اہم ترین خبریںشیعت نیوز اسپیشلمقالہ جات

اھل بیت نبوۃؑ کی صداقت کبریٰ پر گواہ آیہ مباھلہ

اھل بیت نبوۃؑ کی صداقت کبریٰ پر گواہ آیہ مباھلہ

اھل بیت نبوۃؑ کی صداقت کبریٰ پر گواہ آیہ مباھلہ ہے.  اللہ کے کلام قرآن حکیم کی نورانی سورۃ آل عمران کی 61ویں آیہ مبارکہ ہے۔ مفسرین کی تفسیر کے مطابق یہ آیۃ صدیق اکبر خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیﷺ اور انکے اہل بیت نبوۃ اور نجران کے عیسائیوں کے مابین ایک واقعہ سے متعلق ہے جو سال 9ہجری 24ذی الحجہ کوپیش آیا۔

نجران کے نصاریٰ بزرگان اور آیہ مباہلہ سے متعلق صحیح حدیث

یوں تو سنی مکتب میں کی نظر میں صحاح ستہ کے عنوان سے احادیث پر مشتمل 6کتب زیادہ مشہور اور قابل قبول قرار دی جاتیں ہیں، لیکن صحیح بخاری اور صحیح مسلم کو اہل حدیث وہابی حنبلی سمیت تقریباً سبھی سنی مسالک معتبر سمجھتے ہیں۔  آیہ مباہلہ سے متعلق صحیح مسلم کی صحیح حدیث آج بھی بعض سنی علماء بیان کرتے ہیں۔ لیکن اس پر بعد میں، پہلے اس مسلک کی خدمت میں جو خود کو دیوبندی حنفی کہتا ہے۔

دیوبندی عالم کا اردو ترجمہ

انکے لیے آیہ مباہلہ کا اردو ترجمہ و تفسیر ذیل میں درج ہے۔ دیوبندی شیخ الہند مولوی

محمود الحسن نے سورہ آل عمران کی آیت اکسٹھ کا اردو ترجمہ یوں کیا ہے:

پھر جو کوئی جھگڑا کرے تجھ سے اس قصہ میں، بعد اسکے کہ آچکی تیرے پاس خبر سچی، تو، تو کہہ دے، آؤ، بلاویں ہم اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے، اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں، اور اپنی جان اور تمہاری جان، پھر التجا کریں ہم سب، اور لعنت کریں اللہ کی ان پر کہ جو جھوٹے ہیں۔

آیہ مباہلہ کی دیوبندی مکتب کے عالم کی تفسیر

آیہ مباہلہ کی تفسیر میں دیوبندی شیخ الاسلام مولوی شبیر احمد عثمانی نے لکھا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ نصاریٰ نجران اس قدر سمجھانے پر بھی اگر قائل نہ ہوں تو انکے ساتھ مباہلہ کرو۔ جس کی زیادہ موثر اور مکمل صورت یہ تجویز کی گئی کہ دونوں فریق اپنی جان سے اور اپنی اولاد حاضر ہوں اور خوب گڑگڑاکر دعا کریں کہ جو کوئی ہم میں جھوٹا ہے اس پر خدا کی لعنت اور عذاب پڑے۔

دیوبندی شیخ الاسلام مولوی شبیر احمد عثمانی کی تفسیر

قصہ مختصر یہ کہ مباہلہ کے چیلنج کے بعد صلح کی تجویز لے کر سرور و سردار انبیاء و رسل حضرت محمد ﷺ کی خدمت اقدس میں آرہے تھے۔ دیوبندی شیخ الاسلام مولوی شبیر احمد عثمانی کی تفسیر کے مطابق ”آپ (یعنی خاتم الانبیاء ص) حضرت حسن، حسین، فاطمہ، علی رضی اللہ عنہم کو ساتھ لیے باہر تشریف لارہے تھے۔

اہل بیت نبوۃ علیہم الصلوٰۃ والسلام کی صداقت کبریٰ پر گواہ آیہ مباہلہ ہے

شبیر عثمانی صاحب کی تفسیر کے مطابق یہ نورانی صورتیں دیکھ کر انکے لاٹ پادری نے کہا کہ میں ایسے پاک چہرے دیکھ رہا ہوں جن کی دعا پہاڑوں کو انکی جگہ سے سرکا سکتی ہے۔ ان سے مباہلہ کرکے ہلاک نہ ہو۔ ورنہ ایک بھی نصرانی زمین پر باقی نہ رہے گا۔ آخر انہوں نے مقابلہ چھوڑ کر جزیہ دینا قبول کیا اور صلح کرکے واپس چلے گئے۔ “

