اہم ترین خبریںپاکستان

جیو کراچی کے عزاداروں ۔۔۔۔ثابت ہوگیا کہ یہ قوم عزاداری کیلئے بنی ہے اور یہ کسی صورت اس سے پیچھے ہٹ نہیں سکتی !!

ایسے میں واٹس اپ پر ایک ویڈیوموصول ہوئی جو کہ نشترپارک کی تھی جہاں شدید بارش کے دوران بھی مجلس عزا جاری تھی اور عزادار جوق در جوق پہنچ رہے تھے

تحریر: مدثر مہدی (شیعہ کہانی)

شیعیت نیوز: آج شہر کراچی میں شدید بارش کا سلسلہ رہا جس کے باعث اجڑا کراچی مزید اجڑ گیا ۔ اتفاق سے پہلی محرم بھی تھی ۔ مجالس ہائے عزا کا سلسلہ بھی شروع تھا۔ ہم بارش کے تھمنے کا انتظار کررہے تھے ایسے میں واٹس اپ پر ایک ویڈیوموصول ہوئی جو کہ نشترپارک کی تھی جہاں شدید بارش کے دوران بھی مجلس عزا جاری تھی اور عزادار جوق در جوق پہنچ رہے تھے ساتھ ساتھ خواتین اسکاؤٹ بھی اپنی ذمہ داری ادا کررہی تھی۔

بعد از مغرب ہم بھی بائیک پر ایک دوست کے ہمراہ بوتراب امام بارگاہ کی طرف ہولئے کہ مجلس میں شرکت ہوسکیں۔شہر کا برُا حال ہوا پڑا تھا ایسے میں کسی طرح بوتراب پہنچے۔ توقعات سے کئی زیادہ عزادار وہاں پہنچےہوئے تھے اور مقررہ وقت پر مجلس شروع ہوگئی۔ ایک دوست سے ملاقات ہوئی وہ اپنے بچے کے ساتھ آئے ہوئے تھے کہنے لگے یار گاڑی پر نہیں آیا آٹو پر آیا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: عراق، سعودی و اماراتی فنڈڈ داعشی دہشتگردوں نے ابراہیم ابن مالک اشتر ؒ کے مزار پر حملہ کردیا

بعد از مجلس ہم دوسری مجلس کے لئے آل عبا گلبرگ کے لئے نکل پڑے۔ ہم دو سے تین ہوگئے تھی اور گلبرگ جیسے پوش علاقے کی ٹوٹی پھوٹی گلیوں سے ہم بلآخر آل عبا پہنچ گئے۔ مجلس ہوئی اور خوب ہوئی۔ بعد از مجلس ہمیں واپس انچولی پہنچنا تھا ۔ بائیک اسٹارٹ کی تو مناظر ہی الگ دیکھنے کو ملیں۔ ایک گاڑی جس میں صرف خواتین تھی اور ڈرائیو بھی کوئی خاتون کررہی تھی وہ دکھی ۔ایسے میں تھوڑا آگے گئے تو کیا دیکھا ایک فیملی بمعہ خاتون انھوں نے گاڑی روکی اور ایک مرد اور ایک لڑکے کو لفٹ دی کیوں کہ جس گلی میں وہ گامزن تھے وہ جھیل کی شکل میں موجود تھی، پھر تھوڑا آگے گئے تو دیکھا کہ کچھ عزادار خواتین پیدل مین روڈ کی طرف گامزن تھی یاد رہے امام بارگاہ سے مین روڈ کافی فاصلہ پر موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امید ہے کہ اب سعودی عرب بھی کشمیر کے معاملے پر ہمارے ساتھ کھڑا ہوگا، شاہ محمود قریشی

اب ہم واپسی انچولی کی طرف ہولیے۔ امروہہ گراونڈ کی طرف گئے تو دیکھا چند لڑکے اپنی سبیل کی طرف سے پانی ہٹاکر نالے کی طرف کررہے تھے۔چند وائپر ہاتھ میں تھےاور اسی سے کام جاری تھا۔اسی روڈ پر ایک لڑکا ننگے پیر پینٹ اوپر کرکے ٹریفک کلیئر کرا رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد واپسی امروہہ گراونڈ کے پاس سے ہوئی تو دیکھا گراونڈ کے اندر درجنوں نوجوان چند بالٹیوں کی مدد سے پانی نکال رہے تھے۔یہ ہی نہیں جو جیسا اپنی ڈیوٹی نبھاتا ہے وہ ویسے ہی اپنی ڈیوٹی نبھارہا تھا۔ سبیل اسی طریقے سے جاری تھی۔ جلوس عزا اسی روڈ پر موجود تھا ۔ الغرض ہر کوئی اپنی ڈیوٹی بھرپور طریقے سے ادا کررہا تھا۔آج ایک اور رخ سے یہ بات بہت سے ناصبیوں اور خارجیوں کو سمجھ آگئی کہ یہ قوم عزاداری کے لئے بنی ہے اور یہ کسی صورت اس سے پیچھے ہٹ نہیں سکتی !!

ٹیگز
Back to top button
Close