کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
ایران

یورپی ممالک ایران کی دی گئی ساٹھ روز کی مہلت کو سنجیدگی سے لیں۔ بہروز کمال وندی

شیعت نیوز: ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے کے فریقوں کو ایران کی جانب سے ساٹھ روز کی جو مہلت دی گئی ہے اب اس میں توسیع نہیں ہوسکتی۔ اس درمیان پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ نے بھی کہا ہے کہ یورپی ملکوں کو چاہئے کہ وہ ایران کی جانب سے دی گئی ساٹھ روز کی مہلت کو سنجیدگی سے لیں۔

ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے ترجمان بہروز کمال وندی نے کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے کی بعض شقوں پرعمل درآمد کو معطل کرنے کا ایران کا فیصلہ ایرانی پارلیمنٹ کے پاس کردہ قانونی بل کے دائرے میں ہے اور یہ فیصلہ ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کے تعلق سے اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کے مناسب اور جوابی اقدام کے تحت کیا گیا ہے۔

یہ خبر بھی لازمی پڑھیں :یورینیم کی افزودگی دس دنوں میں جوہری ڈیل کی حد سے تجاوز کرے گی ۔ بہروز کمالوندی

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے پاس کردہ قانون کے مطابق تہران کے اقدام کا انحصار ایٹمی معاہدے کے دیگر فریقوں کے ذریعے اپنے وعدوں پر عمل کرنے کے طریقہ کار پر ہے اور یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک ملک تو اپنے وعدوں پر عمل کرے اور دیگر فریق کچھ بھی انجام نہ دیں۔

ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے ترجمان بہروز کمال وندی نے کہا کہ ایران کے مناسب جوابی اقدامات مسلسل اور ترتیب کے ساتھ انجام پا رہے ہیں اور پیچھے کی جانب پلٹنے کے حالات نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایٹمی معاہدے میں باقی بچے پانچ ممالک اگر چاہتے ہیں کہ ایران نے اپنے جن بعض وعدوں پر عمل درآمد کو معطل کردیا ہے ان پر دوبارہ کام شروع کردے تو ان ملکوں کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر اپنے وعدوں پر عمل کرنا شروع کردیں۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close