مقالہ جات

پاراچنار میں داعش کے منڈلاتے خطرات

داعش کے نام سے دنیا کی نئی دہشتگرد تنظیم نے دنیا میں جگہ جگہ اپنی برانچیں کھولنے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں داعش کے حق میں وال چاکنگ، دفاتر کا قیام اور بھرتی پر مبنی مہمات کا سلسلہ جاری ہے۔ زیر نظر تحریر میں ہم دنیا کی بجائے پاکستان خصوصاً پاراچنار میں داعش کے نام سے جاری مہمات کا تجزیہ کررہے ہیں۔ بلا شک و شبہ وزیرستان میں پاک فوج کی طرف سے جاری آپریشن کے پورے ملک خصوصاً لوکل سطح پر مثبت نتائج سامنے آ چکے ہیں۔ اس سے انکار حقیقت سے انکار ہوگا۔ جسکا اعتراف ہمارے فوج کے سربراہ کے دورہ امریکہ کے دوران، خود امریکہ بہادر نے بھی کیا ہے جس نے اس سے قبل کبھی بھی پاک فوج پر اتنے اعتماد کا اظہار نہیں کیا ہے لیکن بعض امور ایسے ہوتے ہیں۔ جن کے حقیقت کا علم دور کے لوگوں کو کم ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ پاکستان میں بعض چیزیں ایسی ہیں جنکی حقیقت کا دنیا والوں کو خاص علم نہیں ہے۔ گذشتہ دنوں اپنے کچھ دوستوں کی دعوت پر پاراچنار کے دورے کے دوران حالات و واقعات کا جب اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا، تو حیرت کی انتہا نہ رہی۔ وہاں کی موجودہ صورتحال دیکھ کر مجھے ایک لطیفہ یاد آگیا۔

ایک پرانا لطیفہ:
کہتے ہیں ہیں کہ ایک میاں بیوی کے مابین، کھانے کی بعض چیزوں کے غائب ہونے کے معاملے پر روزانہ جھگڑا ہوا کرتا تھا۔ ایک دن جب معمول کے مطابق یا اس سے کچھ بڑھ کر، دو کلو گوشت غائب ہوگیا، اور سبب پوچھنے پر جب بیوی نے اپنی بلی کی طرف اشارہ کیا، تو میاں صاحب نے فورا بلی کو پکڑ کر ترازو میں رکھ کر تولا جو بمشکل دو کلو نکلی۔ بیوی سے پوچھا، بتاو یہ بلی ہے یا گوشت، اگر بلی ہے تو گوشت کہاں گیا، اور اگر یہ گوشت ہے تو بلی کہاں گئی۔

کیا فوج واقعا سنجیدہ ہے؟
بات ہو رہی تھی پاراچنار کی موجودہ صورتحال کی، اپنے دورے کے دوران جگہ جگہ، کھلے عام دہشتگردوں کی سرگرمیاں دیکھ کر ذہن میں یہ سوال اٹھ گیا کہ کیا وزیرستان میں جاری آپریشن واقعی سنجیدہ ہے، کیا واقعی فوج ملک کو دہشتگردوں سے پاک کرنا چاہتی ہے، انہیں واقعا دہشتگردوں کی تلاش ہے، بے شک وہاں تو فوج کے خوف سے دہشتگرد بھاگ چکے ہونگے لیکن یہاں پاراچنار میں سب سے پہلے یہی دیکھنے کو ملا کہ یہاں حکومت کو علاقے پر بھرپور کنٹرول حاصل ہے، علاقے کے لوگوں کا بھی حکومت کو مکمل تعاون حاصل ہے۔ یہ بھی دیکھا کہ مقامی نہایت امن پسند شہریوں کو جگہ جگہ پھاٹکوں پر اتار کر جامہ تلاشی کی جاتی ہے، اور اس دوران چھوٹا بڑا اسلحہ تو درکنار، چاقو حتی کہ ناخن تراش لے جانے کی اجازت نہیں۔ اس دوران بلی والا لطیفہ یاد آکر یہ سوال پیدا ہوا کہ دہشگردوں کا صفایا کرنے میں فوج واقعا اگر سنجیدہ ہے تو داڑھیوں والے، مسلح ڈراونے یہ نان لولکل جنات یہاں کیا کررہے ہیں، اور کس مرض کی دوا کے طور پر انہیں یہاں کھلا چھوڑا جا چکا ہے۔ اگر یہ دہشتگرد نہیں، فوجی ہیں تو فوجی لباس پہن کر علاقے کا تعاون کیوں حاصل نہیں کیا جاتا، کیونکہ یہاں کے لوگوں کو سب سے بڑھ کر میں نے محب وطن پایا۔ اگر یہ ڈراونے جنات طالبان یا داعش نہیں، فوجی ہیں تو علاقے کے عوام کو مطلع کرنے کے علاوہ انکا تعاون بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

