دنیا

چین اور ایران تعلقات کو متاثر کرنے کی امریکہ کی لاحاصل کوشش

شیعت نیوز : امریکہ کی ٹرمپ حکومت نے چین اور ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے، اس وقت تہران اور بیجنگ کے حالیہ سمجھوتے کے پیش نظر چین اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی نزدیکی سے واشنگٹن کے حکام کی تشویش اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ وہ تلملا اٹھے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپیؤ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تہران کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیاں بیجنگ کے خلاف بھی عائد کئے جانے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے فوکس نیوز سے گفتگو میں چین اور ایران کے پچیس سالہ اسٹریٹیجک سمجھوتے کے بارے میں کئے جانے والے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ یقینا وہ تمام پابندیاں جو ہم نے ایران کے خلاف عائد کی ہیں چین کی کمیونسٹ پارٹی اور اس ملک کے سرکاری اداروں اور کمپنیوں کے خلاف بھی عائد کی جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں : محرم الحرام سے قبل کے پی کے میں منظم شیعہ نسل کشی کی تیاری کا انکشاف

امریکی وزیر خارجہ نے یہ دعوی بھی کیا کہ ایران کے ساتھ چین کا اسٹریٹیجک تعاون مغربی ایشیا میں عدم استحکام اور اسرائیل، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے لئے خطرات لاحق ہونے کا باعث بنے گا۔

مائیک پمپیؤ کا یہ بیان چین اور ایران کے حالیہ سمجھوتے، ان دونوں ملکوں کے خلاف امریکی اقدامات اور پالیسیوں پر اثرانداز ہونے پر واشنگٹن کے حکام کی گہری تشویش کا ترجمان ہے جبکہ چین کے خلاف بھی ایران مخالف امریکی پابندیوں جیسی پابندیوں سے متعلق پمپیؤ کی غیر معمولی دھمکی پر عمل کئے جانے سے امریکہ اور چین کے تعلقات میں پائی جانے والی کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو جائے گی۔

امریکہ کی ٹرمپ حکومت نے چین اور ایران کے سلسلے میں ہمیشہ منفی اور دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا ہے۔دسمبر دو ہزار سترہ میں جاری کی جانے والی امریکہ کی قومی سلامتی کی اسٹریٹیجک دستاویزات میں چین کو امریکہ کے مفادات، اثرورسوخ اور امریکہ کی طاقت کے لئے ایک چیلنج قرار دیا گیا ہے۔

ایران کی سامراج مخالف ماہیت کی بنا پر امریکہ کی خصومت و دشمنی ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی اور اسلامی جمہوری نظام کے قیام کے وقت سے ہی جاری ہے اور گذشتہ بیالیس برس کے دوران امریکہ نے مختلف قسم کی سازشوں اور پابندیوں کے نفاذ سے ایران کے اس نظام کو کمزور و ناتواں بنانے کی ہرممکن کوشش کی ہے۔

وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے بین الاقوامی ایٹمی معاہدے سے علیحدگی اور ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسیوں کے دائرے میں امریکہ کی ان کوششوں میں تیزی آگئی ہے ۔اس وقت امریکہ کی دشمنی کا سامنا کرنے والے دو ملکوں کی حیثیت سے ایران اور چین، اپنے اسٹریٹیجک سمجھوتے کی بنیاد پر تمام شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور یقینی طور پر اس سمجھوتے کی تمام شقوں خاص طور سے اقتصادی اور تجارتی شقوں پر عمل درآمد سے امریکہ کا ایران مخالف اقتصادی دباؤ زیادہ بے اثر ہوگا۔

چنانچہ کیلیفورنیا یونیورسٹی کے پروفیسر رونی لیپشوٹز نے ایران اور چین کے اس سمجھوتے کو امریکا کے لئے ایک بڑا چیلنچ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ امریکہ اور چین کے بگڑتے ہوئے تعلقات کے پیش نظر یہ سمجھوتہ علاقے میں چین کا وسیع پیمانے پر اثرورسوخ بڑھنے کا باعث بنے گا۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بھی تہران اور بیجنگ کے پچیس سالہ سمجھوتے کی تفصیلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ سمجھوتہ مغربی ایشیا میں چین کا اثرورسوخ، اور امریکی پابندیوں کے مقابلے میں ایران کی اقتصادی طاقت مضبوط و مستحکم ہونے کا باعث بنے گا۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close