دنیا

چینی حکومت کی امریکی چکن اور پیپسی پر پابندی عائد

شیعت نیوز : کورونا کی نئی لہر روکنے کیلئے چین نے امریکی چکن اور پیپسی پر پابندی عائد کردی۔

دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی وبا کورونا وائرس نے 22 جون کی دوپہر تک جہاں دنیا بھر میں تقریبا 90 لاکھ افراد کو متاثر کردیا تھا، وہیں اس سے عالمی سطح پر 4 لاکھ 68 ہزار سے زائد ہلاکتیں بھی ہوچکی تھیں۔ جہاں اس وقت دنیا کے کئی ممالک کورونا کے کیسز بڑھنے کے باوجود لاک ڈاؤن میں نرمی لا رہے ہیں، وہیں چین نے کورونا کی نئی لہر کو روکنے کے لیے سختیاں کرنا شروع کردیں۔

چین نے کورونا کی نئی لہر کو روکنے کے لیے نہ صرف کھانے پینے کی مارکیٹیں بند کردیں بلکہ امریکہ سے چکن کی درآمد کو بھی روک دیا اور ساتھ ہی امریکی مشروب کمپنی پیپسی کو بھی عارضی طور پر بند کردیا۔

یہ بھی پڑھیں : ایران اسرائیل کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے، اسرائیلی چیف کا اعتراف

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دارالحکومت بیجنگ میں کورونا کی نئی لہر کو دیکھتے ہوئے حکام نے نہ صرف امریکہ سے چکن کی درآمد کو بھی عارضی طور پر بند کردیا بلکہ ملک میں موجود پیپسی کی فیکٹری کو بھی بند کردیا۔

رپورٹ کے مطابق چینی حکام نے بیجنگ میں حال ہی میں 20 لاکھ افراد کے ٹیسٹ کیے، جن میں سے 22 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی اور جن افراد میں وبا کی تشخیص ہوئی ان سب نے کسی نہ کسی طرح کی سرگرمیاں دارالحکومت کے ہول سیل مارکیٹ میں کی تھیں، جہاں روزہ مرہ کی اشیا فروخت ہوتی ہیں۔

چین کے محکمہ کسٹم جنرل ایڈمنسٹریشن نے تصدیق کی کہ بیجنگ میں نئے کیسز کی تصدیق کے بعد حکومت نے عارضی طور پر چین سے درآمد ہونے والی چکن پر پابندی عائد کردی۔ چینی حکام نے امریکی چکن کمپنی ٹائسن فوڈز پر عارضی طور پر پابندی عائد کردی اور ساتھ ہی حکام کو ہدایت کی گئی کہ اب تک مذکورہ کمپنی سے آنے والے چکن کو فروخت کے لیے پیش کرنے کے بجائے اسے حذف کرلیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب نے کورونا وائرس وبا کو بہانہ بنا کر حج کو بھی محدود کردیا

ٹائسن کمپنی چین میں سب سے زیادہ چکن درآمد کرنے والی کمپنی ہے اور امریکہ میں مذکورہ کمپنی کی فیکٹری کے متعدد ملازمین میں کورونا کی تشخیص کے بعد چینی حکومت نے امریکی چکن کی امپورٹ پر پابندی عائد کی۔

چینی عہدیداروں نے بیجنگ میں موجود امریکی مشروب کمپنی پیپسی کو پاپڑ کی فیکٹری کو بھی عارضی طور پر بند کرنے کی ہدایت کردی۔ پیپسی کو فیکٹری بند کرنے کی ہدایت اس وقت کی گئی جب کہ مذکورہ فیکٹری میں کام کرنے والے متعدد ملازمین میں کورونا کی تشخیص ہوئی۔

چینی حکومت نے یہ اقدامات ایک ایسے وقت میں اٹھائیں جب کہ مجموعی طور پر دارالحکومت بیجنگ میں گزشتہ چند دنوں میں 220 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ بیجنگ میں ظاہر ہونے والے زیادہ تر نئے کیسز فریش ہول سیل مارکیٹ میں آنے جانے، وہاں سے خریداری کرنے والے یا وہاں کام کرنے والے افراد میں رپورٹ کیے گئے۔ تازہ اشیا کی مارکیٹوں میں نئے کیسز کی لہر کے بعد چینی حکومت نے ملک بھر کی تازہ اشیا کی مارکیٹوں میں چکن، سبزی اور پھلوں سمیت دیگر چیزوں کی جانچ کرنے کا بھی آغاز کردیا ہے۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس کا آغاز بھی چین کے شہر ووہان سے دسمبر 2019 میں ہوا تھا، تاہم چین نے چند ہی ماہ میں کورونا پر قابو پالیا تھا اور وہاں پر متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 90 ہزار سے بھی کم جب کہ ہلاکتیں 5 ہزار تک ہیں۔ لیکن گزشتہ چند ہفتوں سے چین میں کورونا کی نئی لہر دیکھی جا رہی ہے اور حکام کو خدشہ ہے کہ اگر نئی لہر کو روکنے کے لیے بروقت سخت اقدامات نہ اٹھائے گئے تو حالات پہلے کی طرح قابو سے نکل جائیں گے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close