مقبوضہ فلسطین

غزہ پر جابر صیہونی حکومت کی بمباری، مزاحمتی گروپ کا جوابی راکٹ حملہ

شیعت نیوز : فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ غاصب اور جابر صیہونی حکومت نے پیر کی شب ڈرون سے غزہ پٹی کے علاقے المطار پر بمباری کی۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے اسی طرح خان یونس کے علاقے القرارہ پر توپوں کے گولے داغے۔ ابھی تک ان حملوں سے ہونے والے جانی اور مالی نقصانات کے بارے میں کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔

جابر صیہونی حکومت نے دعوی کیا کہ یہ حملہ مقبوضہ علاقوں پر غزہ پٹی سے داغے جانے والے راکٹ کے رد عمل میں کیا گیا۔

فلسطینی اراضی میں پیر کی شب غزہ پٹی سے داغا جانے والا ایک راکٹ اسرائیلی بستی کے نزدیک جا گرا۔

یہ بھی پڑھیں : مسجد اقصیٰ کے نیچے نئی سرنگ کی تعمیر، فلسطینی بچے کو 10 سال قید کی سزا

مذکورہ راکٹ سرحدی پٹی پر ایک اسرائیلی بستی کے نزدیک کھلے میں گرا۔ اس موقع پر خطرے کے سائرن بھی نہیں بجائے گئے۔

اس سے قبل پیر کے روز مزاحمتی تنظیم ’’حماس‘‘ نے فلسطینیوں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے کے حصوں کو ضم کرنے کے منصوبے کے جواب میں اسرائیل کے سامنے ’’مزاحمت‘‘ کے لیے کھڑے ہو جائیں۔ تنظیم نے زور دیا کہ اس منصوبے کے خلاف ہر طرح سے مزاحمت کی جائے۔

اسرائیل کی جانب سے یہ اعلان کیا جا چکا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنی یہودی بستیوں اور غور اردن کے تزویراتی علاقے کو ضم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اسرائیل کا یہ اعلان یکم جولائی سے نافذ العمل ہو گا۔ فلسطینیوں ، عربوں اور یورپی یونین نے اس منصوبے کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے۔

گذشتہ 14 برس سے غزہ پٹی پر کنٹرول رکھنے والی تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیلی کی جانب سے ضم کیے جانے کے منصوبے کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی سطح پر سرگرمیاں شروع کرے گی۔

حماس کے رہنما صلاح البردویل نے غزہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران فلسطینی اتھارٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ اوسلو معاہدے کی روشنی میں اسرائیل قبضے کو تسلیم کرنے کے فیصلے سے دست بردار ہو جائے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close