کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
مقالہ جات

مقام و منزلت حضرت فاطمہ معصومہ قم سلام اللہ علیہا

امام رضا (ع) نے ایک دوسری حدیث میں فرمایا کہ وہ شخص جومیری زیارت پر نہیں آسکتا وہ میرے بھائی کی زیارت شہر ری میں اور میری بہن کی زیارت قم میں کرے تووہ میری زیارت کا ثواب حاصل کرلے گا

شیعت نیوز: روی عن القاضی نور اللہ عن الصادق علیہ السلام :ان للہ حرما و ھو مکہ الا ان رسول اللہ حرما و ھو المدینۃ اٴلا و ان لامیر الموٴمنین علیہ السلام حرما و ھو الکوفہ الا و ان قم الکوفۃ الصغیرۃ اٴلا ان للجنۃ ثمانیہ ابواب ثلاثہ منها الی قم تقبض فیها امراٴۃ من ولدی اسمها فاطمۃ بنت موسی علیها السلام و تدخل بشفاعتها شیعتی الجنۃ باجمعهم ۔

امام صادق (ع) سے نقل ہے کہ آپ نے فرمایا:خداوند عالم حرم رکھتاہے اور اس کا حرم مکہ ہے پیغمبر (ص) حرم رکھتے ہیں اور ان کا حرم مدینہ ہے ، امیر المومنین (ع) حرم رکھتے ہیں اور ان کا حرم کوفہ ہے،قم ایک کوفہ صغیر ہےجنت کے آٹھ دروازوں میں سے تین قم کی جانب کھلتے ہیں ، پھر امام (ع) نے فرمایا :میری اولاد میں سے ایک خاتون جس کی شہادت قم میں ہوگی اور اس کا نام فاطمہ بنت موسيٰ ہوگا اور اس کی شفاعت سے ہمارے تمام شیعہ جنت میں داخل ہوجائیں گے ۔۔ (بحار ج/۶۰، ص/۲۸۸ )

عن سعد عن الرضا علیہ السلام قال : یا سعد من زارھا فلہ الجنۃ ۔
ثواب الاٴعمال و عیون اخبار الرضا علیہ السلام : عن سعد بن سعد قال : ساٴلت ابا الحسن الرضا علیہ السلام عن فاطمۃ بنت موسی بن جعفر علیہ السلام فقال : من زارھا فلہ الجنۃ
سعد امام رضا (ع) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اے سعد جس نے حضرت معصومہ (س) کی زیارت کی اس پر جنت واجب ہے ۔

” ثواب الاعمال ‌‌‘‘ اور ‘‘ عیون الرضا ’’ میں سعد بن سعد سے نقل ہے کہ میں نے امام رضا (ع) سے معصومہ (س) کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا حضرت معصومہ (س) کی زیارت کا صلہ بہشت ہے ۔ (کامل الزیارات،ص/۳۲۴)

کامل الزیارۃ : عن ابن الرضا علیهما السلام قال: من زار قبر عمتی بقم فلہ الجنۃ

امام جواد (ع) فرماتے ہیں کہ جس نے میری پھوپھی کی زیارت قم میں کی اس کے لئے جنت ہے ۔ (کامل الزیارات،ص/۳۲۴)
قال الصادق علیہ السلام من زارها عارفا بحقها فلہ الجنۃ
امام صادق (ع) فر ماتے ہیں کہ جس نے معصومہ (س) کی زیارت اس کی شان ومنزلت سے آگاہی رکھنے کے بعد کی وہ جنت میں جا ئے گا ۔(بحار ج/۴۸،ص/۳۰۷)
اٴلا ان حرمی و حرم ولدی بعدی قم
امام صادق (ع) فر ماتے ہیں آگاہ ہوجاوٴ میرا اور میرے بیٹوں کا حرم میرے بعد قم ہے ۔ ( بحار الانوار ج/۶۰، ص/۲۱۶ )

حضرت معصومہ (س)کا مقام و منزلت
اب یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ معصومہ (س) کو معصومہ کا لقب کس نے دیا؟

معصومہ کا لقب حضرت امام رضا (ع) نے اپنی بہن کو عطا کیا آپ اس طرح فرماتے ہیں:
” من زار المعصومۃ بقم کمن زارنی ’’