آہریشن وزیرستان میں، سزا پاراچنار کو:
میرے خیال میں پورے پاکستان یا کم از کم وزیرستان کے تمام دہشتگردوں کو محفوظ راستہ دیکر اس طرف بھیجا گیا ہے۔ لوئر کرم کے علاقے چھپری سے لیکر بھگن اور صدہ تک تو داعش (سابقہ طالبان) کی نقل و حرکت کا کیا کہنا کہ یہ تو انکے ہم فکر و ہم خیال اقوام کے علاقے ہیں، بلکہ حیرانگی کی بات یہ کہ 2007ء سے آج تک ان شرپسندوں کے ساتھ برسرپیکار طوری بنگش قبائل کے علاقوں میں بھی انکی نقل و حرکت میں کوئی کمی نہیں دیکھی۔ علاقے کے لوگوں سے معلومات کرنے پر معلوم ہوا کہ وزیرستان آپریشن کے بعد سے اس علاقے میں ان لوگوں کی سرگرمیاں کھلم کھلا شروع ہوچکی ہیں۔

علاقائی عوام کے تاثرات:
جگہ جگہ عوام، خصوصا تعلیم یافتہ افراد سے جب رابطہ کیا گیا۔ تو انکا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کا کچھ پتہ نہیں چلتا کہ یہ ہماری دوست ہے یا مخالف، طالبان کا دشمن ہے یا اسکا مربی (پالنے والا)۔ ساجد حسین ایم اے پولیٹیکل سائنس کا کہنا تھا کہ حکومت عوام میں پہلے طالبان جبکہ آجکل داعش کے نام پر لوگوں میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ حکومت نے سال ڈیڑھ سال قبل پاراچنار کے مشرق میں واقع کڑمان کے لوگوں سے کہا تھا کہ ایف آر (سنٹرل کرم) کی طرف سے طالبان آرہے ہیں، چنانچہ تم لوگ یہ علاقہ خالی کرو۔ جس پر علاقے کے عوام نے جواب دیا کہ انہیں ہم پر چھوڑ دو۔ آپ اپنی توانائی بھی ریزرو رکھو، طالبان جانیں، ہمارا کام جانیں، ہم انہیں جانتے ہیں اور وہ ہمیں۔ جس پر حکومت خاموش ہوگئی۔

انکا مزید کہنا تھا کہ آج ایک بار پھر داعش کے نام سے ہمارے قبائل کو ڈرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ جگہ جگہ داعش کے نام پر پمفلٹ پھینکے جا رہے ہیں۔ صدہ اور لوئر کرم سے کمانڈروں اور انکے لشکروں کے نام وائس آف امریکہ سے نشر کئے جا رہے ہیں جبکہ حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ علاقے بلکہ ملکی سطح پر یہاں کے موثر ترین سیاسی اور مذہبی شخصیت سابق سینیٹر علامہ سید عابد حسین الحسینی سے جب رابطہ کیا گیا تو اس حوالے سے انکا کہنا تھا کہ داعش فقط نام ہے، یہ وہی پرانے بھگوڑے ہیں، جو یہاں ناکوں چنے چبوا چکے ہیں، اور جو کبھی طالبان ہوا کرتے ہیں، کبھی لشکر جھنگوی بن جاتے ہیں، کبھی جند اللہ کبھی کچھ اور کبھی کچھ۔ میرے خیال میں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں، تاہم پوری ملت تشیع خصوصاً اہلیان پاراچنار کو ھر دم تیار رہنا چاہیئے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ قوم اپنے تمام تر اختلافات بھلا کر متحد رہے، قوم متحد ہو تو دشمن کچھ بھی نہیں کرسکتا اور جہاں تک حکومت کا تعلق ہے، تو اس سے خیر کی کوئی امید نہیں، اس نے تو ہمارے درمیان انتخابات کا شوشہ چھوڑا ہے، ہمیں آپس میں مشغول کرایا گیا ہے، حکومت کے ارادے خطرناک لگ رہے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت ہی کے اشارے پر علاقے کو ایک بار پھر آگ میں جھونکنے کی کوشش کی جائے گی اور داعش کے نام پر انہی پرانے یا کچھ نئے درندوں کو علاقے پر آزمایا جائے گا۔ تاہم اس سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بلکہ یہی کہنا کافی ہوگا کہ
؎ سو بار کرچکا ہے تو امتحان ہمارا

حاجی اصغر حسین کا اس سلسلے میں کہنا تھا کہ کرم ایجنسی میں 2007ء کی طرح ایک بحران شروع ہو چکا ہے۔ اس زمانے میں بھی جنگ سے کچھ عرصہ قبل دھماکے، ڈکیتی، کھلے عام بچوں اور گاڑیوں کے اغوا وغیرہ جیسی کاروائیاں کی جاتی تھیں۔ آج ایک بار پھر بالکل اسی انداز میں علاقے میں وہی کچھ ہو رہا ہے، دھماکے ہو رہے ہیں۔ ہم اپنے علاقے میں چاقو تک نہیں لے جاسکتے جبکہ یہ لوگ ہمارے علاقے میں اسلحے کی کھلم کھلا نمائش کرتے ہیں۔ سرکاری پھاٹکوں سے بلا روک ٹوک گزرتے ہیں۔ سمجھ تو یہی آرہا ہے کہ یہ سب کچھ ہماری سرکار ہی کا کرتا دھرتا ہے۔

