اہم ترین خبریںپاکستان

ملت جعفریہ کےبعد قائدین اہل سنت نےبھی بنیاداسلام بل کوغیرضروری قراردیکر مستردکردیا

جے یو پی کے اجلاس میں واضح کیا گیا کہ شیعہ اور سنی، اسلام کے دو الگ مسالک ہیں اور صدیوں سے برصغیر میں اپنے اپنے عقائد کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہیں

شیعیت نیوز: جمعیت علمائے پاکستان نیازی کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس قائد اہل سنت پیر معصوم شاہ نقوی کی زیر صدارت آن لائن منعقد ہوا۔ اجلاس میں موجودہ ملکی صورتحال پر غور کیا گیا اور پنجاب اسمبلی سے پاس ہونیوالے تحفظ بنیاد اسلام بل پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر ضروری قرار دیا گیا۔ مرکزی مجلس عاملہ نے بل کو مسترد کرتے ہوئے گورنر پنجاب سے اس پر دستخط نہ کرنے اور اسے اسمبلی کو واپس بھجوانے کی اپیل کی۔

اجلاس میں واضح کیا گیا کہ تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ کو اعتماد میں لئے بغیر بل منظور کرانا ملک کو فرقہ واریت کی آگ میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔ اسمبلی سے بل پاس ہونے سے فرقہ وارانہ کشیدگی کی فضا پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شیعہ سنی مکاتب فکر کے اکابرین پر زور دیا گیا کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تحمل اور مذاکرات کا راستہ اختیار کریں، تاریخ گواہ ہے کہ اکابرین اہلسنت نے بین المسالک ہم آہنگی اور اتحاد امت کیلئے فرقہ واریت کے زہر کا مقابلہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایم ڈبلیوایم نے محرم الحرام میں بنیاداسلام بل کی آڑمیں فرقہ وارانہ فسادات کا خدشہ ظاہرکردیا

پیر معصوم نقوی نے کہا کہ علامہ عبدالستار نیازی اور علامہ شاہ احمد نورانی نے ساری زندی اتحاد امت کیلئے وقف کی اور اتحاد امت کا بہترین فارمولا دیا کہ اپنا عقیدہ چھوڑو نہیں اور کسی کا عقیدہ چھیڑو نہیں۔ اجلاس میں ڈاکٹر امجد حسین چشتی، بابا محمد اسلم حیدری، پیر اعجاز چشتی فریدی، صاحبزادہ سید عقیل حیدر، مولانا عمر حیات حسینی، عدنان چودھری، پیر اعجاز رضوی، کرنل (ر) فاروق چودھری، پیر سید مناظر حسین گیلانی، چودھری ذوالفقار کالروکا، ملک نواز اور دیگر نے بھی شرکت کی۔

جے یو پی کے اجلاس میں واضح کیا گیا کہ شیعہ اور سنی، اسلام کے دو الگ مسالک ہیں اور صدیوں سے برصغیر میں اپنے اپنے عقائد کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہیں، پاکستان بنانے میں بھی دونوں مسالک نے مل کر کردار ادا کیا، آئین پاکستان تمام مذاہب اور اسلامی مسالک کو اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزارنے کی ضمانت دیتا ہے، کسی ایک کا نظریہ دوسرے پر ٹھونسنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

یہ بھی پڑھیں: سربراہ سنی تحریک کی توہین اہل بیتؑ بل کی حمایت،محرم میں حالات خراب کرانے کی دھمکی

اس لئے ہم دونوں مسالک کے اکابرین سے گزارش کرتے ہیں وہ اپنے عقائد و نظریات مساجد، مدارس اور امام بارگاہوں میں بیان کریں، پاکستان کے پُرامن ماحول کو خراب ہونے سے بچائیں، جس طرح پاکستان بنانے میں شیعہ و سنی اکٹھے تھے، اب پاکستان کو ملکر ہی آگے بڑھا سکتے ہیں۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب میں پیر معصوم نقوی نے واضح کیا کہ تکفیریت دہشتگردی کو ہوا دیتی ہے، لہذا ہمیں ہرحال میں خارجی تکفیری عناصر کا راستہ روکنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پیغام پاکستان بہترین قومی دستاویز ہے، اسے خراب کرنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں ہونی چاہیئے، غیر ضروری اور انتشار پیدا کرنیوالے بل پاکستان کو نقصان پہنچاتے ہیں، سوشل میڈیا اور پریس کانفرنس میں محاذ آرائی کا سلسلہ بند کیا جائے، موجودہ صورتحال میں قادیانیوں کے فائدہ اُٹھانے کا شدید خطرہ ہے، موجودہ صورتحال میں جو طبقہ سب سے زیادہ خوش ہے، وہ قادیانی اور یہودی ہیں، موجودہ صورتحال پر را اور دیگر پاکستان دشمن قوتیں فائدہ اُٹھا سکتی ہیں، اس لئے قانون نافذ کرنیوالے ادارے فوراً حرکت میں آئیں اور صورتحال پر قابو پائیں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close