دنیا

چلی کی پارلیمنٹ میں صیہونی خود مختاری کے خلاف قرارداد منظور، ٹیکساس میں مظاہرہ

شیعت نیوز : چلی کی پارلیمنٹ نے فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی خود مختاری کے قیام کے اعلان کے خلاف ایک قرارداد منظور کی ہے۔

اس قرار داد میں فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی ریاست کی خود مختاری کےقیام کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق چلی کی پارلیمنٹ میں منظور کی جانے والی قرارداد میں اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

درایں اثنا اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے چلی کی پارلیمنٹ کی قرارداد کا خیر مقدم کیا ہے۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایک بیان میں کہا کہ عالمی برادری نے فلسطینی سرزمین پر صہیونی ریاست کی خود مختاری کی سزشوں کو مسترد کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مزاحمتی فورسز کے راکٹ اسرائیلی شہروں کو تباہ کر سکتے ہیں۔ اسرائیلی اخبار

اس حوالے سے چلی کی پارلیمنٹ میں اسرائیلی توسیع پسندی کے خلاف قرارداد کی منظوری فلسطینی قوم کے دیرینہ اور اصولی موقف کی حمایت اور فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی سازشوں  کی مذمت قابل تحسین ہے۔

انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ فلسطینیوں کے خلاف جرائم اور فلسطینی اراضی پرقبضے کی صیہونی سازشوں پر اسرائیل پر اقتصادی پابندیاں عائد کرے۔

یہ بھی پڑھیں : مضبوط استقامت صیہونیوں کے لئے دردناک اور رسوا کن ہوگی۔ ھنیہ

دوسری جانب اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی اراضی کو الحاق کرنے کے منصوبے پر احتجاج کے طور پر درجنوں فلسطینیوں ، امریکی شہریوں اورسماجی کارکنوں نے اتوار کے روز ٹیکساس سٹی میں مظاہرہ کیا۔

مظاہرین نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں الحاق اور اسرائیل کی آبادکاری سرگرمی کی مذمت کرتے ہوئے فلسطین کے پرچم لہرائے  اور بینرز اٹھا  رکھے تھے۔

اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اعلان کیا تھا کہ جولائی 2020 میں الحاق شروع ہوجائے گا ، لیکن اسرائیلی حکومت کے اندر اور امریکی انتظامیہ کے ساتھ اختلاف رائے کی وجہ سے اس عمل کو ملتوی کردیا گیا ہے۔

 

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close