اہم ترین خبریںپاکستان

’’کے الیکٹرک‘‘ کا نیا بل ٹیرف اور اسکے کے بعد لیٹ بلنگ انتہائی ظالمانہ اقدام ہےعلامہ باقرزیدی

غریب صارفین ان بلوں کو دیکھ کر ہوش وحواس کھو بیٹھے ہیں اور وفاقی حکومت کے الیکٹرک کے جھوٹے بلوں پر کوئی کار وا ئی نہیں کر رہی ہے

شیعت نیوز:وفاقی حکومت کے الیکٹرک کے جھوٹے بلوں پر فوری ایکشن لے۔ بجلی کےاضافی بل کے الیکٹر ک کی کھلی معاشی دہشت گردی ہے۔ غریب صارفین ان بلوں کو دیکھ کر ہوش وحواس کھو بیٹھے ہیں اور وفاقی حکومت کے الیکٹرک کے جھوٹے بلوں پر کوئی کار وا ئی نہیں کر رہی ہے۔’’کے الیکٹرک‘‘ کا نیا بل ٹیرف اور اسکے کے بعد لیٹ بلنگ انتہائی ظالمانہ اقدام ہے جبکہ پہلے ہی مرکب سودکی طرز پر بل چارج کیئے جاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ باقر زیدی نے میڈیا سیل کراچی سے جاری اپنے ایک بیان میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’’K الیکٹرک‘‘ کا ادارہ پرائیوٹ ہونے کے بعد اربوں ڈالر سالانہ کما رہاہے جو غریب عوام کی جیبوں سے چوری کیا جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ لوڈ شیڈنگ دورانیہ کا تعین بلوں کی ادائیگی سے جوڑنا سفاکانہ طرز عمل ہے جس کی غریب عوام بھرپور مذمت کرتے ہیں۔علامہ باقر زیدی نے کہا کہ ’’K الیکٹرک‘‘ کی سوچ پوری طرح کمرشل بن چکی ہے جس سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں حکومت جلد از جلد ا س ادارے کو واپس نیشنلائز کرے۔ علامہ باقر زیدی نے مزید کہا کہ ’’Kالیکٹرک‘‘ کے زیادہ استعمال والے اوقات میں جس نئے ٹیرف کو نافذ کرنا چاہتی ہے اس کا براہ راست نقصان تمام صارفین کو ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے مہنگائی بڑھنے کا جو لامتناہی تسلسل جاری ہے اس کی وجہ سے روزمرہ استعمال کی ہر چیز خوفناک حد تک مہنگی ہوچکی ہے اور غریب آدمی دو وقت کی روٹی کے حصول کے لئے ناجائز ذرائع اختیار کرنے پر مجبور ہے، وزیر اعظم سمیت تمام وزراء کے معاشی بہتری کے تمام تر دعوے طفل تسلی کے سوا کچھ نہیں۔علامہ باقر زیدی نے کہا کہ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کی بجائے مزید ٹیکس کے پیئے میں کچل دیا ہے۔تنخواہ دار طبقہ پر بھاری ٹیکسس لگانا،بجلی،گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ نے غریب عوام کی کمر توڑ دی ہے ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران اپنے عوام کو ریلیف دینے میں ناکام رہے۔

علامہ باقر زیدی نے اعداد وشمار کا ہیرپھیر اور ملک کے متوسط طبقے کی مشکلات میں ناقابل برداشت اضافہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ بجٹ انتہائی مایوس کن ہے۔مہنگائی کے موجودہ تناسب سے مطابقت نہ رکھنے والا یہ بجٹ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت کی داخلی اور خارجی پالیسیوں کی طرح اقتصادی معاملات بھی صلاحیتوں کے فقدان کی نذر ہو رہے ہیں۔سابقہ حکومت کی ناکام تجارتی پالیسیوں اور وطن عزیز میں عدم استحکام کی صورتحال نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان سے دور کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔غیر ملکی قرضوں میں مذید اضافہ ہوا پاکستان کا کثیر سرمایہ غیر قانونی طریقہ سے ملک سے باہر منتقل کیا گیا جس سے ملکی ترقی پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔پڑھے لکھے نوجوان طبقے کو ملازمتوں کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔جس سے عام شہریوں کی مایوسی میں اضافہ ہو ا ہے۔

علامہ باقر زیدی نے کہا کہ وفاقی حکومت کی اصل ترجیحات سیاسی رسہ کشی اور سابقہ حکمرانوں کی کرپشن کو عیاں کرنے میں مقصود رہی ہے،تھر کے پی کے بلوچستان اور گلگت بلتستان میں غریب عوام کو پینے کی پانی سے لے کر بجلی، صحت کے بنیادی ضروریات،تعلیمی سہولیات تک میسر نہیں،اس بجٹ میں صرف سابقہ حکومتوں کی بجٹ پالیسی پر الزامات لگا کر عوام پر مذیدٹیکس لگا کر مشکلات میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close