اھل بیت نبوۃؑ کی صداقت کبریٰ پر گواہ آیہ مباھلہ

دیوبندی شیخ الاسلام مولوی شبیر احمد عثمانی نے مزید لکھا کہ حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مباہلہ کرتے تو وادی آگ بن کر ان پر برستی۔ اور اللہ تعالیٰ نجران کا بالکل استیصال کردیتا۔
(حوالہ: صفحات 197 اور 198، تفسیر عثمانی جلد اول اشاعت سال 2000ع ناشر دارالاشاعت کراچی)

۔

پنجتن پاک کی عظمت سنی منابع سے ثابت

پاکستان کے بزرگ اہل حدیث عالم دین مولوی اسحاق اور ان کے بعد جواں سال عالم انجینیئر محمد علی مرزا نے بھی واضح طور پر آیہ مباہلہ کے موضوع پر سنی منابع سے ثابت کیا کہ اس آیت میں جو کہا گیا کہ اپنے بیٹوں، عورتوں اور جانوں (یعنی نفس) کو لاؤ اور ہم اپنے یعنی بیٹوں (ابنائنا)، عورتوں (نساء نا) اور نفوس (انفسنا) کو لاتے ہیں، اس سے مراد وہی مقدس ہستیاں ہیں جن کے نام ہم اوپر دیوبندی عالم شبیر عثمانی صاحب کی تفسیر کے حوالے سے بیان کرچکے۔

یعنی حضرت محمد ﷺ نے حسنین ؑ کریمین، ؑ جناب سیدہ بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور مولا امیر المومنین امام المتقین خلیفۃ المسلمین حضرت علی ؑ کو علی الترتیب بیٹوں، عورتوں اور جانوں کی اس کیٹگری کے طور پر ساتھ رکھا کہ جو سورہ آل عمران کی آیت نمبر 61میں ہے۔

شان علی ؑ میں تین باتیں رسول خدا (ﷺ)سے سنیں: سعد بن ابی وقاص

صحیح مسلم میں تحریر ہے کہ معاویہ بن ابوسفیان نے سعد بن ابی وقاص سے کہا کہ ابوتراب کو سب کرنے سے تجحے کونسی چیز مانع ہے؟۔ سعد بن ابی وقاص نے جواب دیا کہ میں نے شان علی ؑ میں تین باتیں رسول خدا (ﷺ)سے سنی تھیں، اسی لئے میں انہیں ہرگز سب و شتم نہیں کروں گا۔

اور اگر ان فضیلتوں میں سے مجھے ایک بھی حاصل ہوتی تو وہ مجھے سرخ آنکھوں والے اونٹوں سے زیادہ عزیز ہوتی۔

حدیث منزلت

(نمبر1)۔۔ایک غزوہ کے وقت رسول خدا (ﷺ) نے انہیں (علی ؑکو) مدینہ میں ٹھہرایا تو انہوں نے رسول خدا سے کہا تھا کیا آپ ص مجھے بچوں اور عورتوں میں چھوڑ کر جارہے ہیں؟۔

رسول خدا (ﷺ) نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارونؑ کو موسیٰ ؑ سے تھی۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ (صحیح مسلم)

خیبرشکن مولا علی

(نمبر2)۔ روز خیبر آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں پرچم ایسے مرد کو عطا کروں گاجو اللہ اور اسکے رسول ص سے محبت رکھتا ہوگا اور اللہ اور رسول ص اس سے محبت رکھتے ہوں گے۔

نمبر 3)۔ جب فمن حاجک فیہ من بعد ماجاء ک من العلم فقل تعالو ندع ابناء نا وابناء کم و نساء نا و نساء کم و انفسنا و انفسکم ثم نبتھل کی آیت نازل کی گئی تو رسول خدا (ﷺ) نے علی ؑ، فاطمہ ؑ، حسن ؑ اور حسین (علیہم السلام) کو بلایا اور کہا یہ میرے اہل بیت ہیں۔ (یہ تین فضیلتیں صحابی حضرت سعد بن ابی وقاص نے بیان کیں)۔

صحیح مسلم باب المناقب

صحیح مسلم باب المناقب میں یہ حدیث موجود ہے۔ جامع الترمذی (سنن ترمذی) میں بھی موجود ہے۔ صحیح مسلم میں درج روایت کا اردو ترجمہ علامہ وحید الزمان کا کردہ، انجینیئر محمد علی مرزا نے بھی پیش کیا۔

اللہ اور اللہ کے رسول محمد ختم المرسلین ﷺ نے متعدد مرتبہ اہل بیت نبوۃ کی فضیلت، عظمت اور ممتاز اعلیٰ و بالا مقام و مرتبہ اجاگر کیا۔ آیہ ولایت، آیہ اطاعت، آیہ تطہیر، آیہ مباہلہ سمیت متعدد آیات اور حدیث ثقلین، حدیث غدیر اور حدیث کساء سمیت متعدد احادیث خاندان عصمت و طہارت کی فضیلت پر تا قیامت گواہ ہیں۔ اور سورہ تحریم اس حقیقت کی گواہ کہ آیت تطھیر کی درست تفسیر حدیث کساء ہی ہے اور امہات المومنین آیہ تطہیر میں ہرگز شامل نہیں۔

