اہم ترین خبریںپاکستان کی اہم خبریں

کرونا وائرس سے گھبرانا نہیں ہے بلکہ احتیاط کرنی ہے،عمران خان

وزیر اعظم نے کہا کہ اس وائرس کے سبب معاشی معاملات میں بھی بگاڑ پیدا ہورہا ہے، بڑے عرصے بعد پاکستان کی برآمدات بڑھنا شروع ہوئی تھیں

شیعت نیوز: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے ملک میں افراتفری پھیل رہی ہے لیکن ہم نے 15 فروری کو ہی کورونا کے خلاف اقدامات کا فیصلہ کرلیا تھا، عوامی تکلیف سے فائدہ اٹھانے والوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔ وزیراعظم نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس میں مبتلا ہونے والوں میں سے 97 فیصد صحت یاب ہو جاتے ہیں صرف تین فیصد اموات کا امکان ہے دنیا بھر میں یہ وائرس پھیلا اور یہاں بھی پھیلنے کا امکان ہے لیکن ہمیں گھبرانے کے بجائے احتیاط کے ساتھ اس کا مقابلہ کرنا ہے۔

یہ بھی پٹھیں: آئی ایم ایف کی اربوں ڈالر امدادکی خاطر زائرین کو ذلیل وسواکیا جارہاہے،علامہ حمید امامی

عمران خان نے کہا کہ کورونا وائرس کے خلاف چین سے مسلسل رابطے میں ہیں، ہمارے زائرین ایران گئے تو وہاں سے انہیں کورونا وائرس لاحق ہوا جو کہ ملک میں پھیلا، میں بالخصوص بلوچستان حکومت اور فوج کو اس حوالے سے داد دیتا ہوں کہ انہوں نے ایران سے آنے والے زائرین کو قرنطینہ میں رکھا اور حالات سے بخوبی نمٹے۔

یہ بھی پٹھیں: حکومت چاہتی ہے کہ جن زائرین میں کرونا وائرس نہیں وہ بھی کرونا کے شکار ہو جائیں، عظمیٰ بخاری

وزیراعظم نے کہا کہ ہم اب تک 9 لاکھ افراد کو ایئرپورٹس پر اسکرین کرچکے ہیں، پہلا کیس پاکستان میں 26 فروری کو رپورٹ ہوا، ہمیں اندازہ تھا کہ یہ وائرس یہاں بھی تیزی سے پھیل سکتا ہے، 20 کیس سامنے آنے پر نیشنل سکیورٹی کا اجلاس بلاکر دنیا بھر کے کیسز کا جائزہ لیا کہ جیسا کہ چین کی صورتحال ہے اور اٹلی میں لاک ڈاؤن ہوا لیکن برطانیہ کی سوچ مختلف ہے اور امریکا نے بھی شروع میں کوئی قدم نہیں اٹھایا اور ایک دم پورے کے پورے شہر بند کردیئے، عمران خان نے کہا کہ ہم نے بھی سوچا کہ کورونا وائرس کے 20 کیس سامنے آگئے اس لئے شہر بند کردیا جائے لیکن میں قوم کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ایسے حالات نہیں جیسا کہ یورپ اور امریکا کے ہیں، یہاں 25 فیصد لوگ تو بالکل ہی غریب ہیں اور بقیہ لوگوں کی بھی معاشی مشکلات ہیں اگر ہم شہر کے شہر بند کردیں تو لوگ بھوک سے مرجائیں گے اس لئے ہمیں بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا۔

یہ بھی پٹھیں: ملعون لدھیانوی مشکل وقت میں بھی پاکستان دشمن سعودی ایجنڈے پر سرگرم

وزیراعظم نے کہا کہ اسی لئے ہم نے اسکول اور کالجز بند کئے، کمیٹی بنائی جو وزرا سے رابطے میں ہے، این ڈی ایم اے کو فعال کیا، آلات کا جائزہ لیا، ملک میں وینٹی لیٹرز کی کمی ہے اسی لئے فوری طور پر وینٹی لیٹرز کی تعداد بڑھانے کا حکم دیا، میڈیکل کی کورز کمیٹی مسلسل مشاورت کررہی ہے کہ دنیا میں کورونا کے خلاف کیا اقدامات کئے جارہے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ چین ہماری مدد کررہا ہے ہمیں چین سے سبق سیکھنا ہے کہ ہم کیسے اس وائرس سے لڑسکتے ہیں، صدر عارف علوی اسی ضمن میں چین گئے ہوئے ہیں، ہمیں دنیا کو دکھانا ہے کہ دنیا میں اس وائرس سے کیسے جنگ کی جارہی ہے، حکومت عوام کو آگاہ کرے گی کہ اس وائرس سے کیسے بچنا ہے۔

یہ بھی پٹھیں: حکومتی غفلت اور نا اہلی کے سبب تفتان بارڈر پر درجنوں زائرین کورونا وائرس میں مبتلا ، اہم رپورٹ

وزیر اعظم نے کہا کہ اس وائرس کے سبب معاشی معاملات میں بھی بگاڑ پیدا ہورہا ہے، بڑے عرصے بعد پاکستان کی برآمدات بڑھنا شروع ہوئی تھیں لیکن اب نظر آرہا ہے کہ اس پر منفی اثر پڑے گا، اسی طرح ملک میں شادی ہالز، ریستوران اور شاپنگ سینٹرز پر بھی اثر پڑے گا ہمیں معاشی معاملات کو بھی دیکھنا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ 97 فیصد کورونا وائرس کے مریض ٹھیک ہو جاتے ہیں عوام احتیاط کے طور پر زیادہ سے زیادہ وقت گھروں میں گزاریں، ملنا جلنا بند کریں اور ایک دوسرے سے مصافحہ کرنے سے گریز کریں، ہم مسلمان ہیں اور ہمارا ایمان ہے کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، نبیؐ کے فرمان پر عمل کرتے ہوئے قوم متحد رہے، ہم اس وبا کے خلاف جنگ ضرور جیتیں گے۔ عمران خان نے آخر میں علماء سے اپیل کی کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کو مشکل وقت میں احتیاط کی ہدایت کریں۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close