مقبوضہ فلسطین

بیت المقدس میں صیہونی فوج نے جسمانی معذور فلسطینی کو گولیاں مار کر شہید کردیا

شیعت نیوز: اسرائیلی فوج نے مقبوضہ بیت المقدس میں ایک جسمانی معذور فلسطینی نوجوان کو گولیاں مار کر شہید کردیا جب کہ غرب اردن کے شمالی شہر طولکرم میں ایک فلسطینی شہری کو گولیاں مار کر زخمی کردیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق قابض اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز پرانے بیت المقدس میں باب الاسباط کے مقام پر ایک جسمانی معذور فلسطینی ایاد خیری الحلاق کو گولیوں سے چھلنی کر دیا۔ شدید زخمی ہونے کے کچھ ہی دیر کے بعد ایاد دم توڑ گیا۔

مسجد اقصیٰ میں مخطوطات کے چیئرمین رضوان عمرو نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے دعویٰ کیا کہ ایک نوجوان نے اسرائیلی فوجیوں پر چاقو سے حملے کی کوشش کی تھی جس پر اسے گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔ تاہم بعد ازاں معلوم ہوا کہ شہید ہونے والا فلسطینی ایک جسمانی معذور نوجوان تھا جسے بغیر کسی جرم کے شہید کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : غاصب اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے ایک اور فلسطینی نوجوان شہید

دوسری جانب حماس نے کہا ہے کہ اسرائیلی ریاست بیت المقدس میں دو روز قبل ایک ذہنی معذور فلسطینی نوجوان کو بے رحمانہ طریقے سے شہید کرنے میں ملوث عناصر کو تحفظ دینے اور قاتلوں کو بچانے کے لیے قتل کی واردات کو سند جواز فراہم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایک نہتے اور ذہنی معذور فلسطینی کو گولیاں مار شہید کرنے کا اسرائیلی فوج کے ہاتھوں واقعہ سنگین جرم اور اسرائیلی ریاست کے جرائم کے تسلسل میں ایک نیا اضافہ ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام نے ایاد احمد کے قاتلوں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں کی بلکہ انہیں  بری کردیا ہے۔ مجرموں کو بری کرنا جرائم پرپردہ ڈالنے اور مظلوم کو شہید کرنے کے جرم کو سند جواز فراہم کرنے کی مذموم کوشش ہے۔

حازم قاسم کا کہنا تھا کہ فلسطینی قوم ایاد احمد کے قاتلوں کو معاف نہیں کرے گی  اور اس وحشیانہ واقعے کے ذمہ داروں سے انتقام لینے کے ساتھ قابض اور غاصب ریاست کے خلاف مزاحمت جاری رکھی جائے گی۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close