مشرق وسطی

بحرینی بادشاہ اور القاعدہ کے مابین قریبی تعاون کا پردہ فاش

قطر کے ٹی وی چینل الجزیرہ نے تازہ ترین دستاویزات اور شواہد منتشر کئے ہیں جن میں بحرین کی خفیہ ایجنسی نے 2003 میں القاعدہ دہشت گرد تنظیم کے ساتھ مل کر بحرین میں حکومت مخالفین کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا اور اس منصوبے میں بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسی کے براہ راست حکم سے بحرین کے تین اعلی اہلکار بھی شریک ہوئے۔ بحرینی حکومت نے مخالفین کو قتل کرانے کی ایک فہرست تیارکی جس میں مخالف رہنما عبد الوہاب حسین کانام بھی شامل تھا۔

رپورٹ کے مطابق بحرینی بادشاہ نے اس سلسلے میں سعودی عرب کے بادشاہ سے مطالبہ کیا کہ وہ بحرینی حکومت کےمخالفین کو قتل کرنے کے سلسلے میں تشکیل دی جانے والی ٹیم کی سرپرستی کے لئے القاعدہ کے رہنما محمد صالح کو آزاد کرے، جو اس وقت سعودی عرب کی قید میں تھا۔

بحرینی بادشاہ نے ایران میں سرگرم دہشت گرد ٹیم الفرقان کی بھی بھر پور حمایت کی اور اس سلسلے میں 2003 میں ہشام البلوچی کا ایران کے اندر دہشت گردی اور جاسوسی کے لئے انتخاب کیا جبکہ ایرانی سکیورٹی فورس نے الفرقان دہشت گرد تنظیم کے رہنما ہشام البلوچی کو 2015 میں ایک کارروائی کے دوران ہلاک کردیا تھا۔

الجزیرہ نے اپنے پروگرام میں البلوچی کو یہ کہتے ہوئے دکھایا ہے کہ بحرینی بادشاہ نے اسے 2003 میں ایران کے اندر دہشت گردانہ کارروائیوں اور جاسوسی کے لئے منتخب کیا ۔ ابھی تک بحرینی حکومت اور بادشاہ نے الجزیرہ سے نشر ہونے والی اس دستاویزی فلم کی تردید یا تائید کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

ذرائع کے مطابق بحرین کی ایران کے ساتھ عداوت کا سلسلہ جاری ہے اور بحرین، ایران میں عدم استحکام پیدا کرنے کے سلسلے میں امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close