اہم ترین خبریںشیعت نیوز اسپیشلمقالہ جات

دختر رسول حضرت فاطمہؑ کی گستاخی اشرف جلالی کا ایجنڈہ

شیعت نیوز : حال ہی میں پاکستان میں آصف اشرف جلالی نامی ایک نام نہاد اہلسنت عالم نے ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی دختر اور جگر گوشہ جناب سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے آپ (س) کو خطا وار کہا ہے ۔ (نعوذ باللہ )

آئیے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر ایسے وقت میں کہ جب پاکستان بھر میں شیعہ و سنی مسلمانوں کے مابین اتحاد و یکجہتی کی ایک زبردست رواداری قائم ہے تو کیوں آصف اشرف جلالی کو ضرورت پڑی کہ وہ عالم اسلام کی بزرگ ترین شخصیت کی شان میں گستاخی کرے اور وہ بھی ایسی شخصیت کہ جس کے بارے میں خود نبی پاک (ص) کے فرامین اور احادیث موجود ہیں کہ جن میں پیغمبر اکرم (ص) نے سیدہ فاطمۃ الزہرا (س) کو اپنے جگر کا ٹکڑا قرار دیا۔

حضرت فاطمہ ؑ جنت میں خواتین کی سردار ہیں ، جوانان جنت کے سرداروں حسنین کریمین کی مادر گرامی ہیں ، ایک اور مقام پر فرمایا کہ

’’ جس نے فاطمہ (س) کو تکلیف پہنچائی اس نے مجھے (محمد کو) تکلیف پہنچائی، اور جس نے مجھے تکلیف پہنچائی اس نے خدا کو غضبناک کیا ۔‘‘

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا کہ ’’ یوم محشر اعلان کیا جائے گا کہ اے اہل محشر (ان میں جلیل القدر انبیاء و رسل بھی ہوں گے)اپنی نگاہیں نیچے کر لیں تا کہ فاطمہ بنت محمد (ص) گزر جائیں ۔‘‘

جناب فاطمہ (س) سے متعلق ام المومنین حضرت عائشہ (رض) کی گواہی بھی موجود ہے ۔ آپ فرماتی ہیں کہ’’

میں نے فاطمہ (س) سے زیادہ افضل ان کے والد گرامی کے علاوہ کسی کو نہیں دیکھا۔

امام طبرانی اور ابو یعلی روایت کرتے ہیں کہ ام المومنین حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کہ میں نے رسول خدا کے بعد سب سے افضل اور سچا فاطمہ (س) کے علاوہ کسی کو نہیں دیکھا‘‘ ۔

ایک بار رسول اللہ (ص) نے کسی مسئلہ کی حقیقت جاننا چاہی تو

ام المومنین نے آنحضرت (ص) سے کہا آپ فاطمہ (س) سے پوچھ لیں کیونکہ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتیں‘‘۔

تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے مابین تفرقہ انگیزی پھیلانا اور مسلمانوں کے مسالک کے مقدسات سے متعلق توہین آمیز عمل کو انجام دینا ہمیشہ سے ہی عالمی سامراجی طاقتوں کا کام رہا ہے ۔ ان سامراجی ممالک میں برطانیہ ، امریکہ اور پھر اسی طر ح اسرائیل اور مقامی سطح پر بھارت کی جارح حکومت بھی ان کی آلہ کار کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے ۔

