دنیا

غزہ کے اندر جاسوس بھرتی کرنا اب کہیں زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ صیہونی اخبار

شیعت نیوز : صیہونی اخبار ’’اسرائیل ہیوم‘‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں فلسطینی مزاحمتی فورس حماس کی انٹیلیجنس پاور کا اعتراف کرتے ہوئے حال ہی میں غزہ کے اندر سے غاصب صیہونی حکومت کے لئے جاسوسی کرنے والے ایک گروہ کے کھوج لگائے جانے اور گرفتاری پر تبصرہ کیا ہے۔

فلسطینی خبررساں ایجنسی شہاب کے مطابق اسرائیلی اخبار نے اس حوالے سے لکھا ہے کہ اسرائیلی انٹیلیجنس، غزہ کی پٹی سے اسرائیلی خروج کے بعد سے اس علاقے کے اندر اپنے جاسوس نیٹ ورک کو تشکیل دینے کی سرتوڑ کوششیں کر رہی ہے۔

اسرائیلی اخبار نے اپنی رپورٹ میں وضاحت دیتے ہوئے لکھا ہے کہ فلسطینی مزاحمتی فورس حماس کی شدید سکیورٹی تدابیر نے تل ابیب کی انٹیلیجنس ایجنسی ’’شاباک‘‘ کو اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ حماس کی اطلاعات حاصل کرنے کے لئے نئے اور انتہائی ماہرانہ طریقۂ کار اختیار کرے کیونکہ حماس کسی بھی قسم کی مشکوک حرکت کا فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے فوری ردعمل ظاہر کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : غاصب صیہونی حکومت کی جارحیت کے نئے دور کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔ زیاد النخالہ

صیہونی اخبار نے لکھا کہ ایسی مشکوک حرکات پر حماس کا ردعمل بالکل ویسا ہی ہوتا ہے جیسے سال 2018ء کے ماہ نومبر میں خان یونس کے اندر حماس نے تل ابیب کی اسپیشل فورسز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اس کے ڈپٹی آپریشن کمانڈر کو ہلاک اور متعدد دوسرے فوجیوں کو زخمی کر دیا تھا۔

صیہونی اخبار اسرائیل ہیوم نے لکھا کہ غزہ کے اندر جاسوسوں کی بھرتی کے انتہائی سخت ہو جانے کے باعث اسرائیل اب جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے حماس کی اطلاعات حاصل کرنے کی کوشش میں ہے جس میں سیٹیلائٹ اور سائبر وار ٹیکنالوجی شامل ہے۔

اس اخبار نے تاکید کی کہ حماس جیسی مزاحمتی فورس کے خلاف جدید ٹیکنالوجی پر مبنی جاسوسی آلات بھی ناکام ہیں کیونکہ یہ مزاحمتی تحریک انتہائی خفیہ طریقوں سے کارروائی کرتی ہے لہٰذا اس حوالے سے صرف اور صرف انسانی جاسوسی ہی کارساز ہے جو اب غزہ کے اندر انتہائی مشکل ہو چکی ہے۔

اس اخبار نے لکھا کہ یہی وجہ ہے کہ تل ابیب گذشتہ کئی سالوں سے ’’کیبٹس زیکم‘‘ نامی سواحل ہر حماس کے اثرورسوخ کو کم کرنے کی کوششوں میں بری طرح ناکام رہا ہے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close