دنیا

برطانوی پارلیمنٹ معطل، وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ

شیعت نیوز : برطانوی ملکہ نے وزیراعظم بورس جانسن کی درخواست پر 14 اکتوبر تک پارلیمنٹ معطل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس فیصلے سے ارکان پارلیمنٹ کے پاس اتنا وقت نہیں ہوگا کہ وہ یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے قانون سازی کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں : برطانیہ نے برصغیر سے نکلتے ہوئے جان بوجھ کر تنازع کشمیر کھڑا کیا۔ خامنہ ای

واضح رہے کہ 14 اکتوبر تک پارلیمنٹ معطل رہے گی جب کہ برطانیہ نے یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے 30 اکتوبر تک قانون سازی کرنی ہے کیوں کہ علیحدگی کی تاریخ 31 اکتوبر مقرر ہے۔

بورس جانسن نے اس حوالے سے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمان کی معطلی کے بعد ملکہ برطانیہ چودہ اکتوبر کو خطاب کریں گی۔

وزیراعظم کے فیصلے پر پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اپوزیشن میں شدید غصہ پایا جارہا ہے۔ قائد حزب اختلاف نے پارلیمنٹ کی معطلی کو جمہوریت پر حملہ قرار دیا ہے۔

اسپیکر اسمبلی جون بیرکاؤ کا کہنا تھا کہ بورس جانسن کے اقدام کا مقصد پارلیمنٹ کو بریگزٹ منصوبے اور اس کی روشنی میں ملک کے راستے کی ذمے داریوں کو زیر بحث لانے سے روکنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو معطل کرنا جمہوری عمل اور عوام کے منتخب کردہ پارلیمانی نمائندگان کے حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔

لیبر پارٹی کے رہنما جیرمی کاربائن نے بورس جانسن کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمان کی معطلی ناقابل قبول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی اور انہیں عوام کے سامنے جواب دینا ہوگا۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close