اہم ترین خبریںپاکستانسعودی عربشیعت نیوز اسپیشلمقالہ جات

کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں سعودی عرب کا کردار حصہ دوم

کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں سعودی عرب کا کردار حصہ دوم

 

کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں سعودی عرب کا کردار حصہ دوم.. ترکی کے وزیر داخلہ نے علی الاعلان رسمی طور پر کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں سعودی عرب کے کردار کو بے نقاب کیا ہے۔

انکا کہنا ہے کہ سعودی عرب سے جو ترک شہری وطن لوٹے تو ان میں کورونا وائرس پایا گیا جبکہ سعودی حکومت نے ترکی سمیت پوری دنیا کو بروقت اطلاع فراہم نہیں کی کہ سعودی عرب میں کورونا وائرس میں مبتلا مریض موجود ہیں۔

ترکی نے سعودی عرب کو ذمے دار قرار دیا

ہر ملک کے حکام پاکستان کے حکمرانوں کی طرح نہ تو ڈرپوک ہیں نہ ہی اتنے خود غرض کہ کوئی دوسرا ملک انکا قومی مجرم ہو اور اسکا نام تک نہ لے سکیں۔ سعودی عرب سے آنے والے پاکستانیوں میں بھی کورونا وائرس پایا گیا۔ حتیٰ کہ سعودی عرب سے کورونا وائرس میں مبتلا بعض پاکستانی بغیر کوارنٹین و ٹیسٹ کے اپنے گھروں کو پہنچے اور انتقال کرگئے۔

مگر پاکستانی ریاست نے سعودی عرب سے کوئی احتجاج ک نہ کیا۔

الٹا سعودی بادشاہت کے قصیدے بدستور دہراتے رہے۔ یعنی سعودی عرب، امارات اور امریکا نے جو ادھار، جو قرضے دیے، اسکے بدلے میں پاکستانی ریاست وحکومت کو کورونا وائرس کا مرض بھی ساتھ ہی اس شرط پر دے دیا کہ نام کسی اور کا لیں۔

اب یہ حکام سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مرس کورونا وائرس اور امریکا اور یورپ کے انفلوئنزا فلو وائرس کو پاکستان لانے والے اسکے اعداد و شمار چھپارہے ہیں۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں سعودی عرب کا کردار

الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔۔۔ سعودی اماراتی امریکی و یورپی لابی سے وابستہ حکام اور ہرکارے کورونا وائرس کا الزام زائرین اور ایران پر ڈال رہے ہیں۔ جبکہ حقیقت اسکے بالکل برعکس ہے۔

کیونکہ سچ تو یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کورونا وائرس سال 2012ع سے رپورٹ ہوتا آرہا ہے۔ اور اسکی گواہی عالمی ادارہ صحت بھی دیتا ہے۔

پاکستانی قوم ہشیار اور خبردار رہے۔ یہ امریکی زایونسٹ بلاک اور کارپوریٹوکریسی کی سازش ہے جس میں سعودی و اماراتی حکمران سہولت کار بنے ہوئے ہیں۔ امریکی سعودی اماراتی ڈکٹیشن پر زائرین اور ایران کو بدنام کیا گیا۔

متعصبانہ پالیسی

دیکھ لیں کہ اس متعصبانہ پالیسی کی وجہ سے دیوبندی تبلیغی اجتماع منعقد ہوا۔ جس میں دیگر ممالک سے بھی لوگ آکر شریک ہوئے اور ان میں بھی کورونا وائرس پایا گیا۔ اور تبلیغی جماعت کی ٹیمیں جس میں غیر ملکی بھی شامل ہیں، وہ ملک بھر میں پھیل کر یہ مرض پھیلاتے ہوئے پکڑے گئے ہیں۔ بجائے اسکے کہ وہ احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے، الٹا انہوں نے پولیس پر حملے کئے۔ یا پھر کوارنٹین سے راہ فرار اختیار کرگئے۔

چونکہ امریکی زایونسٹ بلاک، کارپوریٹوکریسی اور سعودی و اماراتی حکمران مل جل کر انسانیت کے خلاف اور اسلام و مسلمین کے خلاف یہ انسانیت دشمن کھیل کھیل رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے دوست سعودی و اماراتی حکمران خانہ کعبہ اور مساجد کو بند کرکے مسلمانوں کو اللہ سے اور اللہ کے گھر سے بھی مایوس کررہے ہیں تو ساتھ ہی اولیائے خدا کے مزارات جانے والوں کو بدنام بھی کررہے ہیں۔

ایران اور امریکا کا موازنہ

جو کہتے ہیں کہ ایران نے بروقت حفاظتی اقدامات نہ کئے جس کی وجہ سے ایران میں کورونا وائرس پھیل گیا تو ان سے سوال یہ ہے کہ امریکا کے سرکاری ادارے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن کے مطابق امریکا میں کورونا وائرس کا مرض 21جنوری 2020ع کو پہلی مرتبہ رپورٹ ہوا۔ تب سے امریکی حکومت نے ایسے کونسے اقدمات کئے جو ایران نے نہیں کئے!؟

حالانکہ ایران میں پہلا کیس 18فروری کو رپورٹ ہوا۔ عالمی ادارہ صحت کے نمائندہ برائے ایران نے بہترین مثالی اقداما ت کی وجہ سے ایران کو ماڈل ملک قراردیا۔ یعنی دوسرے ملک بھی ایران کی تقلید کریں۔ جبکہ پوری دنیا میں اس وقت کورونا وائرس میں مبتلا مریضو ں کی کل تعداد ساڑھے نو لاکھ سے زیادہ ہوچکی ہے۔ کورونا وائرس سے دنیا میں 49ہزار 2 سو زائد مریض مرچکے ہیں۔

یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد2لاکھ 16ہزار سے زائد ہوچکی ہے۔ اور اموات کی تعداد 5ہزر ایک سوچالیس 5140ہوچکی ہے۔

 

شیعہ زائرین براستہ تفتان بارڈر کراسنگ

ایک اور مرتبہ حقیقت کے اس پہلو پر غور فرمائیں کہ شیعہ زائرین جو براستہ تفتان بارڈر کراسنگ پاکستان لوٹے، وہ شروع سے ریاستی حکام کی تحویل میں رہے ہیں۔ پہلے ان کو تفتان میں کوارنٹین یعنی قرنطینہ میں رکھا گیا۔ پھر صوبائی حکومتوں نے انہیں قرنطینہ مراکز میں رکھا۔ یعنی جب زائرین کے علاوہ کسی کوحکومت نے براہ راست تحویل میں رکھ کر چیک ہی نہیں کیا تو کیسے پتہ چل سکتا تھا کہ کورونا وائرس پاکستان میں کون لایا۔؟

یہ تو سعودی عرب سے آنے والے ضلع مردان کے ایک فرد اور دبئی سے آنے والے ضلع ہنگو کی اموات سے پتہ چلا کہ مرض تو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے آچکا ہے۔ لیکن حیف ہے ان متعصب خود غرض ریاستی حکام پر کہ جن ممالک سے کورونا وائرس پاکستان آیا، ان ممالک کے ناموں کو بھی قوم سے اب تک چھپارہے ہیں۔

سعودی و اماراتی مفادات پر پاکستان قربان

پاکستان، پاکستانیوں اور انسانیت کے مفاد کو سعودی و اماراتی مفادات پر قربان کردیا گیا۔ حالانکہ جس طرح اسلام کو بدنام کرنے کے لئے امریکی بلاک نے سعودی حکمرانوں کی مدد سے افغانستان اور پاکستان میں مدارس اور تکفیری دہشت گرد گروہ بنائے، اسی طرح اب مسلمانوں کو اللہ اوراللہ کے اولیاء سے متنفر کرنے کے لئے سازشی کردار ادا کررہے ہیں۔

سعودی بادشاہ اور شہزادے خود تو عرب کی مقدس سرزمین پر فاحشہ خواتین کی رقص و سرود کی محفلیں کروارہے ہیں۔ مگر خانہ کعبہ اور روضہ رسول ﷺ کو مسلمانوں کے لئے بند کرچکے ہیں۔ اور ایران میں بھی بیماری اس لئے پھیلائی تاکہ لوگ امام رضا ع کے حرم مطھر نہ جاسکیں۔

مسلمانوں کو اللہ سے اوراللہ کے اولیاء سے متنفر کرنا

یعنی ایک طرف عام مسلمانوں کو اللہ سے اوراللہ کے اولیاء سے متنفر کررہے ہیں۔ تو دوسری طرف مسلمانوں کو اسی بحث میں الجھاکرمقلد، غیر مقلد، دیوبندی وہابی، حنفی، سنی، شیعہ کی بنیاد پر تقسیم کررہے ہیں۔

اور امریکی فنڈڈ ایکٹویسٹ افراد دین کا تمسخر اڑارہے ہیں۔ دین و مذہب کو سائنس کا دشمن ثابت کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

ایک ہی کھیل کی الگ الگ قسطیں

یہ ایک ہی کھیل کی الگ الگ قسطیں ہیں۔ ورنہ امریکا، اٹلی، اسپین، کینیڈا، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور خود مشرق وسطیٰ کے کورونا وائرس کی وجہ سے وہاں کے حکمرانوں،انکے مذہب،فرقوں اور انکی ناکامیوں پر بات کیوں نہیں کررہے!؟ انہوں نے ایسا کونسا کارنامہ انجام دے دیا ہے جو یہاں ڈھول پیٹ رہے ہیں!؟

جن لوگوں کو یہ کھلی حقیقت سمجھ نہیں آرہی وہ یہ دیکھ لیں کہ کورونا وائرس کے بعد ردعمل مختلف ہے۔ یعنی سعودی عرب کے کردار کو چھپایا جارہا ہے کہ کس طرح سعودیہ نے مسلمان ممالک سے آنے والوں کو کورونا وائرس میں مبتلا کرکے واپس بھیجا اور اطلاع تک نہ دی۔

اگر اطلاع دیتے تو دیگر ممالک بروقت اقدامات کرکے اس پر قابو پالیتے۔ کم سے کم یہ تو ہوتا کہ مریض ایئرپورٹ سے ہی سیدھا کوارنٹین مرکز منتقل کردیا جاتا۔ اور دیگر افراد کو کورونوا وائرس منتقل نہ کرتا۔ ایک اور مرتبہ ترکی نے سعودی عرب کے گھناؤنے کردارسے پردہ اٹھایا ہے۔ اللہ پاکستان کو بھی سعودی بادشاہت کے زرخرید ملازم حکمرانوں سے نجات دے۔

ایم ایس مہدی برائے شیعیت نیوزاسپیشل

کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں سعودی عرب کا کردار حصہ اول

کورونا وائرس یا امریکا کی حیاتیاتی و کیمیائی جنگ کا ہتھیار (حصہ اول)

Pakistan should follow Turkey in preventing Coronavirus spread

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close