سید ضامن حسین کا کہنا تھا کہ دو دن قبل ٹل پاراچنار روڈ پر گورنمنٹ اسرار شہید ہائی سکول کے پاس میں کھڑا تھا کہ اس دوران بڑی بڑی گاڑیاں گزرتی ہوئی دکھائی دیں۔ جن پر اسلحہ اور جدید ساز و سامان لدا ہوا تھا۔ اسکے دوسرے ساتھی نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ اس وقت میں بھی موجود تھا، مجھے ریڈار سسٹم لگ رہا تھا۔ پہلے تو میں نے یہ سمجھا کہ یہ سامان آرمی قلعے کی طرف لئے جا رہے ہونگے، لیکن بعد میں کسی نے بتایا کہ آرمی قلعے سے آگے اسے شلوزان تنگی کی جانب لے جایا گیا۔
میرے ایک علاقائی دوست نے مجھے شلوزان سے تعلق رکھنے والے جعفر حسین صاحب سے ملایا۔ انکا کہنا تھا کہ گذشتہ روز میں لکڑی کاٹنے شلوزان تنگی گیا تھا۔ وہاں بالکل نئے چہروں کے علاوہ دیکھا کہ جگہ جگہ جدید اسلحہ اور جدید ساز و سامان نصب کیا جا چکا ہے۔ اس حوالے سے بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء پر حکومت پاکستان داعش کی شکل میں کچھ کرنے والا ہے۔ داعش تو فقط نام ہوگا۔ فوج پاکستانی ہوگی۔ نام داعش کا چلے گا۔ خیواص اور شلوزان تنگی میں آباد کاری پر حکومتی اصرار اور پھر تیزی سے اس پر عمل درآمد سے دال میں کچھ کالا نظر آرہا ہے۔

سپینہ شگہ کی اسٹریٹیجک اہمیت:
مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ شلوزان تنگی اور سپینہ شگہ جو شلوزان تنگی کے ساتھ ہی ہے، اسٹریٹیجک حوالے سے بہت اہمیت کے حامل علاقے ہیں۔ جہاں 1980ء کے عشرے میں گلبدین حکمتیار اور عبدالرسول سیاف کے ہیڈ کوارٹرز قائم تھے۔ ایک سرکاری اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ اس وقت غوز گڑھی، متہ سنگر، تری منگل اور شلوزان تنگی میں داعش کی ایک بڑی تعداد جمع ہو چکی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق انکی تعداد بیس ہزار کے لگ بھگ ہوگی۔ انکا کہنا تھا کہ ان علاقوں کے لوگ شروع میں خوش فہمی میں مبتلا تھے، لیکن اب انکا اپنا سارا اختیار چھن گیا ہے۔ کسی شخص پر شک ہو جائے، تو اسے کھلے عام گولیاں مار کر قتل کردیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے علاقے کے ایک اہم سردار کا نام بھی لیا، جسے اسی طرح شک کی بنا پر قتل کیا گیا تھا۔

علاقے کے لوگوں کے مابین نفاق
دوسری جانب مقامی لوگوں یعنی طوری بنگش اقوام کا نفاق دیکھ کر دل خون کے آنسو رونے لگا۔ کوئی سید اور غیر سید کی بات کرتا ہے تو کوئی کسی اور تفریق کی۔ کچھ ہی سنجیدہ لوگوں کے علاوہ سب کے سب، قومیت اور اندرونی فرقہ پرستی میں مبتلا ہیں۔ بندہ نے چند اہم افراد سے ملنے کی کوشش کی تاکہ اس لعنت سے جان چھڑائے لیکن جو سنجیدہ تھے، معاملات انکے بس میں نہیں تھے۔ جو صاحب اختیار تھے وہ بات سننے بلکہ ملاقات تک کرنے سے منکر تھے۔

اہلیان کرم کے نام پیغام
زیر نظر تحریر میں اہلیان کرم سے صرف اتنا ہی عرض کیا جاتا ہے کہ انتخابات کو ڈیڑھ سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ انتخابات اور امیدواروں کو اب بھول جاو بلکہ موجودہ آفت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جاو اور دشمن کا مقابلہ اسی انداز میں کرو جو تم لوگوں نے 2007ء اور اسکے بعد کئی سالوں تک کیا تھا۔

معزز قارئین کرام طیفور بلتی اسلام ٹائمز کے تجزیہ نگار ہیں۔ طالبان کی سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہیں۔ طالبان زدہ علاقوں میں جاکر وہاں کے حالات کا تجزیہ و تحلیل کرتے ہیں۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

یہ بھی ملاحظہ کریں

Close
Back to top button
Close