جس نے معصومہ (س) کی زیارت قم میں کی وہ اس طرح ہے کہ اس نے میری زیارت کی ۔ (ناسخ التواریخ ، ج/۳ ، ص/۶۸ )

اب جب کہ یہ لقب امام معصوم (ع) نے آپ کو عطا فرمایا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ ان کی ہم رتبہ ہیں ۔
امام رضا (ع) نے ایک دوسری حدیث میں فرمایا کہ وہ شخص جومیری زیارت پر نہیں آسکتا وہ میرے بھائی کی زیارت شہر ری میں اور میری بہن کی زیارت قم میں کرے تووہ میری زیارت کا ثواب حاصل کرلے گا ۔ ( زیدۃ التصانیف ، ج/۶، ص/۱۵۹ )

دوسرا لقب جو حضرت معصومہ (س) کا ہے وہ ہے کریمہ اہل بیت ،یہ لقب بھی ایک عظیم المرتبت عالم دین کے خواب کے ذریعے امام معصوم (ع) کی زبان اقدس سے معلوم ہوا۔

خواب کی تفصیل اس طرح ہے کہ مرحوم آیۃ اللہ سید محمود مرعشی نجفی جو کہ آیۃ اللہ سید شالب الدین مرعشی کے والد بزرگوار تھے ، اس عظیم ہستی کی دلی خواہش تھی کہ حضرت صدیقہ طاہرہ (س) کی قبر اطہر کاصحیح پتہ مل جائے آپ اس عظیم امر کی خاطر بہت پریشان رہاکرتے تھے ۔

لہٰذا آپ نے ایک عمل شروع کردیا اور چالیس روز تک ختم قرآن کاعمل کرتے رہے،یہاں تک کہ وہ دن بھی آگیا کہ مرحوم نے اپنے اس چالیس روزہ عمل کا اختتام کیا،آپ کافی تھک چکے تھے لہٰذا آپ نیند کی آغوش میں چلے گئے اور کافی دیر تک آپ آرام فرماتے رہے دوران استراحت آپ کی زندگی کی وہ مبارک گھڑی بھی آپہنچی جس کا انتظار تمام شیعیان علی (ع) کو رہتاہے یعنی خواب کے عالم میں امام باقر (ع) یا امام صادق (ع) تشریف لے آئے اور آپ ان کی زیارت سے مشرف ہوئے اس وقت امام (ع) نے فرمایا:

” علیک بکریمۃ اہل البیت “کریمہٴ اہل بیت (ع) کے دامن سے متمسک ہوجاوٴ۔

مرحوم آیۃ اللہ سید محمود مرعشی نجفی (رح) نے سمجھا کہ منظور امام (ع) حضرت زہرا (س) ہیں مرحوم نے عرض کیا میں آپ پر فدا ہوجاوٴں اے میرے آقا میں نے یہ ختم قرآن کا عمل اسی وجہ سے کیا ہے کہ حضرت زہرا (س) کی قبر کا دقیق پتہ معلوم ہوجائے تا کہ بہتر طریقے سے ان کی قبر اطہرکی زیارت کرسکوں ۔اس وقت امام (ع) نے فر مایامیری مراد حضرت معصومہ (س) کی قبر شریف ہے جو کہ قم میں ہے ۔ پھر امام (ع) نے فرمایا:خدانے کسی مصلحت کی بنیاد پر جناب زہرا (س) کی قبرشریف کو مخفی رکھا ہے اور اسی وجہ سے حضرت معصومہ (س)کی قبر اطہر کو تجلی گاہ قبر حضرت زہرا (س) قرار دیاہے۔

اگرحضرت زہرا (س) کی قبر مبارک ظاہر ہوتی تو اس پر جس قدر نورانیت وجلالت دیکھنے کو ملتی اتنی ہی نورانیت وجلالت خداوند کریم نے حضرت معصومہ (س) کی قبر شریف کو عطا کی ہے۔

مرحوم مرعشی نجفی جیسے ہی خواب سے بیدار ہوئے آپ نے مصمم ارادہ کرلیا کہ جلد از جلد بارگاہ معصومہ (س) میں حاضری دیں گے اپنے اس ارادہ کی تکمیل کی خاطر آپ نے سامان سفر باندھا اور زیارت حضرت معصومہ (س) کی خاطر نجف اشرف کو ترک کردیا ۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close