یمن

متحدہ عرب امارات کو خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا

یمن کے خلاف جنگ میں شامل رہا تو اسے خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا

یمن کی تحریک انصار اللہ کے سربراہ عبدالملک الحوثی نے جمعرات کو ایک خطاب میں کہا ہے کہ اگر یمن کے خلاف متحدہ عرب امارات کی جارحیتیں جاری رہیں اور وہ یمن کے خلاف جنگ میں شامل رہا تو اسے خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

عبدالملک الحوثی نے متحدہ عرب امارات کو نصیحت کی ہے کہ وہ یمن سے پسپائی اختیار کرنے کے مسئلے میں سچائی سے کام لے کیونکہ ابوظبی کے حالات خاص طور سےاقتصادی صورت حال مناسب نہیں ہے۔

متحدہ عرب امارات یمن کے خلاف جارح سعودی اتحاد کا اصلی رکن ہے جس نے ملت یمن کے خلاف اب تک بےشمار جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے ابھی حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ یمن میں اپنے فوجیوں کی تعداد کم کردے گا۔ درایں اثنا یمن کی فوج اور رضاکار فورسز کی جوابی کارروائیوں میں سعودی اتحاد میں شامل درجنوں کرائے کے فوجی ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں

۔ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق یمن کی فوج اور رضا کار فورس نے بدھ کی شام صوبہ حجہ کے علاقے حرض کے مغرب میں سعودی عرب کے کرائے کے فوجیوں کے اڈوں پر زلزال ون اور کیٹوشا میزائلوں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں تیس سے زیادہ جارح فوجی ہلاک اور زخمی ہوگئے۔

سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور فوجی چھاؤنیوں پر یمنی فوج اور رضاکار فورس کے کامیاب میزائلی اور ڈرون حملے ریاض حکومت کے لئے ڈراؤنے خواب بن گئے ہیں۔

سعودی عرب امریکہ ، متحدہ عرب امارات اور کچھ دیگر ممالک کی مدد سے مارچ دوہزار پندرہ سے یمن کے خلاف فوجی جارحیت کے ساتھ ہی اس ملک کا بری ، بحری اور فضائی محاصرہ کئے ہوئے ہے۔ یمن میں جارح سعودی اتحاد کے وحشیانہ حملوں میں اب تک سولہ ہزار سے زیادہ یمنی شہری جاں بحق ، دسیوں ہزار زخمی اور لاکھوں افراد بےگھر اور دربدر ہوچکے ہیں۔سعودی حملوں اور محاصرے کے باعث اس غریب عرب ملک کو غذائی اشیاء اور دواؤں کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close