اہم ترین خبریںپاکستان

ہزاروں بے گناہ شیعہ سنی مسلمانوں کے قاتل احسان اللہ احسان کے ریاستی تحویل سے فرار کا انکشاف

حکومتی ذرائع نے اس معاملے پر واضح کیا کہ احسان اللّٰہ احسان نے 5 فروری 2017ء کو خود رضاکارانہ طور پر سرینڈر کیا تھا۔

شیعت نیوز: کالعدم تحریک طالبان کے سابق ترجمان اور آرمی پبلک اسکول کے معصوم بچوں اور ہزاروں شیعہ سنی مسلمانوں اور فوجی جوانوں کے قاتل بدنام زمانہ دہشت گرد احسان اللّٰہ احسان کی سرکاری تحویل سے فرار کی خبروں نے ملک بھر میں طوفان برپا کردیا ہے ۔ اس خبر نے جہاں 22کروڑ پاکستانیوں کو اضطراب میں مبتلا کررکھا ہے وہیں آرمی پبلک اسکول میں جام شہادت نوش کرنے والے سینکڑوں معصوم بچوں کے والدین پر بھر ایک ایک لمحہ قیامت بن کر گذررہا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: اسپیکر جی بی اسمبلی کی اراکین کے ہمراہ پریس کانفرنس، اجتماعی استعفے اور اسلام آباد لانگ مارچ کی دھمکی

دہشتگرد تنظیم کالعدم تحریک طالبان کے سابق ترجمان احساناللّٰہ احسان کی جانب سے سرکاری تحویل سے فرار ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر دیے گئے آڈیو پیغام کے معاملے پر حکومتی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ احسان اللّٰہ احسان نے ایک معاہدے کے تحت خود کو رضا کارانہ طور پر سرینڈر کیا تھا۔ سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے ایک آڈیو پیغام میں کالعدم تحریک طالبان کے سابق ترجمان احسان اللّٰہ احسان نے دعوی کیا کہ اب وہ سرکاری تحویل میں نہیں ہے اور فرار ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی پی پی کی طرح پی ٹی آئی کے آرڈرکو بھی جی بی کے عوام مسترد کرتے ہیں، شیخ نیئرعباس

حکومتی ذرائع نے اس معاملے پر واضح کیا کہ احسان اللّٰہ احسان نے 5 فروری 2017ء کو خود رضاکارانہ طور پر سرینڈر کیا تھا۔ سرینڈر کرنے کے بعد اس سے متعلق کوئی معلوماتی بیان سامنے نہیں آیا تھا۔ سرینڈر کے بعد ایک ٹی وی انٹرویو میں اس نے کئی اعتراف بھی کیے تھے۔ احسان اللّٰہ احسان سرینڈر کرنے سے قبل پاکستان میں بڑے پیمانے پر دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کے دعوے کر چکاہے۔ واضح رہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کی جانب سے آڈیو پیغام نشر ہونے کے بعد سے سوشل میڈیا پہ ایک طوفان برپا ہے جہاں حکومت اور اداروں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close