اہم ترین خبریںپاکستان

بھارتی مظالم کے خلاف حمایت مظلومین کشمیر سیمینار کا متفقہ اعلامیہ جاری

شیعت نیوز : مقبوضہ کشمیر کی ابتر صورتحال اور بھارتی مظالم کے خلاف پچیس نمائندہ شیعہ تنظیموں، اداروں اور مدارس کے زیراہتمام اسلام آباد میں حمایت مظلومین کشمیر سیمینار منعقد ہوا۔ جامعۃ الرضاؑ اسلام آباد کے سربراہ علامہ حسنین گردیزی کی دعوت پر حمایت مظلومین کشمیر سیمینار میں شریک تمام جماعتوں، اداروں اور شخصیات نے اتفاق رائے سے مندرجہ ذیل اعلامیہ کی منظوری دی۔

بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ
وَ لَن یَّجعَلَ اللّٰہُ لِلکٰفِرِینَ عَلَی المُومِنِینَ سَبِیلًا
اللہ نے کافروں کے لیے مسلمانوں پر غالب آنے کی ہرگز کوئی سبیل نہیں رکھی ہے، (النساء:141)۔

1۔ فقہ اسلامی کے مطابق، جس پر تمام مسلمہ اسلامی مکاتب فکر کا اتفاق ہے، کسی بھی اسلامی سرزمین پر کفار و مشرکین کا تسلط اور قبضہ حرام ہے۔ بلاد مسلمین کا دفاع اور ان کو کفار و مشرکین کے تسلط سے آزاد رکھنا اور آزاد کروانا اہل ایمان پر فرض ہے۔ اگر حملے کے نشانے پر سرزمین اسلامی کے لوگ مدد کے محتاج ہوں تو سب سے پہلے دور کے مقابلے میں قریب ترین لوگوں پر سرزمین اسلامی کا دفاع کرنے والے مجاہدین اور مسلمانوں کی مدد و نصرت کرنا فرض ہے۔ اس لحاظ سے حریت و آزادی کی مقدس جنگ لڑنے والے مسلمانان کشمیر کی مدد کرنا سب سے پہلے مسلمانان پاکستان اور حکومت پاکستان پر فرض بنتا ہے۔ ہم پاکستانی جن میں اس ملک کے نامور علماء، ملک گیر اور علاقائی تنظیمیں اور شخصیات شامل ہیں اور جو ملک بھر کے شیعہ عوام کی نمائندگی کرتے ہیں، نیز دیگر شریک افراد مسلمانان کشمیر کی جدوجہد آزادی کو ہر ضروری اور ہر ممکن مدد و نصرت کرنے کا عہد کرتے ہیں۔ ہم پاکستان کے تمام مسلمانوں اور بطور خاص حکومت پاکستان سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ جدوجہد آزادی میں مسلمانان کشمیر کی مدد کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کرے۔

یہ بھی پڑھیں : عمران خان کا کشمیر کے مسئلہ پر آخری حد تک جانے کا اعلان

2۔ اسلامی فریضہ کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرکے، اس کو مملکت خداداد پاکستان میں شامل کرنے کی عظیم اور مقدس جدوجہد کی مدد وحمایت کرنا ایسا قومی فرض ہے، جس سے بطور انسان،مسلمان اور پاکستانی ہم اغماض نہیں برت سکتے ہیں۔ ہم غیور پاکستانی عوام کے ساتھ ساتھ تمام قومی سرکاری اداروں اور خاص طور پر عساکر پاکستان سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پاکستان میں شامل ہونے کی آرزو میں قابض بھارتی افواج کے ہاتھوں بھیانک مظالم کا شکار مصروف جدوجہد مسلمانان کشمیر کی آزادی اور تکمیل پاکستان کی اس عظیم اور مقدس جدوجہد میں فعال اور نتیجہ خیز کردار ادا کریں۔

3۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر آزادی کشمیر کے لیے عسکری مزاحمت کی ضرورت ہو تو اس صورت میں آزادی کشمیر کےلئے آزادجموں و کشمیر کی سطح پر ایک قومی مزاحمتی فوج تشکیل دی جائے، جس کی تربیت اور جوش و جذبہ کی تعمیر عظیم پاکستانی فوج کی طرز پر ہو۔ اس صورت میں اس بات کا بھرپور خیال رکھا جائے کہ دہشت گردانہ اورمنفی فرقہ وارانہ رجحانات رکھنے والے جتھے ہر گز نہ پنپ پائیں۔

4۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پوری ریاست جموں و کشمیر کی آزادی اور پاکستان میں اس کی شمولیت تک آزاد جموں و کشمیراور گلگت بلتستان اور وہاں بسنے والے عوام کو پاکستان کے دیگر علاقوں اور لوگوں کے مساوی انتظامی آزادی اور شہری حقوق دیے جائیں۔ اس کے لیے لازم ہے کہ کشمیر پر پاکستان کے قومی موقف پر برقرار رہتے ہوئے اور ان علاقوں کی خصوصی حیثیت کا لحاظ رکھتے ہوئے ان دونوں انتظامی اکائیوں یعنی آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کو پاکستان کے وفاقی پارلیمان میں نمائندگی دی جائے تاکہ وفاق کی حکومت وانتظامیہ ان دو انتظامی علاقوں کے لیے بھی نمائندہ حیثیت اختیار کرے۔ یوں ہوجائے تو بین الاقوامی سطح پر آزادی، کشمیر کی وکالت کرتے ہوئے وفاق پاکستان کی اخلاقی حیثیت مضبوط سے مضبوط تر ہوجائے گی۔

5۔ ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سفارتی سطح پر مزید فعال ہواور برادر اسلامی ممالک اور دیگر دوست ممالک کو کشمیرمیں جاری جدوجہد آزادی کی حمایت کرنے پر آمادہ کرے۔

6۔ ہم کشمیر کاز کے لیے پاکستانی حکومت اور اہل حل و عقد کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہیں اور یہ واضح کرتے ہیں کہ کشمیر کی آزادی اور مظلوم کشمیریوں کو بھارتی  سامراج کے ظلم و استبداد سے نجات دلوانے کی ہر کوشش میں ہم ہراول دستے کا کردار ادا کریں گے۔

7۔ ہم بین الاقوامی اداروں اور دنیا کے بیشتر ممالک کی مسئلہ کشمیر پر خاموشی پر اظہار تشویش کرتے ہیں اور ان سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ بھارتی مظالم کے خلاف اپنی انسانی اور اخلاقی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے مظلوم کشمیریوں کی حمایت میں آواز بلند کریں۔ کوئی بھی قوم کسی بھی وقت دنیا میں مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے اور اسے باقی انسانیت کی مدد کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

8۔ جن عالمی اداروں، ممالک اور شخصیات نے کشمیری عوام کی حمایت کے لیے آواز بلند کی ہے ان کا ہم تہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔

9۔ پاکستان بھر کی مذہبی سیاسی جماعتوں ، اداروں اور سول سوسائٹی سے ہم اپیل کرتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر پر بھرپور اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور اس راستے میں کسی اور موضوع پر اختلاف کو حائل نہ ہونے دیں۔

10۔ ہم فلسطین کے مظلوم مسلمانوں سے بھی اپنی یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ناجائز و غاصب صیہونی حکومت کی طرف سے ان پر روا رکھے جانے والے مظالم کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں نیز مسلمانوں کے خلاف بھارتی اور صیہونی گٹھ جوڑ کی بھی مذمت کرتے ہیں۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close