مقالہ جات

غزوہ احد شیعہ سنی کتابوں کی روشنی میں

شیعت نیوز : غزوہ احد مشرکین قریش کے ساتھ پیغمبر اسلام ؐ کے مشہور غزوات میں سے ہے جو سنہ 3 ہجری میں بمقام کوہ احد انجام پایا۔

غزوۂ بدر میں لشکر اسلام کے ہاتھوں قریش کی شکست کے بعد، قریشی ابو سفیان کی سربراہی میں بدر کے ہلاک شدگان کی خونخواہی کی غرض سے رسول اللہؐ اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کے لئے تیار ہوئے۔

مدینہ پر مشرکین کی لشکر کشی

غزوۂ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں مشرکین کی بھاری شکست کے ایک سال بعد سنہ 3 ہجری میں، قریشی ابو سفیان کی سربراہی میں بدر کے ہلاک شدگان کے انتقام کی غرض سے رسول خداؐ اور مسلمانوں کے خلاف ایک بار پھر جنگ کے لئے تیار ہوگئے۔ ابو سفیان نے اس مقصد کے لئے عمرو بن عاص، ابن زبعری اور ابو عزہ جیسے افراد کو دوسرے قبائل کی حمایت حاصل کرنے کا کام سونپا[1] اور بالآخر اپنے لشکر کے ہمراہ جس کی تعداد 3000 افراد تک بتائی گئی ہے مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔ واقدی کا کہنا ہے کہ رسول خداؐ گویا قبا کے علاقے میں عباس بن عبد المطلب کے خفیہ طور پر بھجوائے گئے خط کے ذریعے مشرکین کی نقل و حرکت سے مطلع ہوئے،[2] تاہم دوسری روایات میں اس خط کی طرف اشارہ نہیں ہوا ہے۔[3]

۵ شوال سنہ 3 ہجری کو مشرکین احد کے قریب ـ "عًرَیض” کے علاقے میں پہنچے اور اپنے چوپایوں کو وہاں کے کھیتوں میں چرنے کے لئے چھوڑ دیا[4] پیغمبر اکرمؐ اپنے ایک صحابی کے ذریعے دشمن کی نفری اور وسائل سے باخبر ہوئے تھے چنانچہ اوس اور خزرج کے بعض عمائدین منجملہ سعد بن معاذ، اسید بن خضیر اور سعد بن عبادہ کچھ افراد کے ساتھ  مشرکین کی یلغار کے خوف سے جمعہ کی صبح تک مسجد میں پہرہ دیتے رہے۔[5]

پیغمبر خداؐ کا اصحاب کے ساتھ مشورہ

رسول خداؐ نے جمعہ کے روز دفاعی اقدامات کی کیفیت کے سلسلے میں اصحاب کے ساتھ مشورہ کیا۔ آپؐ چاہتے تھے کہ مسلمان مدینہ سے باہر نہ نکلیں۔ مہاجرین اور انصار کے اکابرین بھی یہی چاہتے تھے بالخصوص وہ لوگ جو شہر مدینہ کی سابقہ جنگوں کے تجربے سے گزر چکے تھے کہتے تھے کہ مسلمان شہر سے باہر نہ جائیں لیکن مسلم نوجوان، یہاں تک حمزہ بن عبد المطلب جیسے بزرگ صحابی کا اصرار تھا کہ جنگ شہر سے باہر لڑی جائے۔ آخرکار رسول خداؐ نے مؤخر الذکر اصحاب کی رائے قبول کی۔[6]

رسول خداؐ کی مدینہ سے روانگی

رسول خداؐ ایک ہزار مسلمانوں کا لشکر لے کر مدینہ سے باہر نکلے،[7] اور ایک رات مدینہ اور احد کے درمیانی علاقے "شیخان” میں منتظر رہے اور دوسرے دن صبح کے وقت دوبارہ روانہ ہوئے۔[8]