اشرف جلالی کے پیچھے نماز نہ پڑھیں، اہل سنت عالم دین محمد اسحاق

فرقہ واریت عالمی سامراجی سازش

در اصل دنیا پر حکمرانی کا دعویٰ کرنے والی شیطانی طاقت امریکہ اور اس کے حواری موجودہ دور میں شدید بحران کی حالت سے گذر رہے ہیں ، یہ دور امریکی شیطانی حکومت اور اس کے عربی و غربی حواریوں کی شکست اور ذلت کا دور ہے ۔ جہاں ایک طرف اسرائیل گذشتہ چند برس میں بد ترین شکست کا شکار ہوا ہے وہاں امریکی منصوبہ بھی ناکام ہو رہے ہیں۔شام میں امریکہ اور اس کے حواریوں کی بد ترین شکست ایک واضح مثال ہے کہ جہاں امریکی ڈالروں اور اسلحہ کی بنیاد پر قائم کی جانے والی دہشت گرد تنظیم داعش کو شام کی حکمرانی کے لئے لایا گیا تھا اب نابودہو چکی ہے ۔ اسی طرح عراق کی با ت کریں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ عرا ق میں شیعہ ، سنی ،عیسائی اور دیگر مذاہب اور مسالک نے مشترکہ طور پر امریکی واسرائیلی منصوبوں کے خلاف جد وجہد کی اور داعش کو چند سالوں میں شکست سے دوچار کیا، در اصل داعش کی شکست امریکہ اور اس کے عربی و غربی حواریوں کی شکست ہے ۔
یمن میں امریکی قیادت میں سعودی عرب کی جانب سے مسلط کردہ جنگ میں بھی امریکہ اور سعودی عرب تاحال نتائج حاصل نہیں کر پائے ہیں اور یہاں بھی امریکہ کو بد ترین شکست کا سامنا ہے ۔ اسرائیل کہ جس کی خاطر امریکہ نے اربوں ڈالر خرچ کئے ہیں آج فلسطین و لبنان سمیت خطے میں اسلامی مزاحمت کی تحریکوں کے سامنے چند گھنٹوں سے بھی زیادہ مقابلہ کی سکت نہیں رکھتا ہے ۔ افغانستان میں امریکہ کی بد ترین شکست کا منظر نامہ یہ ہے کہ امریکہ آج دہشت گردوں کے رحم وکرم پر ہے ۔ وہی دہشت گرد جن کو ماضی میں امریکہ نے مالی ومسلح مدد کی تھی آج ان سے بھیک مانگ رہاہے ۔
اب آئیے جنوری کے بعد کے حالات کا جائزہ لیتے ہیں پھر اپنے موضوع کی طرف آئیں گے کہ آخر پاکستان میں اشرف جلالی نے کس کے ایجنڈہ کو تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کی ہے ۔جنوری کے آغاز میں القدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کہ جو شام ولبنان اور عراق سمیت خطے میں امریکی منصوبوں کی ناکامی کی بنیادی اور اصل وجہ تھے کہ جن کی قیادت میں خطے کے شیعہ سنی مسلمانوں سمیت مسیحی اور دروز اقوام نے داعش کے خاتمہ کے خلاف مسلح جد وجہد کی اور کامیاب ہوئے، اس عظیم ترین کمانڈر کو امریکہ نے بغداد میں ایک دہشت گردانہ میزائل حملہ میں شہید کیا ۔ اس کے بعد امریکہ کے عرا ق میں موجود عین الاسد فوجی اڈہ کو ایرانی میزائلوں نے نشانہ بنایا اور مکمل طور پر تباہ وبرباد کردیا ۔ امریکہ یہاں بھی ذلت و رسوائی کے ساتھ شکست سے دوچار ہوا کہ خود کو سپر پاور کہلوانے والی امریکی حکومت اپنی ایک فوجی بیس کو بچانے میں ناکام رہی ۔ امریکہ کی ایک اور ناکامی اور شکست اس وقت سامنے آئی جب ایران نے امریکہ کے سمندری برتری کے دعوے کو چیلنج کرتے ہوئے وینزویلا کے لئے آئل ٹینکروں سے بھرے پانچ بحری جہاز پہنچا کر ثابت کر دیا کہ امریکہ سپر پاور نہیں ۔
پے در پے شکست اور ذلت نے امریکی حکام کو مسلم دنیا میں ایک پرانے ایجنڈا کو نئے انداز سے شروع کرنے پر مجبور کیا ۔ امریکہ اور اس کے عربی اور غربی حواریوں نے سالہال کی مسلسل شکست اور ذلت کا انتقام لینے کے لئے جس پرانے ایجنڈا کا تعین کیا ہے وہ فرقہ وارانہ شدت پسندی کا فروغ ہے ۔ اس مقصد کے حصول کے لئے امریکی آلہ کاروں نے جون کے آٖغاز میں ہی لبنان میں ہونےو الے مظاہروں میں آگ لگانے کی کوشش کی اور مسلمانوں اور مسیحی عوام کے درمیان ، ایک دوسرے کے مذہبی مقدسات کی توہین کے واقعات ترتیب دئیے گئے جس کے بعد امریکہ کو سو فیصد یقین تھا کہ لبنان میں شیعہ وسنی مسلمان اور اسی طرح عیسائی مذہب کے ماننے والے سب جنگ و جدل میں کود پڑیں گے لیکن حزب اللہ اور امل کی قیادت سمیت لبنان کے اہلسنت علماء اور مسیح رہنماؤں نے امریکہ کی اس سازش کو بھی ناکام بنا کر رکھ دیا اور عوام کو آگہی فراہم کی کہ ملک وقوم کا دشمن امریکہ اور اس کے حواری فرقہ واریت کی آگ کو بھڑکانا چاہتے ہیں تاکہ اپنی گذشتہ تمام شکست اور ذلت و رسوائی کا انتقام لے سکیں۔

