دنیا

بے روزگاری سے فرانس حکومت پریشان، ویکسین تیار کرنے والے سربراہ فارغ

شیعت نیوز: کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا کے بہت سے ممالک میں صنعتیں تعطل کا شکار ہیں اور لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ میں کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے والے ادارے کے سربراہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

فرانس میں بھی پرائیویٹ سیکٹر یا نجی شعبے کی کمپنیوں کے ایک کروڑ سے زائد ملازمین بے روزگار ہوگئے ہیں۔

پرائیویٹ سیکٹر میں ہر دو میں سے ایک ملازم کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا ہے تاہم ان بے روزگار ملازمین کو بحران کے اس دور میں حکومت کی جانب سے معاوضہ دیا جا رہا ہے۔ حکومت نے بدھ کے روز یہ اطلاع دی ہے۔

فرانس کی محنت کشوں کی وزیر مورییل پینیکوڈ نے بی ایف ایم ٹیلیویژن کو بتایا کہ آج تک فرانس میں ایک کروڑ سے زیادہ ملازمین کو حکومت کی طرف سے تنخواہ دی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کرونا وائرس کا علاج ؛ سعودی عرب اور امارات میں اونٹ کا پیشاب اب ٹین کین میں دستیاب

انہوں نے کہا کہ تقریبا 8 لاکھ 20 ہزار ملازمین، یا یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہر دس میں سے چھ سے زیادہ افراد نے حکومت کے سماجی تحفظ کے پروگرام کے تحت درخواست دی ہے۔

واضح رہے کہ 17 مارچ کو جب فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے عام طور پر کاروبار بند کرنے اور ملک میں لوگوں کو گھر پر رہنے کی اجازت دینے کے حکم پر عمل درآمد کیا تھا تو انہوں نے زور دے کر کہا تھا کہ کسی بھی کمپنی کو دیوالیہ پن کے خطرہ میں نہیں چھوڑا جائے گا۔

صدر میکرون کی حکومت نے گزشتہ ہفتے اقتصادی ریلیف پیکیج میں 110 ارب یورو کا اضافہ کیا تھا۔

دوسری جانب امریکہ میں کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے والے ادارے کے سربراہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا تھا ملیریا کا مقابلہ کرنے والی دوا کورونا کے خلاف کارگر ہے جب کہ ڈاکٹر رک برائٹ نے کلوروکوئن سے متعلق صدر ٹرمپ کی رائے سے اختلاف کیا تھا۔

امریکہ میں کورونا ویکسین کی تیاری کرنے والی وفاقی ایجنسی کے سربراہ ڈاکٹر رک برائٹ کا کہنا ہے کہ اچانک ان کا تبادلہ بائیو میڈیکل اڈوانسٹد اینڈ ریسرچ اتھارٹی کے ڈپارٹمنٹ آف ہیلتھ ہیومن سروسز سے ہائیڈروکسی کلوروکوئن پر مزید تحقیق کے لیے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ میں کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سائنس سیاست یا اقربہ پروری کا نام نہیں ہے بلکہ سائنس کا شعبہ امریکیوں کی صحت اور ان کی حفاظت کے لیے ہے لیکن اس پر ٹرمپ نے ہمیشہ سیاست کی۔

ڈاکٹر رک برائٹ 2016 سے بائیو میڈیکل اڈوانسٹد اینڈ ریسرچ اتھارٹی کے سربراہ تھے اور انہوں نے انفلوئنزا اور ایمرجنگ انفیکشنز ڈیزیزز ڈویژن کی سربراہی بھی کی تھی۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close