پاکستان کی اہم خبریں

میرے بیٹے کی موت کی ذمہ دار مولانا فضل الرحمان اور آزادی مارچ کے دوسرے لیڈر ہیں

مرحوم عثمان کے والد نے مولانا فضل الرحمٰن، شہباز شریف، بلاول بھٹو اور دیگر کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست دائر کی ہے۔

شیعت نیوز: آزادی مارچ کے دوران کنٹینر سے ٹکرا کر جاں بحق ہونے والے نوجوان کے والد نے اپنے بیٹے کی موت کے خلاف رہبر کمیٹی، مولانا فضل الرحمٰن، شہباز شریف اور بلاول بھٹو کو فریق بناتے ہوئے مقدمے کے اندراج کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا بھارت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری

رپورٹ کے مطابق آزادی مارچ کے دوران کنٹینر سے ٹکرا کر جاں بحق ہونے والے نوجوان عثمان کے والد نے رہبر کمیٹی، مولانا فضل الرحمٰن، شہباز شریف اور بلاول بھٹو کو فریق بناتے ہوئے مقدمے کے اندراج کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عالم اسلام کے مسائل کا حل امت مسلمہ کے درمیان تعاون اور یکجہتی ہے، آیت اللہ اراکی

مرحوم عثمان کے والد نے مولانا فضل الرحمٰن، شہباز شریف، بلاول بھٹو اور دیگر کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست دائر کی ہے۔ اس حوالے سے وکیل اکرام چوہدری کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں مقدمہ اندراج کی درخواست جمع کرائی گئی ہے۔

درخواست گزار کا موقف ہے کہ 6 نومبر کو نائنتھ ایوینیو پر میرا بیٹا رات کو اسٹریٹ لائٹس بند ہونے اور آزادی مارچ کے کنٹینر سے ٹکرانے کی وجہ سے جاں بحق ہوا ہے۔عثمان کے والد نے اپنی درخواست میں کہا کہ میرے بیٹے کی موت کی ذمہ داری آزادی مارچ انتظامیہ اور اسلام آباد انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آیت اللہ سیستانی کا کونسا ایسا پیغام تھا کہ جس کو سننے کے بعد عراقی وزیر اعظم نے فورا اپنا استعفی پیش کر دیا

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ایس ایچ او تھانہ کراچی کمپنی کو اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔واضح رہے کہ درخواست میں اکرم درانی، میر حاصل بزنجو، عثمان کاکڑ اور ڈی سی حمزہ شفقات کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close