دنیا

جنرل سلیمانی کی ٹارگٹ کلنگ امریکہ نے خودمختاری کے قانون کو بھی پائمال کیا ہے۔ کالامارڈ

شیعت نیوز: اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر انسانی حقوق کی خصوصی رپورٹر برائے ماورائے عدالت قتل و ٹارگٹ کلنگ ایگنس کالامارڈ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی ٹارگٹ کلنگ میں ایرانی سپاہ قدس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد سفارت کاری کے متعدد انیشی ایٹوز اٹھائے گئے ہیں۔

عرب نیوز چینل المیادین کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر کی خصوصی رپورٹر برائے ماورائے عدالت قتل و ٹارگٹ کلنگ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے ایک عالی رتبہ حاکم کو یوں نشانہ بنایا جانا بعید ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران و چین باہمی تعاون پروگرام، دونوں ممالک سے امریکی دباؤ کم کر دے گا۔ امریکی اخبار

ایگنس کالامارڈ نے کہا کہ امریکہ نے اس بات کو ثابت کرنے میں کہ جنرل قاسم سلیمانی کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا کر اس نے اپنا دفاع مضبوط کیا ہے، بُری طرح شکست کھائی ہے جبکہ ٹارگٹ کلنگ کی اس کارروائی میں امریکہ نے خودمختاری کے قانون کو بھی پائمال کیا ہے۔

انسانی حقوق کمیشن کی خصوصی رپورٹر نے کہا کہ امریکہ کا یہ اقدام خودمختاری کے دوسرے بہت سے اصولوں کی خلاف ورزی پر بھی مبنی تھا۔

یہ بھی پڑھیں : شہید سلیمانی کی ٹارگٹ کلنگ سے متعلق تمام دستاویزات عدالت کے سپرد کر دی ہیں۔

واضح رہے کہ ایگنس کالامارڈ نے گذشتہ ورز ایرانی سپاہ قدس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی ٹارگٹ کلنگ پر مبنی امریکی کارروائی کے بارے اپنی رپورٹ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن میں جمع کروا دی تھی۔

اس حوالے سے ایرانی وزارت خارجہ کے قانونی و بین الاقوامی امور کے مشیر محسن بہاروند نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہید قاسم سلیمانی کی شہادت کے فورا بعد امریکہ کی جانب سے یہ پیغام ارسال کیا گیا تھا کہ برائے مہربانی اس کارروائی کا جواب نہ دیا جائے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close