اہم ترین خبریںمقالہ جات

سانحہ 1988ء گلگت، ناقابل فراموش سانحہ کے 31 سال

یہ لشکر کشی حکومتی سرپرستی میں کی گئی تھی، سینکڑوں اہل تشیع کی مظلومانہ شہادت اور گائوں کے گائوں تاراج کرنے کے اس دلخراش واقعے کی تحقیقات کیوں نہیں کی گئی

تحریر: لیاقت تمنائی

مئی 1988ء کا سانحہ گلگت منظم دہشتگردی کا ایسا ظلم تھا، جس کے زخم ابھی تک نہیں بھر سکے۔17 سے 26 مئی 1988ء کو گلگت میں فرقہ وارانہ قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا گیا، یہ ایسا سانحہ تھا جو ابھی تک لوگوں کے ذہنوں میں نقش ہو کر رہ گیا ہے، جنرل ضیاء الحق کی ڈکٹیٹرشپ کی ناک تلے اس وقت کے وزیر امور کشمیر اور انتظامیہ کی سرپرستی میں ہزاروں مسلح دہشتگردوں نے گلگت کے کئی گائوں کو تاراج کیا، 60 سے زائد اہل تشیع شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔ 12 سو سے زائد گھر، 40 مساجد اور امام بارگاہیں جلائی گئیں، داعش طرز کی قتل و غارت گری ہوئی، لاشوں کو جلایا گیا، معصوم بچوں کا پیٹ چاک کرکے لکڑی کے ڈنڈوں پر لہرایا گیا۔ ایک اندازے کے 60 سے 70 ہزار قبائلی اور افغانی مسلح دہشتگردوں کا لشکر گلگت بلتستان پر حملہ آور ہوا۔ عالم برج پہنچ کر لشکر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا، ایک گروپ بلتستان کی جانب روانہ ہوا جبکہ دوسرا گلگت پر حملہ آور ہوا۔ 17 سے 26 مئی 1988ء تک کے خون آشام واقعات میں شت نالہ، بٹکور، جلال آباد، بونجی، سئی جگلوٹ، شیر قلعہ، ھوپر شکیوٹ، سکوار اور مناور کے شیعہ اکثریتی علاقے مکمل تاراج ہوئے۔ اس دوران سب سے زیادہ تباہی اور ظلم و ستم جلال آباد میں ہوا۔ شہیدوں کی اس سرزمین میں 50 سے زائد افراد نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ 1230 گھر جلائے گئے۔ 24 مساجد اور 4 امام بارگاہ جلائے گئے اور 2000 سے زائد قرآن مجید کے نسخے نذر آتش کئے گئے۔ اس دلخراش سانحے کے تین اہم محرکات عیاں ہوئے۔

1۔ امریکی سفیر کا دورہ
سانحہ سے قبل امریکی سفیر نے گلگت بلتستان کا دورہ کیا تھا، جہاں ان کا استقبال امریکہ مردہ باد کے نعروں سے ہوا، امریکی سفیر کو اس کی توقع نہیں تھی، انہوں نے اسلام آباد پہنچتے ہی یہ رپورٹ واشنگٹن کو بھیج دی، جس کے بعد خطے کے اہل تشیع کیخلاف بھیانک سازش کی ابتدا ہوئی۔

گلگت بلتستان میں آئین اور قانون کی عملداری تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا، شیخ نیئر عباس

2۔ فکر خمینی
ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد جہاں دنیا بھر کے مظلومین اور مستضعفین کو امید کی کرن نظر آئی، وہاں فکری بیداری کی ایک نئی لہر پیدا ہوئی، ظالموں اور استعماریت کیخلاف جذبہ حریت کی بیداری ابھرنا شروع ہوئی، خصوصاً شیطان بزرگ امریکہ کیخلاف دنیا بھر کے مستضعفین میں نیا جذبہ پیدا ہوا، دنیا بھر کی طرح یہ بیداری گلگت بلتستان میں بھی پیدا ہونا شروع ہوئی۔ جی بی میں فکر امام خمینی کے پیروکاروں میں آنے والی اس تبدیلی کو امریکہ سفیر نے خوب محسوس کیا۔ چونکہ یہ دور اسلامی انقلاب کی کامیابی کا ابتدائی عشرہ تھا، اس دوران امریکی استعمار فکر خمینی کو محدود کرنے کیلئے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہا تھا، اسی تناظر میں اپنے پٹھو صدام کے ذریعے ایران پر حملہ بھی کروا دیا تھا۔ گلگت بلتستان میں اسلامی انقلاب کے اثرات کو دیکھتے ہوئے سرکاری سرپرستی میں یہ بھیانک سازش رچائی گئی۔