عبداللہ بن ابی کا آپؐ سے الگ ہوجانا

ابھی سپاہ اسلام کے مقام احد پر پہنچے تھوڑا سا ہی وقت گذرا ہوگا کہ عبداللہ بن ابی نے اس بہانے مسلمانوں سے علیحدگی اختیار کی کہ مدینہ میں رہ کر لڑنے کے بارے میں اس کی دی ہوئی تجویز کو قبول نہیں کیاگیا تھا۔ وہ ایک جماعت کو لے کر مدینہ پلٹ گیا[9] اور مسلمانوں کی تعداد 1000 سے گھٹ کر 700 رہ گئی۔

جنگ کی تیاریاں

رسول خداؐ نے لشکر کو منظم اور مرتب کیا اور کوہ احد کی طرف پشت کرکے دشمن کے سامنے صف آرا ہوئے اور عبداللہ بن جبیر کو تیراندازوں کا ایک دستہ دے کر کوہ عینین پر تعینات کیا جو احد کے بائیں جانب واقع ہے۔[10] مشرکین نے بھی صف آرائی کی: میمنہ کی کمان خالد بن ولید کو جبکہ میسرہ کی کمان عکرمہ بن ابوجہل کے سپرد کی گئی[11] رسول خداؐ نے جنگ شروع ہونے سے قبل خطبہ دیا [12] اور تیراندازوں پر زور دیا کہ مسلمانوں کے عقبی مورچے کی سختی سے حفاظت کریں اور کسی صورت میں بھی اپنا مورچہ نہ چھوڑیں۔[13]

مسلمانوں کی ابتدائی فتح

جنگ شروع ہوئی تو مشرکین کے ایک جنگجو طلحہ بن ابی طلحہ نے مبارز طلبی کی۔ علی ؑ میدان میں اترے اور اس کو گرا کر ہلاک کردیا چنانچہ مسلمان اس ابتدائی کامیابی سے مسرور ہوئے اور تکبیر کے نعرے لگا کر اچانک مشرکین کی صفوں پر حملہ آور ہوئے۔[14] مسلمان بہت تیزی سے مشرکین پر غالب آئے اور مشرکین فرار ہوئے۔[15]

مسلمانوں کی شکست

جن تیر اندازوں کو لشکر اسلام کے بائیں جانب تعینات کیا گیا تھا وہ مال غنیمت کی طمع کرکے اپنا مورچہ چھوڑ گئے اور اپنے سالار عبداللہ بن جبیر کا اصرار ’’ جو انہیں رسول خداؐ کی فرمانبرداری کی دعوت دے رہے تھے ‘‘ بےسود رہا۔ خالد بن ولید جو اس سے پہلے بھی تیراندازوں کی تعیناتی کے مقام سے مسلمانوں پر حملہ کرنے کی ناکام کوشش کرچکا تھا[16]، اس بار درے کے اوپر باقی ماندہ چند تیراندازوں پر حملہ کیا اور عکرمہ بھی [پسپائی کے بعد] خالد سے آملا تھا۔[17] اور ان سب نے مل کر مشرکین کے پیادوں کے تعاقب میں مصروف مسلمانوں پر پشت سے حملہ کیا۔

جنگ احد کا نقشہ

اسی اثناء میں کسی نے ندا دی کی پیغمبر خداؐ شہید ہوچکے ہیں۔[18] یہ خبر مسلمانوں کے حوصلے پست ہونے کا سبب بنی اور بعض نے تو پہاڑ کی پناہ لی۔[19] مروی ہے کہ گھمسان کی لڑائی میں کئی مشرکوں نے رسول خداؐ کے قتل کی غرض سے حملے کئے جن کے نتیجے میں آپؐ کے دندان مبارک شہید ہوگئے اور چہرہ مبارک زخمی ہوگیا[20] جبکہ صرف چند صحابی میدان میں باقی تھے[21] اور رسول خداؐ کو متعدد زخم آئے تھے لہٰذا آپؐ پہاڑ میں موجود دراڑ کی پناہ میں چلے گئے۔[22]

