مقبوضہ فلسطین

غزہ میں فلسطینی مزاحمت کار شہید، اسرائیلی فوجیوں کا مقبوضہ بیت المقدس پر دھاوا

شیعت نیوز: فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں کل سوموار کے روز تربیتی مشقوں کے دوران ایک فلسطینی مزاحمت کار غلطی سے گولی چلنے کے باعث جام شہادت نوش کرگیا۔

رپورٹ کے مطابق شمالی غزہ میں تربیتی مشقوں کے دوران 18 سالہ ایک فلسطینی نوجوان مزاحمت کار غلطی سے گولی چلنے کے نتیجے میں جام شہادت نوش کرگیا۔

شہید ہونے والے فلسطینی کی شناخت ادھم محمود المصری کے نام سے کی گئی ہے۔ اس کا تعلق غزہ کی پٹی کے شمالی شہر جبالیا سے ہے۔

خیال رہے کہ رواں سال کےدوران جہادی سرگرمیوں میں ہونے والے حادثے میں کسی فلسطینی مزاحمت کار کی یہ تیسری شہادت ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پاک افغان بارڈر پر قائم مسجد وامام بارگاہ پر داعشی دہشت گردوں کا حملہ

اسرائیلی فوجیوں (آئی او ایف) نے پیر کے روز مقبوضہ بیت المقدس میں العیسویہ اور کافر عقب قصبوں پر چھاپہ مارا اور ایک فلسطینی بزرگ کو اس کے گھر سے اغوا کرلیا۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ صہیونی فوجیوں نے العیسویہ میں تباہی مچانے کے بعد  الحاج عونی عطیہ کے گھر پر ہلہ بولا اور اسے گرفتار کر لیا۔

دریں اثنا ، اسرائیلی فوجیوں  نے پڑوسی قصبے کفر عقب پر دھاوا بولا اور فلسطینی باشندوں پر آنسو گیس کے کنستروں اور  دستی بموں سے اچانک حملہ کیا۔متعدد فلسطینی شہریوں کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور ان کو وہیں طبی امداد مہیا کی گئی۔

دوسری جانب صہیونی فوج نے مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں قلندیہ پناہ گزین کیمپ پر ہلہ بولا اور اشک آور گیس کے گولے پھینکے جس کے نتیجے میں پر تشدد جھڑپیں پھوٹ پڑیں۔

مقامی ذرائع نے کہا کہ بڑی تعداد میں قابض اسرائیلی فوجیوں نے قلندیہ پناہ گزین کیمپ پر ہلہ بولا اور فلسطینی گھروں پر بھاری مقدار میں اشک آور گیس کے گولے پھینکے ۔

اسی دوران صہیونی فوجیوں نے مغربی کنارے کے جنوبی علاقے اور مقبوضہ بیت المقدس کے مشرق میں العیزریہ قصبے کے درمیان چوکی کو بند کر دیا جس سے فلسطینی شہریوں کو نقل و حرکت میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close