مقبوضہ فلسطین

غرب اردن کا اسرائیل سے الحاق ہرقیمت پرروکیں گے۔ اسماعیل ہنیہ

شیعت نیوز: اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں کو اسرائیلی ریاست کا حصہ قرار دینے کی مہم کی مذمت کی اور کہا کہ غرب اردن کے اسرائیل سے الحاق کو پوری قوت اور ہرقیمت پرروکیں گے۔

فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے کہا ہے کہ قدس کی غاصب اور جابر صیہونی حکومت سے مقابلہ کرنے کیلئے مزاحمتی فرنٹ کو زیادہ سے زیادہ اختیارات ملنے چاہئیں۔

فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے اسرائیل کی توسیع پسندی اور فلسطینی علاقوں کے ساتھ اسرائیل کے الحاق سے مربوط فیصلوں کیلئے فلسطینیوں کے مابین اتحاد اور مقاومتی محاذ کو زیادہ سے زیادہ اختیارت دئیے جانے پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی قوم اپنی امنگوں اور سرزمین کا سودا نہیں کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں : غرب اردن میں اسرائیلی فوج پر حملے پر قوم کو مبارک باد۔ فلسطینی مزاحمتی تنظیمیں

اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ حماس، اسرائیل کا مقابلہ کرنے کیلئے ہر قسم کے سنجیدہ اور حقیقت پرمبنی اقدام کی حمایت کرتا ہے۔

حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ نے ہفتہ کے روز رام اللہ میں فلسطینی اراضی کی اسرائیل سے الحاق کے منصوبے کا مقابلہ کرنے کے مقصد سے منعقد ہونے والے فلسطینی رہنماوں کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جس اجلاس کی صدارت فلسطینی انتظامیہ کرے اس کا فائدہ نہیں اس لئے کہ اس میں فلسطین کے موضوع کی حقیقی معنوں میں حمایت نہیں کی جاتی۔

دوسری طرف حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کےتبادلے کے لیے مصر ثالثی کا کردار ادا کررہا ہے تاہم صیہونی حکومت قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے سنجیدہ نہیں ہے۔

الجزیرہ ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ نے سنہ 2014ء کی جنگ میں متعدد صیہونیوں کو جنگی قیدی بنا لیا تھا۔ اس وقت مصر کے ذریعے اسرائیلی جنگی قیدیوں کی رہائی اور ان کے بدلے میں اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی رہائی کی کوشش جاری ہے۔ اس حوالے سے مصر کے توسط سے مذاکرات جاری ہیں مگران میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے ان کی طرف سے قیدیوں کی رہائی کےمعاہدے سے متعلق حماس کی شرائط کا جواب دیا تو اسرائیلی فوجیوں کو بھی رہا کردیا جائے گا تاہم ایسے لگتا ہے کہ اسرائیل اس میں سنجیدہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل نے سنجیدگی نہ دکھائی تو حماس کے پاس اور آپشن بھی موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم برائے نام ڈیل نہیں چاہتے کہ اسرائیلی حکومت فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کے بعد انہیں دوبارہ گرفتار کرلے۔ ہمیں اس بات کی ضمانت چاہیے کہ رہائی پانے والوں کو دوبارہ حراست میں نہیں لیا جائے گا۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close