اہم ترین خبریںپاکستان

پاکستان میں فسادات کیلئےفرقہ پرست مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب نے امریکاسے کتنے ڈالر پکڑے؟ تحقیقات کی جائیں

اہل سنت کی ان دونوں شخصیات نے یہی موقف گزشتہ دنوں اسلام آباد میں اعلیٰ مقتدر ادارے کی دعوت پر ہونے والے ایک شیعہ سنی علماواکابرین کے مشترکہ اجلاس میں بھی دہرایا جس سےاجلاس کا ماحول خراب ہوا اور یہ دونوں شخصیات وہاں سے فرار ہوگئیں

شیعیت نیوز: پاکستان میں اہل سنت دیوبندی مکتب فکر اور بریلوی مکتب فکر کی شناخت سمجھی جانے والی اور مفتی اعظم پاکستان کے لقب سے مشہور دو نامور شخصیات یعنی مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمٰن مسلسل پاکستان میں بسنے والی دوسری بڑی اکثریت یعنی شیعہ مکتب فکر کے خلاف ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت پروپگینڈے میں مصروف عمل ہیں ، دونوں کا ہدف مشترک یہ ہے کہ کسی طرح ریاست پاکستان، اس کے مقتدر اداروں اور شخصیات کو یہ باور کروایا جائے کہ شیعیان حیدرکرارؑ کی جانب سے نکالے گئے جلوسوں پر پابندی عائد کی جائے اور ہم اہل سنت عرصہ 72سال سے شیعوں کو برداشت کررہے ہیں ۔

دیوبند مکتب فکر کے مفتی اعظم تقی عثمانی نےبارہا اپنے تقریراور تحریر میں اس با ت کا بر ملا اظہار کیا ہے کہ شیعہ مکتب میں عزاداری امام حسین ؑ کے جلوسوں کی کوئی شرعی حیثیت اور اہمیت نہیں لہذٰا انہیں بند یا محدود کیا جائے اس سے پاکستان کو معاشی طور پر شدید نقصان ہوتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: قانون کے ساتھ مزاق ! قومی سلامتی کا دشمن آفتاب نظیر ساتھیوں سمیت گرفتاری کے بعد ضمانت پر رہا

دوسری جانب بریلوی مکتب فکر کے مفتی اعظم منیب الرحمٰن مختلف فورمز پر شیعیان پاکستان کے ساتھ اپنے بغض و کینے کا اظہار یہ کہتے ہوئے کرتے ہیں کہ ہم اہل سنت عرصہ 72سال سے ان شیعوں کو برداشت کررہے ہیں، ان کی توہین آمیز رویے اور انہیں اب مزید برداشت نہیں کرسکتے۔

ذرائع کے مطابق اہل سنت کی ان دونوں شخصیات نے یہی موقف گزشتہ دنوں اسلام آباد میں اعلیٰ مقتدر ادارے کی دعوت پر ہونے والے ایک شیعہ سنی علماواکابرین کے مشترکہ اجلاس میں بھی دہرایا جس سےاجلاس کا ماحول خراب ہوا اور یہ دونوں شخصیات وہاں سے فرار ہوگئیں، اسے کہتے ہیں جوتوں سمیت آنکھوں میں گھسنا ۔ یہی مفتی تقی عثمانی ہیں جو عرصہ 40 سال سے پاکستان میں کالعدم جماعتوں کی پشت پناہی کرتے رہے ہیں، کورنگی کراچی میں ان کا درالعلوم ملک کے خطرناک تکفیری دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بنا رہا، یہ مفتی تقی عثمانی پاکستان اور افغانستان میں طالبان قیادتوں سے مزاکرات کرتے رہے ۔

یہ بھی پڑھیں: لشکر جھنگوی ملک اسحاق گروپ کی ٹارگٹ ہٹ لسٹ جاری، نامور شیعہ سنی علماءوصحافیوں کے نام شامل

یہ مفتی منیب الرحمٰن جو کہ بڑے پارسا بن کر شیعہ قوم کو برداشت کرنے کے دعوے کررہے ہیں یہ وہی ہیں جو ٹی وی ٹاک شوز میں نواسہ رسول ؐ امام حسین ؑ اور ان کے اصحاب و انصار کے قاتل یزید لعین کو قتل امام حسین ؑ میں بے قصور قرار دیکر کلین چٹ دیتے ہیں،ان کی موجودگی میں شہر کراچی کی اہم ترین شاہراہ پر شیعیان حیدر کرارؑ اور شیعہ مکتب کے معتبر شخصیات کے خلاف غلیظ زبان استعمال کی گئی، یہ وہی مفتی منیب الرحمٰن ہیں جنہوں نےفقط رویت ہلال کمیٹی میں اپنی ڈوبتی کرسی کو بچانے کیلئے وطن عزیز میں فرقہ واریت کی آگ کو ہوا دی ۔

مفتی منیب الرحمٰن کا یہ دعویٰ کے وہ شیعوں کو 72 برس سے برداشت کررہے ہیں درحقیقت, حقیقت کے منافی ہے پچھلے 40 سالوں میں کس کا خون اس ارض مقدس پر بہا یا گیا یہ سب پر واضح ہے۔ کون اس ریاست کے محا فظوں کے گلے کاٹ کر کے ان کو فٹ بال بنا کر ان سے کھیلتے رہے کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لنگرونیاز امام حسین ؑ سے ناصبی اہل سنت کو تکلیف، چکوال میں شیعہ عزادارخاندان پر مقدمہ درج

مفتی منیب الرحمٰن اکثریت کے نشے میں شیعہ قوم ، ریاست اور اس کے اداروں کو دبانےکی کوشش ترک کردیں، وہ شیعہ سنی جنگ کیلئے جس آگ کو تیل ڈال رہے ہیں اس سے پورا ملک جل کر خاکستر ہوجائے گا، پاکستان کی خیر خواہ قوتوں سے گزارش ہے کہ وطن عزیز کی سلامتی واستحکام کی خاطر نفرت اور شدت پسندرویوں کے حامل ان نام نہاد مفتیان کرام کو اپنی زبان میں سمجھائیں اور تحقیقات کریں کہ ہمارے قومی سلامتی کے اداروں کی اطلاعات کے مطابق امریکا اور اس کی اتحادی قوتوں کی جانب سے پاکستان کو فرقہ وارانہ فسادات کی آگ میں جھونکنے اور شیعہ سنی اختلافات کو ہوا دینے کیلئے جو 100 ملین ڈالر کی سرمایہ گزاری ہوئی ہے اس میں سے کتنے ڈالر ان دونوں فرقہ پرست مفتیوں نے حاصل کیئے ہیں۔

ہمارے مقتدر اداروں کی جانب سےان ملک دشمن فرقہ پرست مفتیان کرام کو ایک بات اور باور کروانے کی ضرورت ہے کہ جس پاکستان میں انہیں شیعوں کا وجود برداشت نہیں یہ پاکستان انہیں شیعوں کے اجداد قائد اعظم محمد علی جناح، راجہ صاحب محمود آباد، ابوالحسن اصفہانی،سیٹھ حبیب کے خون پسینے اور کمائی کی بدولت معرض وجود میں آیا تھا لہذٰا نمک ہلالی نہیں کرسکتے تو نمک حرامی بھی نا کی جائے ۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close