عید مباہلہ منانے والے صرف شیعہ مسلمان کیوں!؟

احد اللہ عادل کی توحید و عدالت، ا زآدم تا خاتم الانبیاء نبوت اور حضرت محمد ﷺ پر ختم نبوۃ، اور بعد از ختم نبوۃ حضرت محمد ﷺ، از مولا امیر المومنین علیؑ ابن طالب ؑتا حضرت محمد مھدی ابن الحسن العسکری ؑ کی امامت(معصوم قیادت و رہبری) پر اصول دین کے عنوان سے ایمان ہی اصل اسلام ہے۔

اور اس امامت کے بعد ہی قیامت نے برپا ہونا ہے۔ قیامت بھی اصول دین کا حصہ ہے اور اس پر ایمان لانا بھی واجب (سنی اصطلاح میں فرض) ہے۔ اور ان اصول دین کے تحت جو فروع دین واجبات نماز پنجگانہ، روزے در ماہ رمضان، خمس و زکات، حج اور دیگر واجبات کی ادائیگی کرے، اسے اثناعشری(بارہ امامی) شیعہ مومن مسلمان کہتے ہیں۔ اور یہی وہ امت اسلامی ہے جو عید غدیر اور عید مباہلہ جوش و خروش سے مناتی ہے۔ عید مباہلہ منانے والے صرف شیعہ مسلمان کیوں!؟ یہ سوال ہمارے سنی بھائی خود سے پوچھیں اور اپنے مولویوں سے بھی پوچھیں۔

اھل بیت نبوۃؑ کی صداقت کبریٰ پر گواہ آیہ مباھلہ
Eid Mubahila in Shia Islam
جسے شک ہے وہ مباہلہ کرلے

جسے اس تحریر میں شک ہے وہ بھی مباہلہ کرسکتا ہے۔ جسے حدیث ثقلین کی صداقت پر شک ہے وہ بھی مباہلہ کرسکتا ہے۔ اور بعد از ختم نبوۃ ان مقدس ہستیوں یعنی مصداق آیات مباھلہ و تطھیرو ولایت و اطاعت (جن کے نام درج کیے گئے) پر اگر کوئی بھی کسی کو بھی افضل، برتر، حاکم اورمقدس تر قرار دیتا ہے، وہ اللہ، اللہ کے رسول، قرآن اور ان صحابہ کرام اور امہات المومنین کا منکر ہے جنہوں نے ان حقائق کو ایسے لوگوں سے بیان کیا کہ جن کے توسط سے یہ حقائق آج کی نسل کی دسترس میں ہیں۔

فسادی ناصبی مولویوں میں بھی دم خم ہے تومباھلہ کرلیں
اھل بیت نبوۃؑ کی صداقت کبریٰ پر گواہ آیہ مباھلہ

ایک اور مرتبہ دہرادیا جائے کہ جسے اس تحریر میں شک ہے یا جو کوئی بھی مذکورہ بالا عقیدہ رکھنے والے اثناعشری بارہ امامی شیعوں کو کافر اور رافضی کی تہمت لگاکرلوگوں کو گمراہ کرتا ہے اور جو اس جھوٹے الزام کی بنیاد پر شیعوں پر یہ جھوٹی تہمت کو دہراتا ہے اور حمایت کرتا ہے وہ بھی ہم سے مباہلہ کرسکتا ہے۔

صدیق اکبر حضرت محمد مصطفی ﷺ سمیت پنجتن پاک (علیہم الصلواۃ والسلام) کا ہرفرد صدیق اکبر ہے۔ اور صدیق اکبر ہی کو جھوٹوں پر لعنت کے لیے اللہ نے اپنے آخری رسول حضرت محمد ﷺ کے ذریعے رہتی دنیا تک کے لیے نام کے ساتھ پیش کردیا۔ تو کوئی ہے جو اطیعواللہ و اطیعوالرسول و اولی الامر منکم۔ فسادی ناصبی مولویوں میں بھی دم خم ہے تو مباہلہ کرلیں۔

محمد ابوذرمہدی برائے شیعیت نیوزاسپیشل
سعودی عرب کی خدمات برائے پاکستان و عالم اسلام
غدیری ولایت سے نظریہ پاکستان تک، علیؑ دا پہلا نمبر
اھل بیت نبوۃؑ کی صداقت کبریٰ پر گواہ آیہ مباھلہ
اھل بیت نبوۃؑ کی صداقت کبریٰ پر گواہ آیہ مباھلہ

 

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close