3۔ ضیائی سکول آف تھاٹ
فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء کو پاکستان میں انتہا پسندی اور فرقہ واریت کا سرغنہ سمجھا جاتا ہے، جنرل ضیاء کی پالیسیوں کا خمیازہ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی شہادت، فرقہ وارانہ کشیدگی، کلاشنکوف کلچر، انتہا پسندی، خودکش و کار بم دھماکوں، کافر کافر کے نعروں اور ٹارگٹ کلنگ کی صورت میں ملک کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ افغان جہاد کے نام پر پہلے ملک کے مخصوص طبقہ فکر کو نظریاتی اور عسکری طور پر خوب مسلح کیا گیا، پاکستان مین سرکاری سرپرستی میں ہزاروں جہادی مدارس قائم ہوئے، بعد میں یہ مدارس شدت پسندی کا قلعہ بن گیا، جہاں سے دوسرے مسالک کیخلاف کفر کے فتوے صادر ہونے کے ساتھ ساتھ جہاد کے نعرے بھی بلند ہونا شروع ہوئے۔ اسلامی انقلاب کے بعد امریکہ نے پاکستان میں مختلف مذاہب کو انقلابی اثرات سے ڈرانے کا سلسلہ شروع کیا، امریکی کوششوں اور جنرل ضیاء کی سوچ میں یکسانیت کے نتیجے میں یہ سازش پاکستان میں کامیاب ہوئی، یوں ملک میں فرقہ واریت کے بھیانک دور کا آغاز ہوا۔ گلگت بلتستان میں چونکہ فکر خمینی کو پذیرائی ملنا یقینی بات تھی، اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے، فرقہ واریت کے زہر کو خطے میں سرایت کرکے فکر خمینی کو محدود کرنے کا منصوبہ بنایا گیا، جس کا نتیجہ ناقابل فراموش سانحہ کی صورت میں برآمد ہوا۔

نتائج:
ایک زمانہ ایسا تھا جب گلگت بلتستان میں بے مثال امن و اخوت، بھائی چارہ، محبت اور اتحاد پایا جاتا تھا۔ یہاں شیعہ سنی اختلافات کا کوئی تصور ہی نہیں تھا۔ عزاداری کی مجالس اور جلوسوں کے انتظامات اہل سنت کے لوگ سنبھالتے تھے، اور اہل سنت برادری کی جانب سے سبیلوں کا اہتمام بھی کیا جاتا تھا، شیعہ سنی بھائیوں کی طرح رہتے تھے، ایک دوسرے سے رشتہ داریاں تھیں۔ 1988ء کے سانحہ نے اس امن و آشتی کو نفرت اور دشمنی میں تبدیل کر دیا۔ دو عشروں تک گلگت میں فرقہ وارانہ کشیدگی عروج پر رہی، کئی نامور شخصیات انتہاء پسندی کی بھینٹ چڑھ گئیں۔

مستقبل:
سن 88ء سے 2014ء تک گلگت فرقہ وارانہ کشیدگی کی لپیٹ میں رہا، ایک چھوٹے سے علاقے میں نوگو ایریاز بن گئے، اس دوران کئی علماء، نامور شخصیات اور عام شہریوں کا قتل ہوا، بے یقینی کی فضا قائم ہوئی، ایک دوسرے کیخلاف نفرت دل و دماغ میں سرایت کر گئی۔ لیکن 2014ء کے بعد سے صورتحال تبدیل ہونا شروع ہوئی ہے، کشیدگی کی فضا ختم ہوچکی ہے، نوگو ایریاز بھی نہیں رہے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی حوصلہ افزا ہے، امید کی ایک کرن ہے، جو دو عشروں تک مسلکی کشیدگی کے شکار لوگوں میں پیدا ہوئی ہے۔ یہ فضا کسی حکومت نے قائم نہیں کی، نہ ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے۔ ہم آہنگی کی فضا خود عوام، علماء اور عمائدین نے قائم کی۔ خاص طور پر عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے تاریخی اقدامات عمل میں لائے گئے، اے اے سی نے کشروٹ اور ہسپتال روڈ، نگر اور چلاس کو آپس میں ملا دیا ہے، گذشتہ چار پانچ سالوں سے گلگت میں حوصلہ افزاء حد تک امن و امان ہے اور دونوں مسالک کے لوگوں میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ اس کے باوجود یہ سانحہ ملک کی تاریخ میں ایسا سیاہ باب ہے، جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔

سوالات:
ہزاروں کا لشکر 600 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے گلگت پہنچا، مسلح لشکر اسلحے کے تین سو ٹرکوں پر مشتمل تھا، راستے میں سینکڑوں چیک پوسٹوں سے آسانی کے ساتھ گزرا، کسی نے پوچھا تک نہیں۔ تو کیا گلگت بلتستان کے عوام کے اس موقف پر مہر تصدیق ثبت ہوگئی کہ یہ لشکر کشی حکومتی سرپرستی میں کی گئی تھی؟ سینکڑوں اہل تشیع کی مظلومانہ شہادت اور گائوں کے گائوں تاراج کرنے کے اس دلخراش واقعے کی تحقیقات کیوں نہیں کی گئی، ذمہ داروں کا تعین کیوں نہیں کیا گیا؟ گلگت میں موجود ایف سی اور رینجرز کے ہزاروں اہلکار خاموش تماشائی کیوں بنے رہے؟ اس قومی المیے کا گھاو تاحال مندمل ہوتا نظر نہیں آتا۔ سئی جگلوٹ، بونجی، پڑی، بنگلہ اور سکیوٹ، جلال آباد کے متاثرین تاحال کسی مسیحا کے منتظر ہیں، تخریب کاری کے سرخیلوں کو آزاد کیوں چھوڑا گیا۔؟

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close