اہم ترین خبریںمقبوضہ فلسطین

اماراتی وزیرخارجہ اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے قیام کی لابنگ کررہے ہیں۔ حماس

شیعت نیوز: حماس کے ترجمان نے متحدہ عرب امارات کے وزیر برائے خارجہ امور انور قرقاش کے اس بیان پر کڑی نکتہ چینی کی ہے جس میں انہوں نے امارات اور اسرائیل کے درمیان دوستانہ تعلقات کے قیام کی حمایت پر زور دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایک بیان میں کہا کہ اماراتی وزیر انور قرقاش اسرائیلی ریاست کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے قیام کے لیے لابنگ کررہے ہیں۔ ان کی اسرائیل سے دوستی کی باتیں عرب ممالک کے متفقہ فیصلوں اور عرب لیگ کی قراردادوں کی صریح نفی ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ اماراتی وزیر کے بیان سے فلسطینی قوم کے زخموں پر نمک پاشی ہوئی ہے۔ اس طرح کے بیانات سے اسرائیلی ریاست مظلوم فلسطینی قوم پر مظالم کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور اسرائیل کو فلسطینی علاقوں بالخصوص غرب اردن، القدس اور دوسرے علاقوں پر قبضے اور نسل پرستی کا موقع ملتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اشرف جلالی کیخلاف شیعہ عمائدین سرگرم، شیعہ قوم جلالی کی پھانسی کی منتظر۔۔!!!

دوسری جانب حماس کے سیاسی شعبے کے نائب صدر صالح العاروری نے کہا ہے کہ ان کی جماعت غاصب صیہونی دشمن کے خلاف اور سلب شدہ حقوق کے حصول کے لیے جنگ سے بھی گریز نہیں کریں گے۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ فلسطینی قوم اپنے دیرینہ اور مسلمہ حقوق سے پسپائی کو نہیں جانتے۔ حماس اور فلسطینی قوم اپنے حقوق اور مطالبات کے حصول کے لیے لڑائی بھی کرے گی۔

صالح العاروری نے کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے اور فلسطین کے دوسرے علاقوں پر اسرائیلی ریاست کی عمل داری اور خود مختاری کا قیام ایک سازش ہے۔ فلسطینی قوم اور حماس اپنے ملک میں غیرملکی آباد کاروں کا وجود برداشت نہیں کرے گی۔ صیہونیوں کو فلسطین سے نکال باہر کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کریں گے۔

العاروری کا کہنا ہے کہ فلسطینی قوم کا مستقبل تاریک نہیں روشن ہے۔ حماس اور فلسطینی قوم آزادی کے حصول کےلیے ہرقربانی دینے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے حقوق کے حصول کے لیے ہرممکن کوشش جاری رکھیں گے۔ فلسطینی قوم اپنے حقوق کے دفاع اور پوری امہ کے دفاع کے لیے ہرطرح کی قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ غرب اردن میں دیڑھ ملین فلسطینی نوجوان ہیں۔ ان میں سے ہر ایک مسلح مزاحمت کے لیے تیار ہے۔ یہ فلسطینی نوجوان صیہونی دشمن کے خلاف مزاحمت کا طوفان اٹھا سکتے ہیں۔

فلسطینی اراضی کے الحاق کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل یکے بعد دیگرے فلسطینی اراضی پرامریکہ کی مدد سے قبضہ مستحکم کرنا چاہتا ہے۔صدی کی ڈیل، القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قراردینا اور اب غرب اردن کے علاقوں پراسرائیلی خود مختاری کے قیام کا فیصلہ امریکہ اور اسرائیل کا انتہائی خطرناک پروگرام ہے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close