ایران

حسن روحانی کا جزوی طور پر معاشی سرگرمیاں بحال کرنے کا اعلان

شیعت نیوز : اسلامی جمہوریہ ایران کے صدرحسن روحانی نے جزوی طور پر معاشی سرگرمیاں 11 اپریل سے بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایران کے صدر نے کہا ہے کہ سماجی فاصلے کی رعایت کے دستور العمل پر قائم اور طبی اصولوں پر عمل پیرا رہتے ہوئے متوسط سطح کے اور ایسے کاروبار گیارہ اپریل سے شروع کئے جا سکتے ہیں جن کو نقصان پہنچنے کا خطرہ کم ہو ۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے صدر حسن روحانی نے جزوی طور پر معاشی سرگرمیاں 11 اپریل سے بحال کرنے کا اعلان کردیا۔

یہ بھی پڑھیں : امریکی ناجائز پابندیوں نے کورونا پر قابو پانے کے لئے ایران کی کوششوں کو روک دیا

قومی مرکز برائے انسداد کورونا وائرس میں خطاب کرتے ہوئے صدر حسن روحانی نے کہا کہ وبا کے پیش نظر بند کی گئی ان معاشی سرگرمیوں کو دوبارہ کھول رہے ہیں جو کم خطرات والے ہیں۔

صدر حسن روحانی نے ایران کے مقدس مقامات اور زیارت گاہوں کو کھولے جانے کے بارے میں کہا کہ یہ مقدس مقامات اٹھارہ اپریل تک بند رہیں گے اور آئندہ اجلاس میں اس سلسلے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

اینٹی کورونا نیشنل ہیڈکواٹر کے اجلاس میں موجود ایران کی عدلیہ کے سربراہ آیت اللہ ابراہیم رئیسی نے موجودہ دور میں پورے اسلامی جمہوریہ کے نظام کو متحد بتاتے ہوئے کہا کہ ایران کے دشمن اسی اتحاد و یکجہتی کے سبب سخت مشتعل اور سیخ پا ہیں۔

صدر نے کہا کہ کورونا وائرس کے کم خطرات والے کاروبار اور معاشی سرگرمیاں 11 اپریل سے ملک بھر میں بحال کر دی جائیں گی تاہم تہران میں فی الحال تمام معاشی سرگرمیوں پر پابندی برقرار رہے گی۔

صدر حسن روحانی نے اعلان کیا کہ تہران میں معاشی و اقتصادی سرگرمیاں 18 اپریل سےشروع ہوں گی، تعلیمی اداروں، کھیلوں کی سرگرمیوں اور ہر قسم کی تقریبات پر پابندی میں 18 اپریل تک کی توسیع کی گئی ہے۔

صدر نے کہا کہ دوتہائی سرکاری ملازم 11 اپریل سے دفاتر میں کام شروع کریں گے تاہم ان سب افراد کو وزارت صحت کی جانب سے دی گئی ہدایات اور احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونا پڑے گا۔

خیال رہے کہ ایرانی حکومت مسلح افواج کی مدد سے انسداد کورونا مہم میں سلسلہ جنگی پیمانے پر مصروف ہے جس میں کورونا کی فوری تشخیص کا عمل، اس میں مبتلا مریضوں کے رابطے میں رہ چکے افراد کا پتہ لگا کر ان کو اپنی نگرانی میں لینا، مریضوں کا قرنطینہ و علاج اور ساتھ ہی شہروں اور بستیوں کے گلی کوچوں، شاہراہوں اور عمومی مقامات کو ڈِس انفیکٹ کرنے کا عمل وغیرہ بھی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ایران میں کورونا وائرس نے بڑی تباہی مچائی ہے، مہلک وبا سے 3 ہزار 6 سو سے زائد اموات ہوئیں جب کہ 60 ہزار کے قریب افراد متاثر ہوئے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close