مقبوضہ فلسطین

غاصب اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے ایک اور فلسطینی نوجوان شہید

شیعت نیوز: فلسطین کے شہر رام اللہ کے شمال میں واقع ’’النبی صالح‘‘ نامی گاؤں میں غاصب اسرائیلی فوجیوں کی سیدھی فائرنگ کے باعث ایک اور فلسطینی نوجوان شہید ہو گیا ہے۔

فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ گاؤں النبی صالح میں سہ پہر جمعہ کے روز غاصب اسرائیلی فوجیوں نے ایک فلسطینی نوجوان کو اپنی بلااشتعال فائرنگ کا نشانہ بنا کر شدید زخمی کر دیا تھا جو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق غاصب اسرائیلی فوجیوں نے رام اللہ کے نواحی گاؤں النبی صالح پر جمعہ کے روز اپنے بلاجواز حملے کے دوران وہاں موجود ایک فلسطینی نوجوان کو سیدھی فائرنگ کا نشانہ بنا کے موت کے گھاٹ اتار دیا جس کے بعد غاصب اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے اس نوجوان پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ اپنی گاڑی کے ذریعے اسرائیلی فوجیوں کو کچلنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام شہری کابہیمانہ قتل، امریکہ میدان جنگ بن گیا

رپورٹ کے مطابق وقوعے کے بعد فلسطینی عوام کی جانب سے شدید احتجاج بھی کیا گیا۔

دوسری جانب اسرائیلی زندانوں میں قیدی فلسطینی شہری عیسیٰ العباسی کو گذشتہ روز 10 سال بعد رہا کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق عیسیٰ العباسی کے وکیل جاد القضمانی نے کہا کہ اسرائیلی پولیس نے ان کے موکل کی رہائی روکنے سے متعلق پرنظر ثانی کا فیـصلہ کیا اور اس کی رہائی کی حمایت کی تھی جس کے بعد اسے رہا کیا گیا ہے۔ رہائی سے قبل اسرائیلی حکام نے العباسی کے تین دن تک سلوان قصبے میں داخلے پرپابندی عائد کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ العباسی کو اسرائیلی فوج نے 30 مئی 2010ء کو حراست میں لیا اور اس پر یہودی آباد کاروں سے الجھنے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا۔ اس دوران اسرائیلی فوج نے العباسی کی والدہ عالیہ کو بھی حراست میں لیا تھا۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close