شیخ مفید نے ابن مسعود سے روایت کی ہے کہ مسلمانوں کی پریشانی اور افراتفری اس قدر بڑھ گئی کہ پورا لشکر بھاگ گیا اور علی ؑ کے سوا کوئی بھی رسول اللہؐ کے قریب نہ رہا۔ جملہ لشکر بھاگ کیا اور بعد ازاں چند افراد آپؐ سے آملے جن میں سب سے پہلے عاصم بن ثابت، ابو دجانہ اور سہل بن حنیف آپؐ کی طرف آئے۔[23]

حضرت حمزہ سید الشہداء کی شہادت

مشرکین اپنے ہتھیاروں سے مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے اور ان کی بڑی تعداد کو شہید کردیا، سب سے زیادہ اہم رسول خداؐ کے چچا، حمزہ بن عبد المطلبؑ تھے جن پر جبیر بن مطعم کے وحشی غلام نے نیزے کا وار کیا اور پھر ان کا سینہ چاک کیا اور ان کا کلیجہ نکال کر ابو سفیان کی بیوی ہندہ کے سپرد کیا جس کا باپ جنگ بدر میں حضرت حمزہؑ کے ہاتھوں ہلاک ہوچکا تھا۔ ہندہ بنت عتبہ نے حضرت حمزہؑ کا کلیجہ چپایا۔ پیغمبر اکرمؐ حضرت حمزہؑ کی شہادت اور ان کے بدن کے کاٹےجانے پر بہت زیادہ مغموم اور غضبناک ہوئے۔[24]

شہداء کی تعداد

مسلمانوں نے اپنے شہداء کی تدفین کا اہتمام کیا اور پیغمبرؐ نے ایک ایک کرکے شہداء کی میتوں پر جن کی تعداد 70 یا اس سے کچھ زیادہ تھی نماز پڑھائی۔[25] اور ہر بار یہی فرمایا کہ حضرت حمزہؑ سید الشہداء کا جسم مطہر بھی ہر شہید کے ساتھ رکھا جائے اور یوں حمزہ کی میت پر 70 یا کچھ زیادہ مرتبہ نماز پڑھی۔[26]

کوہ احد اور شہداء احد

شہدائے احد جنہیں کوہ احد کے دامن میں سپرد خاک کیا گیا ہے کے اسماء قدیم کتب میں بیان ہوئے ہیں۔ مشرکین میں سے بھی 20 سے کچھ زائد افراد ہلاک ہوئے۔

جنگ کی تاریخ

غزوہ احد بروز شنبہ 7 شوال سنہ 3 ہجری بمطابق 23 مارچ سنہ 625 عیسوی انجام پایا۔[27] تاہم بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ یہ جنگ 15 شوال کے دن ہوئی ہے۔[28]

آیات کریمہ کا نزول

منابع و مآخذ میں جنگ احد کی شان میں نازل ہونے والی کئی آیات کریمہ  منجملہ: سورہ آل عمران کی آیات 121 تا 129 کی طرف اشارہ ہوا ہے۔[29] نیز اس جنگ کے بارے میں متعدد احادیث رسول اللہؐ سے نقل ہوئی ہیں۔[30] رسول اللہؐ غزوہ احد کے بعد کبھی کبھی شہدائے احد کے مزار پر حاضری دیتے تھے۔[31] اور اس کے بعد بھی جو لوگ مدینہ کے سفر پر جاتے تھے شہدائے احد کی زیارت کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔

غزوہ احد میں امیرالمؤمنین ؑ کا کردار

تمام مؤرخین و محدثین کا اتفاق ہے کہ حضرت علی ؑ کا کردار دوسری جنگوں کی مانند، بے مثل و بےنظیر تھا۔ اس سلسلے میں منقولہ روایات میں سے چند روایات درج ذیل ہیں:

