اہم ترین خبریںپاکستان

گلگت بلتستان انتخابات میں سہ جماعتی اتحاد کی دھوم، بڑی خبر سامنے آگئی

آنے والے دنوں میں ان تینوں جماعتوں کے قائدین کی مشترکہ پریس کانفرنس بھی متوقع ہے ، جس میں جماعتیں الائنس کا باقائدہ اعلان کریں گی ۔

شیعیت نیوز: گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے آمدہ انتخابات 2020کے حوالے سے شیعیان حیدرکرارؑ کے لئے بڑی خبر سامنے آگئی ہے۔ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف ، مجلس وحدت مسلمین پاکستان اور اسلامی تحریک پاکستان کی اسلام آباد میں بڑی بیٹھک کا بڑا فیصلہ سامنے آگیا،ذرائع کے مطابق گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سہہ جماعتی اتحاد کو حتمی شکل دے دی گئی ہے ۔ایم ڈبلیوایم کے سربراہ علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے اس سہہ جماعتی اتحاد کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تحریک انصاف کی پوزیشن مستحکم ہونے سے ن لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کو تشویش لاحق ۔

تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان کی دو بڑی شیعہ مذہبی وسیاسی جماعتوں مجلس وحدت مسلمین اور اسلامی تحریک پاکستان کے ساتھ انتخابی اتحاد کی تشکیل کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے اپنی پوزیشن مضبوط کرلی ہے۔دونوں بڑی شیعہ جماعتوں اور حکمران جماعت تحریک انصاف کے ساتھ انتخابی اتحاد کی خبر کوملت جعفریہ نے خوش آئند قرار دیا ہےامید ظاہر کی ہے یہ اس اتحاد کے ثمرات قومی سطح پر بھی سامنے آئیں گے اور دونوں شیعہ جماعتوں کے قائدین اور کارکنان کے درمیان دوریوں اور رنجشوں کا خاتمہ ہوگا اور شیعہ قوم اپنے حقوق کے حصول کیلئے مشترکہ جدوجہد کا آغاز کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: کالعدم سپاہ صحابہ اور تحریک لبیک خادم لنگڑا گروپ کی نیو کراچی میں مسجد وامام بارگاہ نذرآتش کرنےکی کوشش

مجلس وحدت مسلمین تحریک انصاف کیساتھ مل کر گلگت بلتستان میں کچھ سیٹوں پر ایڈجسٹمنٹ کریگی جبکہ اسلامی تحریک گلگت میں کچھ سیٹوں پر ایڈجسٹمنٹ کریگی ، باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ حلقہ نمبر 2سکردو سے کاظم میثم مجلس وحدت مسلمین کے امیدوار ہونگےجبکہ حلقہ نمبر 5 نگر سے ڈاکٹرحاجی رضوان علی مجلس وحدت مسلمین کے امیدوار ہونگےان حلقوں میں تحریک انصاف اور تحریک اسلامی اپنے نمائندے کھڑانہیں کرینگےجبکہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان باقی تمام حلقوں میں اسلامی تحریک اور تحریک انصاف کی سپورٹ کرینگے۔

زرائع کا مزید کہنا تھا کہ اس کے علاوہ مجلس وحدت مسلمین کو ایک ٹیکنو کریٹ اور ایک خاتون نشست ملےگی،حلقہ 4 نگر سے باقر شیخ تحریک اسلامی کے امیدوار ہونگے جبکہ حلقہ نمبر 1 گلگت سے دیدار علی تحریک اسلامی کے امیدوار ہونگے۔ امید ہے کہ تحریک اسلامی کو بھی مجلس وحدت مسلمین کی طرح ٹیکنو کریٹ اور خاتون کی نشست ملے گی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں فسادات کیلئےفرقہ پرست مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب نے امریکاسے کتنے ڈالر پکڑے؟ تحقیقات کی جائیں

مذکورہ مذہبی جماعتوں کے حلقوں کے علاوہ دیگر تمام حلقوں میں دونوں مذہبی جماعتیں تحریک انصاف کے امیدواروں کے حق میںحمایت کا اعلان کریگی۔ 25 ستمبر تا 30 ستمبر کاغذات نامزدگی ہوگی 7 اکتوبر تک کاغذات کی جانچ پڑتال کی جائیگی اور 20 اکتوبرکو امیدواروں کی حتمی لسٹ آویزاں کی جائیگی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سہہ جماعتی اتحاد کی تشکیل کیلئےمجلس وحدت مسلمین پاکستان کی طرف سے جو اہم شرط رکھی گئی تھی وہ یہ ہے کہ تحریک انصاف پاکستان گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے اور وہاں کے عوام کو تمام تر بنیادی حقوق فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے۔

تحریک انصاف نے مجلس وحدت مسلمین کے رہنماؤں کو یقین دہانی کرادی کہ ان کے تمام مطالبات پر کام شروع ہو چکا ہے اور جلد وہاں کےعوام کو عبوری آئینی حیثیت سمیت تمام بنیادی حقوق فراہم کریں گے۔آنے والے دنوں میں ان تینوں جماعتوں کے قائدین کی مشترکہ پریس کانفرنس بھی متوقع ہے ، جس میں جماعتیں الائنس کا باقائدہ اعلان کریں گی ۔

یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر مجاورعلی رضوی، ہمت ، جرت ، بہادری اور وطن سے محبت کی ایک لازوال داستان جوآج مکمل ہوئی

اس سہ فریقی اتحاد کو کامیاب بنانے میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کےسیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نےکلیدی کردار اداکیا اور وہ اس سلسلے میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان کیساتھ کئی ملاقاتیں کر چکے تھے اور مسلسل رابطے میں تھے۔اس اتحاد کے بعد پی پی پی اور ن لیگ کو کڑے امتحان سامنا ہوگا، ماضی یہ دونوں برسر اقتدار جماعتیں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہیں ۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close