفت پر مبنی عوام کے موقف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تمام بحرینی گرہوں اور عوام سے صیہونی حکومت کے ساتھ آل خلیفہ حکومت کے سمجھوتے کی کھل کر مخالفت کرنے اور فلسطینی عوام کے ساتھ اعلانِ یکجہتی کی اپیل کی۔

بحرین کی وفائے اسلامی گروہ نے بھی ملکی عوام سے اپیل کی کہ وہ اسی سلسلے میں جمعے کو ہونے والے مظاہروں میں بھاری تعداد میں شرکت کریں۔

بحرین کے وفائے اسلامی گروہ نے اس جمعے کو جمعۃ مقاومت التطبیج یعنی تعلقات کی بحالی کے خلاف استقامتی جمعے کا نام دیا ہے۔

بحرین کی الوفاق پارٹی کے رہنماؤں نے بھی فلسطینی رہنماؤں سے ٹیلی فونی رابطے میں منامہ اور تل ابیب کے درمیان تعلقات کی بحالی کی مذمت کی اور ایک بار پھر بحرینی عوام کی جانب سے فلسطین کاز کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔

بحرین کے عوام صیہونی حکومت اور بحرین کے درمیان تعلقات کی بحالی کے خلاف گزشتہ ایک مہینے کے دوران کئی بار مظاہرے کر چکے ہیں۔

پانچ ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں صیہونی حکومت کے ساتھ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے درمیان ہونے والے سمجھوتے پر دستخط کے بعد سے ہی اس سمجھوتے کے خلاف بحرینی عوام کے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے ۔

بحرینی عوام، سڑکوں پر نکل کر ساز باز معاہدے کے خلاف نعرے لگاتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ آل خلیفہ حکومت غیرقانونی ہے اور صیہونی حکومت کے ساتھ ہر طرح کا معاہدہ باطل اور غلط ہے۔

ٹیگس

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close