اہم ترین خبریںپاکستان

کرونا وائرس ،چین، افغانستان کو چھوڑ کرفقط ایرانی سرحد کی بندش باعث تشویش ہے، علامہ ساجدنقوی

بارڈر اور ائیرپورٹس پر ہنگامی بنیادوں پر وائرس کی تشخیص کا مؤثر انتظام کیا جائے۔

شیعت نیوز: شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ اور ملی یکجہتی کونسل کے نائب صدر علامہ سید ساجد علی نقوی نے ہمسایہ ملک ایران میں کرونا وائرس رپورٹ ہونے پر بلوچستان انتظامیہ کی جانب سے پاک ایران سرحد کو عارضی طور پر بند کئے جانے پر کہا کہ کرونا وائرس کی آڑ میں زائرین کو روکنا درست اقدام نہیں ہے۔ پڑوسی ممالک سے آنے والوں کی اسکریننگ و طبّی اطمینان لازم ہے، جس کیلئے بارڈر اور ائیرپورٹس پر ہنگامی بنیادوں پر وائرس کی تشخیص کا مؤثر انتظام کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: سابق ناظم کراچی نعمت اللہ خان کے انتقال پر ایم ڈبلیوایم رہنما علامہ باقرزیدی کا اظہارافسوس

انہوں نے کہا کہ بارڈر سیل کرنا مسئلہ کا حل نہیں بلکہ کرونا وائرس خطرے کے پیش نظر مسافروں کے مکمل چیک اپ و تسلی کے بعد آمدورفت میں رکاوٹ نہیں ہونی چاہیئے۔علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا تھا کہ وبائی مرض سے شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لئے اقدامات وقت کی اہم ضروت ہیں، لیکن چین اور افغانستان کی سرحد کو چھوڑ کر صرف پاک ایران سرحد کو بند کرنے سے عوام میں تشویس پائی جا رہی ہے اور بہت سے سوالات اور خدشات جنم لے رہے ہیں، جن کا خاتمہ ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایم ڈبلیوایم کے زیر اہتمام سکھرمیں سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کانفرنس کاشاندارانعقاد

علامہ ساجد نقوی کا کہنا ہے کہ ماہرین کا کہنا ہے کرونا سے متعلق مبالغہ آرائی کی جا رہی ہے، جس کا مقصد شہریوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کرنا اور تفتان بارڈر پر کرونا وائرس کے نام پر بے جا زائرین کو تنگ کرنا اور رکاوٹیں پیدا کرنا مقصود ہے، لہٰذا ذمہ داران کو چاہیئے کہ زائرین کے خدشات کو دور کیا جائے۔ وبائی امراض کے وائرس کو پھیلنے اور ملک میں آنے سے روکنے کے لئے جدید طبّی بنیادوں پر بچاؤ اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے پاک ایران جوائنٹ سینٹرل ہیلتھ یونٹ قائم کیا جائے، جو زائرین کی مکمل اسکریننگ کے بعد سرٹیفیکیٹ جاری کرے، تاکہ زائرین کی آمد و رفت میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو اور وہ باآسانی اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close