دنیا

دہلی میں مسلم کش فسادات میں مرنے والوں کی تعداد23 ہوگئی، یو این کا اظہار تشویش

شیعت نیوز: بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف رونما ہونے والے مسلم کش فسادات میں اب تک مرنے والوں کی تعداد 23 ہوگئی ہے۔

علاقے میں دفعہ 144 نافذ ہونے کے باوجود بھی گوکل پوری میں آج صبح کچھ ہندو انتہا پسندوں نے ایک دکان میں آگ لگا دی۔

پورے ضلع میں اضافی سکیورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے اور پولیس کے اعلی افسران مسلسل حالات پر نظر بنائے ہوئے ہیں لیکن حالات اب بھی کشیدہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : مودی نے بھارت کو انتہا پسند اور دہشت گرد ریاست بنا دیا ہے، صاحبزادہ حامد رضا

گرو تیغ بہادر اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سنیل کمار گوتم کے مطابق 189 زخمی افراد کو اسپتال میں داخل کرایا گیا جس میں سے23 لوگوں کی موت واقع ہوچکی ہے۔

دہلی میں ہونے والے تشدد پر بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے ٹویٹ کیا ہے کہ پولیس اور تمام ایجنسیاں مل کر امن قائم کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔

انہوں نے لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی بھی اپیل کی ہے۔ ادھر تشدد کے بعد دہشت کی فضا برقرار ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق برج پوری میں لوگوں نے کمبے کے ساتھ گھر چھوڑنا شروع کردیا ہے۔

دوسری طرف اقوام متحدہ نے بھارت کے دارالحکومت دہلی میں مسلم کش فسادات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی حکومت سے مسلمانوں کا قتل عام بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دہلی میں جاری فسادات پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان نے بیان جاری کر دیا ہے جس میں کہا گیاہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹر ی جنرل نے دہلی کہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے ، مظاہرین کو پر امن احتجاج کا موقع فراہم کیا جائے ، سکیورٹی فورسز تحمل کا مظاہرہ کریں ، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں ۔

دہلی میں جاری مسلم کش فسادات میں اب تک 23 افراد شہید ہو چکے ہیں جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں املاک کو نظر آتش کیا جاچکا ہے جبکہ بھارتی حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ دہلی پولیس ہندو دہشت گردوں کے ساتھ ملکر مسلمانوں کا قتل عام کررہی ہے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close