اہم ترین خبریںپاکستان

ڈاکٹر مجاورعلی رضوی، ہمت ، جرت ، بہادری اور وطن سے محبت کی ایک لازوال داستان جوآج مکمل ہوئی

تفصیلات کے مطابق دوسروں کو زندگی کی امید دلانے والا ، مریضوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے والا ڈاکٹرمجاور رضوی جو خود عرصہ 20سال اپنے پیروں پر گھڑا نا ہوسکا لیکن آخری سانس تک مسیحائی کرتا رہااور خلق خدا کی خدمت میں مصروف رہتے ہوئے ایک متحرک زندگی کو متحرک موت سے متصل کرگیا۔

شیعیت نیوز: عزم وحوصلے، جرت وہمت ،بہادری وطن دوستی کی عظیم داستان رقم کرنے والے ڈاکٹر مجاور علی رضوی خالق حقیقی سے جا ملے، دو مرتبہ سعودی نواز کالعدم سپاہ صحابہ /لشکر جھنگوی کے سفاک دہشت گردوں کےحملے اور پانچ پانچ گولیاں اپنے سینے میں پیوست کروانے کے باوجود بفضل خدا زندہ رہنے والے اور طویل معذوری کے باجود دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروف یہ مسیحا آج اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق دوسروں کو زندگی کی امید دلانے والا ، مریضوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے والا ڈاکٹرمجاور رضوی جو خود عرصہ 20سال اپنے پیروں پر گھڑا نا ہوسکا لیکن آخری سانس تک مسیحائی کرتا رہااور خلق خدا کی خدمت میں مصروف رہتے ہوئے ایک متحرک زندگی کو متحرک موت سے متصل کرگیا۔

یہ بھی پڑھیں: شہیدوں نے ہماری نسلوں کو دشمن کے مقابلے میں شجاعت اور حوصلہ عطا کیا ہے: آیت اللہ خامنہ ای

کراچی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر مجاورعلی رضوی پرملک دشمن کالعدم سپاہ صحابہ /لشکر جھنگوی کے دہشت گردوں نے دو دفعہ حملہ کیا ۔پہلا حملہ ان پر ان کے کلینک جوکہ کورنگی میں واقع تھا اس میں کیا گیا ، تکفیری دہشت گردوںنے ان پر گولیوں کی بوچھوڑ کردی جس میں سے 4گولیاں ان کی سینے میں پیوست ہوئی ، لیکن مارنے والے سے بچانے والا خدا بہت بڑا ہے،اس حملے کی وجہ سے وہ پیرالائز ہوگئے لیکن کیا کہیں اس بہادر سپاہی کا جس نے اس کے بعد بھی ہمت نا ہاری اور اپنا فرض اپنے مریضوں کی خدمت عبادت سمجھ کر کرتا رہا ۔

یہ بھی پڑھیں: ملتان، تکفیریوں کی ریلی کا ثمر، 80سالہ اہل سنت بزرگ شہری پر توہین صحابہ کا جھوٹا مقدمہ درج

ڈاکٹر مجاور رضوی پر دوسرا حملہ جس کا کسی کو گمان بھی نہیں تھا جنوری 2002میں اس وقت ہوا جب ایک مریض کے روپ میں ٹارگٹ کلر اسٹریچر پر کلینک میں داخل ہوا اور کمبل میں سے پستول نکال کر ڈاکٹر مجاور پر گولیاں برسا دیں ، لیکن جسے خدا رکھے اسے کون چکھے،ڈاکٹر مجاور رضوی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہاتھاکہ اپنے والدین کی خواہش پر غریب علاقے میں کلینک کھولا تاکہ نادار انسانوں کی خدمت کرسکوں، جب آپریشن ٹیبل پر تھا بس ایک دعا تھی کہ اے خدا ابھی مجھے نا بلانا ابھی اپنے مولا حسین ؑ کی زیارت کا مشتاق ہوں، پھر اس نے مجھے تیسری بار زندگی عطا کی، آج یہ مجاہد کراچی میں اپنی آخری سانس لے کر مولا سے ملنے روانہ ہو گیا ۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close