کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
اہم ترین خبریںپاکستان

خدا کے لئے مریم نواز کے ابا کو چھوڑ دو، علامہ حسن ظفر نقوی کی طنزیہ اپیل

آج ایک بیٹی کالا لباس پہن کراور اپنے لباس پر اپنے باپ کی شبیہ بنا کر عدالتوں کے چکر لگا رہی ہے ۔ کتنی مظلوم ہے یہ بیٹی جس کا باپ فائیواسٹار جیل میں بند ہے

شیعت نیوز: معروف عالم دین اور خطیب علامہ سید حسن ظفرنقوی نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی بیٹی مریم نواز کے کرپشن کے کیس میں قید اپنے والد کی گرفتاری پر واویلا کرتی بیٹی کے کردار اور میڈیا کی بھرپور سپورٹ اور سالوں سے لاپتہ شیعہ عزاداروں کی در بدرکی ٹھوکریں کھاتی ماؤں ، بہنوں اور بیٹوں کے احساسات کا بہترین اندازمیں تقابل کرتے ہوئے کہاہے کہ آج ایک بیٹی کالا لباس پہن کراور اپنے لباس پر اپنے باپ کی شبیہ بنا کر عدالتوں کے چکر لگا رہی ہے ۔ کتنی مظلوم ہے یہ بیٹی جس کا باپ فائیواسٹار جیل میں بند ہے ۔ کتنی مظلوم ہے یہ بیٹی جو اپنے باپ سے ہفتے میں صرف ایک بار ملنے جاسکتی ہے ۔ کتنی مظلوم ہے یہ بیٹی جس کی فائیواسٹار مظلومیت پر پورے ملک کا میڈیا صبح سے شام تک لائیو مرثیہ پڑھتا ہے۔ کتنی مظلوم ہے یہ بیٹی جس کےبھائی لندن میں فاقوں کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ اللہ کے واسطے اس کے ابا کو چھوڑ دوچاہے اس نے کچھ بھی کیا ہو۔

اے پاکستان کے ’’باضمیر صحافیوں ــ‘‘ !اے پاکستان کے سچے ، بہادر اور غیرت مند میڈیا ہاؤسز کے مالکوں۔ اے آمریت اور جبر واستبدادکے خلاف سینہ سپر اینکر پرسن بچوں اور بچیوں ایک صرف ایک دن میرے لاپتہ ابواور میری طرح سینکڑوں قوم کی بیٹیوں کے لاپتہ باپ ،بھائی اور بیٹے کیلئے بھی آواز اٹھا دو۔۔ ایک دن صرف ایک دن سب مل کر آواز اٹھا دوللہ ۔۔۔۔

یہ خبر بھی لازمی پڑھیں: حکومت مکتب تشیع کے میڈیا ٹرائل پر معافی مانگے اور سندھ پولیس میں موجود کالی بھیڑوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائے ، علامہ حسن ظفرنقوی

لیکن ایسا نہیں ہوسکتا کیوں میں ہم میں کوئی مریم نواز ہے نا بلاول اور پھر ناہی ہمارے پاس اتنا لوٹا ہوامال ہے کہ ہم چینلز کا وقت اورزبان خرید سکیں اور پھر ہماری تو کوئی ریٹنگ بھی نہیں ہے ۔ اللہ آپ کو خوش رکھے اور آپ اسی طرح مظلوم مریم اور مظلوم بلاول کے بے گناہ خاندانوں کیلئے 24گھنٹے آواز اٹھاتے رہیں ۔

یہ تھی ایک حقیقی مظلوم بیٹی کی فریاد جو کہیں اپنے باپ کیلئے ،کہیں بیٹےکیلئے اور کہیں بھائی کا پتہ معلوم کرنے کے لئے ذرداری اور نواز شریف کے زمانے سے در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہےاور آج بھی درندے ان لاوارث بیٹیوں کے گھروں میں کود پھاند کر آتے ہیں اور کسی بیٹی کےباپ کو اٹھا کرلے جاتے ہیں ۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close