اہم ترین خبریںلبنان

ایران اپنے اوپر ہوئے ہر حملے کا منہ توڑ جواب دے گا اور خاموش نہیں بیٹھے گا،حسن نصراللہ

لبنان کے اندر ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے امریکی بہت تیزی کیساتھ فائدہ اٹھا رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان احتجاجات کو اپنے مفادات کے حصول کیلئے استعمال کریں۔

شیعت نیوز: لبنانی مقاومتی جماعت حزب اللہ کے سربراہ حجت الاسلام سید حسن نصراللہ نے اپنے خطاب کے دوران لبنان کے اندرونی حالات کیطرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان کے اندر ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے امریکی بہت تیزی کیساتھ فائدہ اٹھا رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان احتجاجات کو اپنے مفادات کے حصول کیلئے استعمال کریں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی انتہائی بےشرمی کیساتھ اور سرعام لبنانی احتجاجی مظاہروں میں مداخلت کر رہے ہیں اور اسی طرح سلامتی کونسل میں بھی امریکی نمائندے نے کھل کر یہ کہا ہے کہ لبنان، یمن اور عراق سمیت جہاں بھی ایران ہو گا احتجاجات جاری رہیں گے اور سیاسی مقاصد کے حصول تک دباؤ جاری رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں: زائرین کی مشکلات میں اضافے والی کسی پالیسی کی حمایت نہیں کریں گے، علامہ باقر عباس زیدی

سید مقاومت سید حسن نصراللہ نے کہا کہ سلامتی کونسل میں امریکی نمائندے کے بیان کا مطلب یہ ہے کہ ان ممالک میں ہونے والے یہ احتجاجی مظاہرے ایران پر دباؤ ڈالنے کا امریکی ہتھیار ہے۔ امریکیوں نے پہلے دن ہی ان احتجاجی مظاہروں کو حزب اللہ کیخلاف لبنانی عوام کا انقلاب قرار دیا تھا اور عرب و خیلجی ممالک یہ جاننے کے باوجود انکی مدد میں مصروف ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی حزب اللہ کیخلاف احتجاج نہیں کر رہا، لہذا امریکی یا تو خود کو دھوکہ دے رہے ہیں اور یا دنیا کو۔

انہوں نے کہا کہ حزب اللہ کیخلاف پمپیو کے بیان سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ لبنان پر ڈالے جانیوالے دباؤ کا مقصد لبنانی حکومت سے حزب اللہ کو نکال باہر کرنا ہے جو ایک ناممکن امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاجی مظاہروں سے امریکیوں کا ناجائز فائدہ اٹھانا آشکار ہے جبکہ اسرائیلی لبنان میں وقوع پذید ہونے والے ایسے کسی بھی وقوعے کو اہنے لئے غنیمت سمجھتے ہیں۔

حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کہا کہ بیشک حزب اللہ اسرائیل اور اسکی حریصانہ پالیسی کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے اور اسی طرح لبنان اور پورے خطے کیلئے امریکہ کے مذموم منصوبوں کیلئے بھی ایک بڑا خطرہ ہے جبکہ لبنان کیلئے حزب اللہ نہ صرف کوئی خطرہ نہیں بلکہ حزب اللہ لبنان کی ایک دفاعی قوت بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: محمد علی الحوثی کا یمن میں جنگ متوقف ہونے کے بارے میں ریاض کے دعوے پر رد عمل

انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت اور غاصب اسرائیلی رژیم بلیک میلنگ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لبنانی قوم کیلئے امریکہ کی تیار کردہ پالیسی جس کو وہ لبنانی عوام پر مسلط بھی کرنا چاہتا ہے یہ ہے کہ لبنانی عوام اپنے مسائل کے حل کیلئے اپنی حکومت تشکیل دینے کا خیال ذہن سے نکال دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہر ایک لبنانی سے یہ چاہتے ہیں کہ وہ ہوشیار رہے، فریب اور اشتعال انگیزی پر مبنی ان امریکی اقدامات کا اثر قبول نہ کرے اور لبنان کو فتنہ و فساد اور ہرج و مرج کیطرف نہ دھکیلے۔

سید مقاومت سید حسن نصراللہ نے لبنان اور ایران کے باہمی تعلق کے حوالے سے امریکہ کیطرف سے پھیلائی جانے والی بدگمانیوں کیطرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر لبنانی ایکدوسرے کیساتھ تعاون کریں تو اس بحران سے خیریت کیساتھ گزر سکتے ہیں لیکن وہ چیز جو امریکیوں کیلئے مطلوب ہے یہ ہے کہ ہم اپنی قوت اور حاکمیت کو اپنے ہاتھوں برباد کر دیں اور غیروں کی سرپرستی کو قبول کر لیں، لہذا بعض لبنانی حکام لبنانی عوام کو مشتعل کرنیکے لئے ایرانی حکام کی بات توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں ۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے اوپر ہوئے ہر حملے کا منہ توڑ جواب دے گا اور خاموش نہیں بیٹھے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل یا امریکہ ایران پر حملہ کرے گا تو ایران انکا بھرپور جواب ضرور دے گا۔ انہوں نے لبنانی احتجاجی مظاہرین سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ امریکہ کو اپنے احتجاجات سے ناجائز فائدہ اٹھانے نہ دیں۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close