ایران

ہمیں اسلحے خریدنے کی کوئی ضرورت نہیں: ایران

ایران کی وزارت خارجہ نے تہران کے ساتھ اسلحے کی تجارت کرنے والے ملکوں کے خلاف پابندیوں پر مبنی امریکی وزیر خارجہ کے حالیہ دعوے کے بارے میں کہا ہے کہ مائیک پومپیو خود بھی اس بات کو جانتے ہیں کہ امریکہ کی خودسرانہ پابندیاں کامیاب نہیں رہی ہیں۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے پریس کانفرنس میں ہتھیاروں کی منڈی میں ایران کی موجودگی کے طریقہ کار کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ بندشیں ختم ہونے سے ایران کو اسلحہ خریدنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ اسے ایرانی عوام کی طاقت پر زیادہ بھروسہ ہے اور اس سلسلے میں ایران کی پالیسی بہت ذمہ دارانہ ہے۔

انہوں نے اسی طرح ایران کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ کے دعوے کے بارے میں بھی کہا کہ جب تک امریکا کو اس بات کا ادراک نہیں ہوجاتا کہ ایران کے خلاف اس کی پالیسیاں ناکام رہی ہیں، اس وقت تک صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، البتہ اس قسم کے بہت سے دعوے صرف انتخابات میں فائدہ اٹھانے کے لئے کئے جا رہے ہیں۔

ترجمان وزارت خارجہ نے افغانستان کی اعلی مصالحتی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ کے دورہ تہران کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایک آزاد و خوشحال افغانستان کو پورے علاقے کے مفاد میں سمجھتا ہے اور اس سلسلے میں تہران افغان حکومت اور طالبان سمیت مختلف گروہوں میں مذاکرات سے متعلق مؤثر مدد و تعاون بھی کر سکتا ہے۔

خطیب زادہ نے چین میں ایران کے سرمایے کو منجمد کئے جانے کی خبر کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ چین میں ایران کی رقم کو ایران کے مفادات کے لئے استعمال کیا گیا اور یہ مسئلہ جنوبی کوریا یا جاپان میں منجمد کئے جانے والے ایران کے سرمایے سے بالکل مختلف ہے۔

دوسری جانب ایران کی بحریہ کے کمانڈر ریئر اڈمیرل حسین خانزادی نے کہا ہے کہ ایران میں مقامی سطح پر تیار کئے جانے والے بحری ہتھیار بیرونی ملکوں کے ہتھیاروں کے ہم پلّہ ہیں، اور ایران ہتھیار تیار کرنے میں اتنا باصلاحیت ہو چکا ہے کہ اسے بیرونی ملکوں سے اسلحہ خریدنے کی کوئی ضرورت نہیں رہی ہے۔

انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ اٹھارہ اکتوبر کو ایران کے خلاف ہتھیاروں کی پابندیاں ختم ہونے کے بعد ایران کس قسم کے بحری اسلحے خریدنے کی ضرورت محسوس کرتا ہے، کہا کہ وہ بحریہ کے خلاف پابندیوں کو صرف ایک مذاق سمجھتے ہیں۔

ایران کی بحریہ کے کمانڈر اڈمیرل حسین خانزادی نے کہا کہ کسی زمانے میں ہتھیار تیار کرنے کے سلسلے میں ایران کو فوجی وسائل کی ضرورت محسوس ہوتی تھی مگر آج پابندیوں کے ہونے یا نہ ہونے کا ایران کی بحریہ پر کوئی اثر نہیں ہے چونکہ اس نے اپنی ضرورت کے تمام ہتھیار بنالئے ہیں جن میں مختلف قسم کی توپ بردار کشتیاں اور بحری جنگی جہاز وغیرہ شامل ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close