آپ ؑ رسول خداؐ کے علمبردار تھے۔[32]

اور بقولے مہاجرین کا پرچم سنبھالئے ہوئے تھے۔ [33]

مشرکین کا پرچمدار طلحہ بن طلحہ آپ ؑ کے ہاتھوں ہلاک ہوا[34] کئی افراد نے یکے بعد دیگرے مشرکین کا پرچم اٹھایا جو آپ ؑ کے ہاتھوں مارے گئے جس کے بعد مشرکین کا پرچم لہراتا نظر نہيں آیا۔[35] خالد بن ولید کے حملے کے بعد سپاہ اسلام کی اکثریت نے فرار کی راہ اپنائی تو آپ ؑ نے رسول اللہؐ کی جان کا تحفظ کیا۔[36] ابن اسحق کی روایت کے مطابق اس جنگ میں 22 مشرکین ہلاک ہوئے [37] جن میں سے 12 افراد کو آپ ؑ نے ہلاک کیا۔[38] حضرت علی ؑ کی جانفشانی دیکھ کر جبرائیل امین نے آپ ؑ کی تعریف و ثناء کی اور ان کی مشہور ملکوتی ندا لا سیفَ إلّا ذوالفقارِ ولا فتی إلّا علیٌّ کی صدائے بازگشت میدان احد میں ہی سنائی دی۔[39] اس جنگ میں آپ ؑ کے جسم پر لگے زخموں کی تعداد 90 تھی۔[40] آپ ؑ ہی کی استقامت کی وجہ سے ہزیمت زدہ مسلمانوں کی ایک جماعت ایک بار پھر رسول خداؐ کے گرد مجتمع ہوئی۔ [41] جب آپ ؑ کا ہاتھ ٹوٹ گیا اور پرچم گر گیا تو رسول خداؐ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ پرچم آپ ؑ کے بائیں ہاتھ میں دیں کیونکہ وہ دنیا اور آخرت میں میرے علمدار ہیں۔ [42] جبریل امین نے حضرت علی ؑ کے جہاد کی طرف اشارہ کرکے رسول اللہؐ کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ جانفشانی ہے، تو آپؐ نے فرمایا: وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں”، جبرائیل نے عرض کیا "میں بھی آپ سے ہوں اے رسول خدا۔ [43]