تحریک لبیک کے سربراہ گستاخ اشرف جلالی کیخلاف توہین رسالت کی ایف آئی آر درج ہوگئی

اشرف جلالی کا ایجنڈہ

پاکستان میں بھی جون کے آغاز میں ہی مولوی اشرف جلالی کہ جو خود کو اہلسنت عقائد کا فرد بتاتا ہے لیکن حقیقت میں ناصبی او ر تکفیری سوچ کا حامل ہے ۔ اشرف جلالی نے لبنان کے اندر رونما ہونے والے اسی طرح کے واقعات کے بعد پاکستان میں عین وہی کام انجام دیا ہے جس کی امریکہ اور اسرائیل سمیت عربی اور غربی حواریوں کو ضرورت تھی ۔ اشرف جلالی نے دختر نبی کریم (ص) جناب سیدہ فاطمہ زہرا (س) کی شان میں گستاخی کی اور کوشش کی کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ تصادم پیدا کیا جائے ۔ اشرف جلالی کا مقصد تھا کہ وہ پاکستان میں امریکی وا سرائیلی عزائم کی تکمیل کرے اور اس مقصد کے لئے شان رسالت میں بھی گستاخی کی اور جناب سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شان میں بھی گستاخی کی ۔یہ بات تاریخی حقیقت ہے کہ باغ فدک جو کہ رسول اللہ (ص) نے اپنی زندگی میں ہی اپنی سب سے پیاری بیٹی جناب سیدہ فاطمہ زہرا (س) کو دیا تھا لیکن آپ (ص) کی رحلت کے بعد خلیفہ اول نے اس پر قبضہ جما لیا اور جب سیدہ (س) اپنے حق کے بارے میں حقائق بیان کرنے کے لئے خلیفہ کے دربار میں پہنچی تو ان کوتب بھی ان کا حق واپس نہ کیا گیا ۔ تاریخ اسلام میں ملتا ہے کہ خلافت کے سلسلہ میں جب امام علی (ع) خلیفۃ المسلمین بنے تو آپ نے بھی اس باغ فدک کے متعلق یہی فرمایا کہ یہ جناب سیدہ فاطمہ (س) کا ہے ۔ اسی طرح بعد میں آنے والے خلفاء میں واحد خلیفہ عمر بن عبد العزیز تھے کہ جنہوں نے اس باغ فدک کو حکومت کی تحویل سے خارج کیا اور اہلبیت کو واپس کر دیا ۔
ناصبی سوچ کے پروردہ تکفیری اشرف جلالی نے سیدہ فاطمہ زہرا(س) کے خلیفہ اول کے دربار میں جانے اور اپنے حق سے متعلق بات کرنے کو خطا وار قرار دیا اور نہ صرف بی بی سیدہ (س) کی شان میں گستاخی کی بلکہ شان رسالت میں بھی گستاخی کی تا کہ پاکستان میں انارکی پھیلے اور شیعہ و سنی تصادم کی فضا ء قائم ہو ۔اس موقع پر پاکستان کے ان تمام با شعور سنی علماء کو سلام پیش کرنا چاہئیے کہ جنہوں نے معاملہ کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اور یہ سمجھ لینے کے بعد کہ یہ یقینا اشرف جلالی کا ایجنڈا نہیں بلکہ عالمی سامراجی شیطانی طاقتوں امریکہ اسرائیل اور ہندوستان سمیت پاکستان دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے اس کے خلاف سینہ سپر ہوئے اور اشرف جلالی کے اس اقدام کو نہ صرف نا پسند قرار دیا بلکہ اس کی شدید مذمت کرتے ہوئے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کے سنی مسلمان اور شیعہ مسلمان آپس میں متحد ہیں اور دشمن کے ناپاک عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close