حوالہ جات

  1. ابن اسحاق، السیر و المغازی، ص323ـ322؛ واقدی، المغازی، ج1 ص201؛ طبری، تاریخ، ج2 ص500۔
  2. واقدی، المغازی، ج1، ص204ـ203۔
  3. ابن ہشام، السیرۃ النبویہ، ج2 ص62؛ طبری، تاریخ، ج2 ص502۔
  4. واقدی، المغازی، ج1، ص207ـ206۔
  5. واقدی، المغازی، ج1، ص208۔
  6. واقدی، المغازی، ج1، ص210، 213؛ عروہ، مغازی رسول اللہ، 169ـ168۔
  7. ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ج2، ص63؛ ابن اسحاق کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے لشکر میں 700 افراد شامل تھے: السیر و المغازی، ص326۔
  8. واقدی، المغازی، ج1 ص218ـ216۔
  9. عروہ، مغازی رسول اللہ، ص169؛ زہری، المغازی النبویۃ، ص77؛ واقدی، المغازی، ج1، ص219؛ ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ج1 ص64۔
  10. واقدی، المغازی، ج1، ص220ـ219۔
  11. واقدی، المغازی، ج1، ص220۔
  12. واقدی، المغازی، ج1، ص223ـ221۔
  13. ابن اسحاق، السیر و المغازی، ص326؛ واقدی، المغازی، ج1، ص225ـ224؛ ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ج2، ص66ـ65؛ بخاری، الصحیح البخاری، ج5، ص29؛ طبری، تاریخ، ج2، ص509۔
  14. واقدی، المغازی، ج1، ص226ـ225۔
  15. واقدی، المغازی، ج1، ص229؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج2، ص41ـ40۔
  16. واقدی، المغازی، ج1، ص229۔
  17. واقدی، المغازی، ج1، ص232؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج2، ص42ـ41۔
  18. زہری، المغازی النبویۃ، ص77؛ ابن اسحاق، السیر و المغازی، ص27؛ واقدی، المغازی، ج1، ص232۔
  19. واقدی، المغازی، ج1، ص235۔
  20. واقدی، المغازی، ج1، ص244؛ زہری، المغازی النبویۃ، ص77؛ طبری، تاریخ، ج2 ص519۔
  21. واقدی، المغازی، ج1 ص240۔
  22. ابن اسحاق، السیر و المغازی، ص230؛ ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ج2، ص83؛ طبری، تاریخ، ج2، ص518۔
  23. آیتی، تاریخ پیامبر اسلام، ص256.۔
  24. ابن اسحاق، السیر والمغازی، ص333ـ329؛ واقدی، المغازی، ج1، ص286ـ285، 290۔
  25. ر.ک: واقدی، المغازی، ج1، ص328۔
  26. ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ج2، ص97؛ واقدی المغازی، ج1 ص310؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج2، ص44؛ بلاذری، انساب الاشراف، ص336۔
  27. واقدی، المغازی، ج1، ص199؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج2، ص36؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج1، ص312ـ311۔
  28. ابن اسحاق، السیر والمغازی، ص324؛ ابن حبیب، المحبر، ص113ـ112؛ طبری، تاریخ، ج2، ص534۔
  29. واقدی، المغازی، ج1، ص319 اور بعد کے صفحات؛ ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ج2، ص106 اور بعد کے صفحات؛ طبری، تفسیر، ج4، ص45 بہ بعد۔
  30. بخاری، صحیح البخاری، ج5، ص40ـ39؛ البکری، معجم ما استعجم، ج1، ص117۔
  31. بخاری، صحیح البخاری، ج5، ص29۔
  32. ابن عساکر، تاریخ دمشق، ج42 ص72؛ طبرسی، إعلام الوری، ج1 ص374۔
  33. مفید، الإرشاد، ج1 ص80؛ واقدی، المغازی، ج1 ص215؛ طبری، تاریخ الطبری، ج2 ص516۔
  34. واقدی، المغازی، ج1، ص226۔ طبری، تاریخ الطبری، ج2، ص509؛ ابن ہشام، السیرۃ النبویّۃ، ج3، ص158۔
  35. مفید، الإرشاد: 88/1؛ طبری، عماد الدین، بشارۃ المصطفی، ص186؛ طبری، تاریخ الطبری: 514/2۔
  36. تاریخ الطبری: 518/2؛ واقدی، المغازی، ج1، ص240؛ مفید، الإرشاد، ج1، ص82۔
  37. ابن ہشام، السیرۃ النبویّۃ، ج3، ص135۔
  38. مفید، الإرشاد، ج1، ص91۔
  39. طبری، تاریخ الطبری، ج2، ص514؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج1، ص552؛ کلینی، الکافی، ج8 ص90-110۔
  40. قمی، تفسیر القمّی، ج1، ص116؛ طبرسی، مجمع البیان، ج2، ص826؛ الخرائج والجرائح، ج1، صص235-148۔
  41. مفید، الإرشاد، ج1 ص91؛ اربلی، کشف الغمّۃ، ج1، ص196؛ ابن ہشام، السیرۃ النبویّۃ، 159/3۔
  42. ابن شہر آشوب، مناقب آل أبی طالب: 299/3۔
  43. طبرانی، المعجم الکبیر، ج1، ص318، ح941؛ ابن حنبل، فضائل الصحابۃ، ج2، ص657، ح1119؛ الطبرسي، احمد بن علی، الاحتجاج، الاحتجاج، ج2 ص165۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

یہ بھی ملاحظہ کریں

Close
Back to top button
Close